پنجاب اسمبلی کی مختلف کتابوں اور ایک اخبار پر پابندی کی سفارش

پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اسلامی تاریخ سے متعلق تین کتابوں اور ایک اخبار کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی کی سفارش کر دی جبکہ سماجی کارکنان نے پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسی سینسر شپ یا پابندی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایسا کرنے سے لوگ ان کتابوں میں مزید دلچسپی لیں گے ۔
پنجاب اسمبلی کی کمیٹی نمبر چھ نے صوبائی وزیرِ قانون محمد بشارت راجہ کی سربراہی میں اسلامی تاریخ سے متعلق تین کتابوں سمیت ایک اخبار روزنامہ الفضل کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی اور چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی طرف سے جاری ایک بیان میں صوبائی وزیرِ قانون بشارت راجہ کے جانب سے کہا گیا ہے کہ ’بہت سی ملکی اور غیر ملکی کتب مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں پیغمبرِ اسلام، انبیائے کرام، صحابہ اور اہلِ بیت کے خلاف تضحیک آمیز مواد موجود ہے۔ان سے نہ صرف ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان پر بھی کاری ضرب ہے۔ ان پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔تاہم جن کتابوں پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے وہ کوئی نئی کتابیں نہیں۔ ان میں امریکی مصنفہ لیزلی ہیزلٹن کی دو کتابیں ’دی فرسٹ مسلم‘ اور ’آفٹر دی پرافٹ‘ کے علاوہ پاکستانی مصنف مظہرالحق کی کتاب ’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘ شامل ہے۔
مظہرالحق کی کتاب ’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘ پہلی مرتبہ 70 کی دہائی میں شائع ہوئی اور پاکستان میں سول سروس یعنی سی ایس ایس کے امتحانات میں سلیبس کے طور پر بھی تجویز کی جاتی رہی ہے۔ دوسری جانب آفٹر دی پرافٹ 2009 جبکہ دی فرسٹ مسلم 2013 میں شائع ہوئیں تھیں۔
پابندی کی سفارش کرنے والی صوبائی کمیٹی کے پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن محمد الیاس چنیوٹی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ لیزلی ہیزلٹن نے اپنی کتاب ’دی فرسٹ مسلم‘ میں شبِ معراج کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔الیاس چنیوٹی کے مطابق اسی طرز کی باتیں مصنفہ نے اپنی دوسری کتاب میں بھی کی ہیں۔ جبکہ مظہر الحق کی کتاب ’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘ کے بارے میں بھی ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں ادب کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔الیاس چنیوٹی نے مسلمانوں کے پہلے چار خلفاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں ان میں سے ایک خلیفہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان میں قائدانہ صلاحیت نہیں تھی۔پنجاب اسمبلی کے رکن کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب سنہ 1977 سے شائع ہو رہی ہے اور اب تک کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔
روزنامہ الفضل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی کمیٹی کے ممبر محمد الیاس چنیوٹی نے بتایا کہ یہ احمدی برادری سے تعلق رکھتا ہے اور پابندی کے باوجود اس کی اشاعت جاری ہے۔بظاہر تو ربوہ میں موجود ان کی پرنٹنگ پریس پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود یہ اخبار اب بھی شائع ہو رہا ہے۔ اس لیے ہم نے سفارش کی ہے کہ اس کو مکمل طور پر روکا جائے۔
اس حوالے سے رفاہ یونیورسٹی میں معلمہ اور جماعتِ اسلامی کی سابقہ سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں ایک نقطہ سامنے آیا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔اگر ان کتابوں میں ایسا کوئی مواد ہے جو کہ توہین کے زمرے میں آتا ہے تو اس کے خلاف ایکشن ضرور ہونا چاہیے۔ یہ ایکشن کیا ہو گا، اسں کا تعین اسمبلی کر سکتی ہے۔ اس میں دیکھنا ہو گا کہ خلاف ورزی کس نوعیت کی ہے اور اس کے حوالے سے قانون کیا ہے۔ڈاکٹر کوثر فردوس کا کہنا تھا کہ اگر کسی چیز سے متفق نہ ہوں تو اس کا جواب دیا جا سکتا ہے لیکن اگر کسی چیز سے دل آزاری ہو رہی ہو تو اس کو ہٹا دینا بہتر ہے۔ متفق نہ ہونے اور دل آزاری میں فرق ہوتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان یا ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق کا کہنا تھا یہ کتابیں ان کی نظر سے گزر چکی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پنجاب اسمبلی کی ’کمیٹی کی سفارشات سراسر بلاجواز ہیں۔ان کے مطابق اگر کوئی ایسا مواد ہے جس سے ہم متفق نہیں تو اس کو عالمانہ طور پر زیرِ اعتراض لانا چاہیے۔ ان تمام کتابوں میں مستند ذرائع کے حوالے موجود ہیں۔
حارث خلیق کا کہنا تھا کہ ’یہ کتابیں سالوں سے پاکستان میں حلقۂ اشاعت میں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جو کتابوں پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں، انھوں نے یہ کتابیں نہیں پڑھیں۔‘
حارث خلیق کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ ایک سفارش ہے اس لیے اس پر عملدرآمد تاحال لازمی نہیں ہے تاہم ’یہ معاشرے میں پائی جانے والی اس عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے جس کی نمائندگی عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ یہ امر خطرناک ہے۔حارث خلیق کا کہنا تھا کہ ریاست کو کتب پر پابندیاں نہیں لگانی چاہییں۔ یہ حقِ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے۔
تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے بھی حارث خلیق کے موقف سے اتفاق کیا۔ماضی سے اس کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تقسیم سے قبل ایک انگریز مصنف نے پیغمبرِ اسلام کی زندگی پر ایک کتاب شائع کی تھی تو سرسید احمد خان نے پھر اس کا جواب خطباتِ احمدیہ کے نام سے دیا تھا لیکن سنسرشپ کوئی علاج نہیں ہے۔ سینسرشپ یا پابندی سے ہو سکتا ہے وقتی طور پر وہ کتاب لوگوں تک نہ پہنچے مگر تاریخ میں یہ ہے کہ جب بھی کتابیں سینسر کی گئیں تو وہ زیادہ پڑھی گئیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روشن خیالی کے زمانے کے فرانس سے ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جبکہ سینسر شدہ کتاب کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں جب کتابیں سینسر کی جاتی ہیں تو کتاب فروش انھیں خفیہ طریقے سے بیچتے ہیں۔
مظہر الحق کی کتاب جو 70 کی دہائی میں شائع ہوئی تھی اس وقت اس کی اشاعت پر پابندی کی سفارش کے حوالے سے ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 70 کی دہائی میں ہمارے معاشرے میں رواداری یا برداشت زیادہ تھی جو اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا تھا کہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ سینسرشپ کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔
ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کا خیال ہے کہ اگر کتابوں پر پابندیاں لگا دی جائیں تو اس سے ان کے لیے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ جن کتابوں پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے اگر ان کے مصنفین اس کے خلاف عدالتِ عظمٰی سے رجوع کریں تو مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔
