پرویز خٹک کی ناراضی سینیٹ میں PTI کا کتنا نقصان کروائے گی؟


خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت ہونے کا باوجود سینیٹ الیکشن قریب آتے ہی پچھلے برس کپتان کے ہاتھوں وزارت سے فارغ ہونے والے عاطف خان کو اب عمران خان نے منا لیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کو جلد ہی کابینہ میں واپس لے لیا جائے گا۔ اسکا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایوان بالا کے انتخابات میں ردعمل کے طور پر کوئی بڑا اپ سیٹ نہ ہو جائے۔ تاہم دوسری طرف عاطف خان کے مخالف پرویز خٹک کی کپتان سے شدید ناراضی کی اطلاع ہے جو کہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی کا بڑا نقصان کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ قریباً ایک سال قبل خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر عاطف خان کو دو دیگر وزرا شہرام خان اور شکیل خان کے ہمراہ ’پارٹی کے خلاف سرگرمیوں‘ کے الزام میں صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ ان تینوں کی صوبائی کابینہ سے فراغت کے بعد تحریک انصاف کے ہر رہنما کی زبان پر ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ ’دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ہوتے ہوئے تین لوگوں کے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘ لیکن واقفان حال کہتے ہیں کہ کوئی تو وجہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات قریب آتے ہی فارغ کیے گئے عاطف خان کو رام کرنے کے لیے اب ان سے دوبارہ وزارت کا وعدہ کر لیا گیا ہے اور سینٹ کی ٹکٹیں بانٹنے کے معاملے پر بھی ان کی رائے لی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ یے کہ ایسی کیا مجبوری آن پڑی کہ برسراقتدار تحریک انصاف کو ’دو تہائی سے زیادہ اکثریت‘ بھی اب ناکافی لگنے لگی ہے اور ناراض ایم پی ایز کو منانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ واقفان حال کا کہنا کہ اسکی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ سابق وزیر اعلی پرویز خٹک وزیر دفاع بنائے جانے کے بعد خیبر پختونخواہ اسمبلی کے معاملات سے باہر کر دیے جانے پر ناراض ہیں۔ اپنی اس ناراضی کا اظہار وہ ایک حالیہ انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بھائی بھی ضمنی الیکشن میں ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہیں اور اب جب کہ عمران خان نے خٹک کے مخالف عاطف خان کو دوبارہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے معاملات میں اہمیت دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اسکا اثر سینٹ کے الیکشن پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ صوبائی ایوان میں سو سے زائد نشستیں رکھنے والی پی ٹی آئی کی پوزیشن بظاہر خیبر پختونخوا میں ہر لحاظ سے مضبوط دکھائی دے رہی ہے لیکن اگر الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوا تو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو بڑا اپ سیٹ مل سکتا ہے. وجہ یہ کہ ایک اکیلے ایم پی اے عاطف خان کو منانے کے باوجود حکومتی پارٹی میں معاملات اتنے بھی قابو میں نہیں جتنے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ بھی یے کہ راضی نامے اور جرگے صرف ووٹ کے حامل ایم پی ایز کے ساتھ کیوں ہو رہے ہیں، انہی بنیادوں پر تو صوبے میں حکومت کے ترجمان اجمل وزیر بھی ہٹائے گئے تھے؟ ان سے بات کیوں نہیں کی جا رہی؟ اس کا ایک تو سیدھا سا مطلب ہے کہ ووٹ اہم ہے نا کہ پارٹی کے اندر اتفاق کی فضا پیدا کرنا۔ لیکن سوال ہیں کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہے۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ اب عاطف خان کپتان کے لیے اتنے اہم کیوں ہو گے ہیں؟ ایک سال قبل صوبائی کابینہ سے بیدخل کیے جانے والے سینیئر صوبائی وزیر عاطف خان کا اب تک جو سب سے بڑا قصور سامنے آیا وہ یہی ہے کہ وہ خود عمران خان اور پارٹی قیادت کی نظر میں کسی بھی موقع پر خیبر پختونخواہ کی وزارت اعلی کے لیے موزوں ترین امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اس کا ثبوت سنہ 2018 کے انتخابات کے دوران ملا بھی۔ جب عاطف خان کو وزیر اعلیٰ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر اس کے ردعمل میں پارٹی کے اندر سے ہی سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے گروپ کی جانب سے سخت ردعمل آیا۔ اس اندرونی چپقلش کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان نے فریقین کو مطمئن کرنے کے لیے تیسرے امیدوار، محمود خان، کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔ وزارت اعلیٰ کے متوقع منصب سے محروم ہو کر صوبے میں سینیئر وزیر بننے کے باوجود بھی عاطف خان کے بہی خواہوں کے دل سے یہ داغ نہ دھل سکا۔ اسی دوران پارٹی کے اندر سینیئر قائدین کی جانب سے مستقبل میں عاطف خان کا راستہ روکنے کے لیے بعض بااثر پارٹی رہنماؤں کی مستقبل کے وزیر اعلیٰ کے طور پر تیاری شروع کر دی گئی جن میں سب سے مضبوط امیدوار صوبے کے موجودہ وزیر خزانہ اوروزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا ہیں۔
سینٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی کے اندرونی انتشار یا دباؤ سے پریشان پارٹی قیادت کو اس وقت ہر اس شخص کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے جو کسی بھی موقع پر ’کچھ بھی‘ کر کے پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ ایک سوال اب یہ بھی ہے کہ پرویزخٹک اس معاملے میں کہاں ہیں؟
ماضی میں سینیٹ کا الیکشن ’جیت کر دینے والے‘ اور 20 سے زائد اپنے ایم پی ایز کو ووٹ بیچنے کے الزام میں پارٹی سے نکالنے والے پرویز خٹک اس ساری منصوبہ بندی کے دوران اس وقت پس منظرمیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اپنی ماضی کی کارکردگی کو کیش کروا کے صوبے اور وفاق میں حکومت بنانے والے عمران خان کی سینیٹ الیکشن کی منصوبہ بندی کے سیشنز میں ختک کیوں نظر نہیں آ رہے ہیں؟ ان کا یہ بیان حال ہی میں میڈیا کی زینت بنا کہ اگر وہ چاہیں تو عمران خان کی حکومت ایک دن بھی نہیں چل پائے گی۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ پرویز خٹک کے سیاسی مخالف عاطف خان کو اب دوبارہ عمران خان کا قرب کیسے نصیب ہوا یے؟
یاد رہے کہ 31 اکتوبر 2011 میں لاہور کے جلسے کے بعد پارٹی میں جہاں دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کے رہنما جوق در جوق شامل ہوتے رہے وہیں خیبر پختونخوا میں گذشتہ کافی عرصے سے مختلف حکومتوں کا حصہ رہنے والے پرویز خٹک نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور عمران خان کا اعتماد حاصل کر کے پارٹی کے سیکریٹری جنرل بن گئے۔ اس کے بعد جب 2013 میں پارٹی کو خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع ملا تو وزارت اعلیٰ کا تاج بھی پرویز خٹک کے سر سج گیا، انھی کی کارکردگی کے حوالے دے دے کر عمران خان نے ملک بھر سے ووٹ حاصل کیے لیکن بہت کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ پرویز خٹک کی وزارت اعلیٰ کے دنوں میں عمران خان کو بھی بعض فیصلے منوانے میں مشکل پیش آئی۔ بعض واقفان حال یہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ’شریف‘ وزرائے اعلیٰ لگانے پڑے تاکہ مستقبل میں انھیں پارٹی ڈسپلن کو نافذ کرنے میں مشکل پیش نہ آئے؟ پارٹی میں پرویز خٹک کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ تجربہ کار سیاستدان ہیں جن کی وجہ سے جہاں ایک وقت میں پارٹی کے مخالفین کے منصوبے کامیاب نہیں ہوئے وہیں پر اب خود پارٹی کے اندر بھی کسی نہ کسی لیول پر بے چینی کے ڈیرے ہیں۔ جہانگیر ترین بھی آوٹ ہیں، ان کے بیٹے کو بھی ٹکٹ نہیں مل سکا۔ ایسے میں کون ہے جو وزیراعظم کے دائیں اور بائیں رہ ک انھیں احساس دلائے کہ پارٹی سینیٹ الیکشن سے سرخرو ہو کر ہی نکلے گی۔
شاید یہی وہ وجوہات ہیں کہ عمران خان کو لوگوں کو سمیٹنا پڑ رہا ہے اور وہ کسی بھی سیاسی چوکی کو خالی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ وزیرِ اعظم کی بعض پریشانیوں میں پیپلز پارٹی اور مریم نواز کی جانب سے عین سینیٹ انتخابات کے دوران عدم اعتماد کی تحریک لائے جانے کے بیانات نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ تحریک انصاف کی رہی سہی دانش اس چیلنج کو بھی حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کہ آخر وہ کون ہو سکتا ہے جن کے ساتھ رابطوں کی بدولت یہ اپوزیشن جماعتیں بظاہر اتنی پُراعتماد ہیں اور کہیں سینیٹ میں ٹکٹوں کے معاملے پر ناراض ہونے والے اور سائیڈ لائن کیے جانے والے اپنے لوگ اپوزیشن کے ان نعروں کو تقویت دینے کا باعث نہ بن جائیں۔ مسلم لیگ ن کے ایک رہنما کا یہ بیان بھی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس میں وہ کہہ چکے ہیں کہ نظرنہ آنے والی کچھ قوتیں عمران خان کی پشت پر تھیں تو وہ اب ان کا ساتھ بھی دے سکتی ہیں۔ ماضی کے انتخابات سے کئی گنا زیادہ اس بار سینٹ کے ٹکٹوں کے لیے دوڑ دھوپ اور لابنگ کا جو طوفان تحریک انصاف کے اندر سے اٹھا ہے اس نے کم از کم یہ بات تو ثابت کر دی ہے کہ اس جماعت پر ’ٹیپیکل پی ٹی آئی‘ کی جو مُہر لگی تھی وہ بالکل ٹھیک تھی۔
پارٹی کے اقتدار کا عرصہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہر انتخابات کے دوران ٹکٹوں کے حصول کا بُخار مسلسل بڑھ رہا ہے اور وہ جو کہتے تھے ہم صرف تبدیلی کے لیے پارٹی میں ہیں وہ بھی اب شرطوں پر اُتر آئے ہیں، حالت یہ ہے کہ ایک کو مناؤں تو دوجا روٹھ جاتا ہے۔ پارٹی قیادت کی حالت جاننی ہو تو یہ بات بالکل صادق آتی ہے کہ وہ اس وقت مینڈک تول رہے ہیں، دو کو پکڑ کر پلڑے میں ڈالتے ہیں تو تین کود کر بھاگ چکے ہوتے ہیں۔ ملک کا ریگولر میڈیا، ٹی وی سکرینز اور اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا پر ہر دوسری پوسٹ پارٹی کے مختلف گروپوں کی جانب سے ’اپنے بندے‘ کو سینیٹ کا ٹکٹ دلانے کے لیے ہے۔ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کے نرغے میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ بقول پارٹی کے ایک ہمدم دیرینہ ’میں خود ان سے ملا ہوں، وہ اتنے خوش اور پُرجوش نہیں جتنا حکومت میں آنے سے پہلے اپوزیشن کے دنوں میں تھے۔ ہم جان چکے ہیں کہ وہ اپنوں کی بلیک میلنگ اور پریشر گروپس کے دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سب ان کی بات مان لیں اورپارٹی بکھرے ناں۔‘ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خود وزیراعظم سینیٹ کے انتخابات میں بعض لوگوں کو کمزور معیار کی بنیاد پر پارٹی کا امیدوار بنائے جانے پر نالاں ہیں۔ عمران خان تو بلاشرکت غیرے پارٹی کے معاملات کو چلانے کے مختار ہیں؟ میرے سوال کے جواب میں وہ مسکرائے اورفوراً کہا ’اب ایسا نہیں ہے۔‘ ’بہت سے لوگ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ کئی محاذوں پر تقسیم ہیں۔ ان کے سامنے پارٹی ہے جو اس وقت کئی پریشرگروپس اور مخلص ورکرز کی توقعات کے بیچ میں پس رہی ہے۔ وہ گورننس کو بہتر کرنا چاہتے ہیں جو ہو نہیں پا رہی۔۔۔ اگر وہ صرف پارٹی ہی تک محدود رہتے اور پارٹی صرف خیبر پختونخوا کی حد تک ہی حکومت میں ہوتی تو عمران خان صوبے میں اپنی گذشتہ حکومت کے دوران حاصل ہونے والے تجربے کی وجہ سے اسے بہت اچھے طریقے سے سنبھال لیتے لیکن وفاق اورپنجاب میں گورننس کے ایشوز نے انھیں پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔‘
عمران خان سے ملنے والے جس بھی پارٹی رہنما یا ناراضگی سے واپس رضامندی کی طرف آنے والے شخص سے وزیراعظم کی آج کی سب سے بڑی خواہش کے بارے میں پوچھا گیا ان کا جواب ایک ہی تھا کہ عمران خان کی زبان پر ایک ہی بات ہے کہ ’سب مل کر کھیلیں تاکہ ڈیلیور بھی کریں اور آگے جایا جا سکے۔‘ تاہم ابھی تک ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button