پاک ۔ افغان سرحد فلیگ میٹنگ کے بعد کھول دی گئی

پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ کے بعد چمن بارڈر دوبارہ کھول دیا گیا۔
افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد کے قریب گاؤں میں باڑ لگانے پر اعتراض کے بعد بارڈر بند کردیا گیا تھا۔ پاکستان، دو سال سے زائد عرصے سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگا رہا اور اس پر تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جب کہ باقی کام آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان، ایران کے ساتھ ملنے والی سرحد پر بھی باڑ لگا رہا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ افغان بارڈر انتظامیہ نے ایک بار پاکستان کے قلی لقمال کے علاقے میں باڑ لگانے پر اعتراض کیا تھا اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد دونوں اطراف سے سرحد بند کردی گئی تھی۔ سرحد بند ہونے کے بعد افغان ٹرانزٹ تجارت اور نیٹو سپلائی سمیت ہر طرح کی ٹریفک معطل ہوگئی تھی۔ سرحد کی بندش سے معمول کے مطابق سرحد عبور کرنے والے دونوں ممالک کے لوگ بھی متاثر ہوئے تھے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ سرحد دوسرے روز بھی دو گھنٹے بند رہی تھی تاہم فلیگ میٹنگ میں مذاکرات کے بعد بارڈر دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ ذرائع نے کہا کہ پاکستان نے افغان انتظامیہ کو پہلے ہی باڑ لگانے سے آگاہ کردیا تھا کیوں کہ وہ دونوں اطراف سے ہر قسم کی غیر قانونی بارڈر کراسنگ روکنا چاہتا ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیاللہ لانگو کے مطابق سرحد پر باڑ لگانے کے بعد تخریبی کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button