پنجاب حکومت کپتان کے بھانجے کو گر فتار کرنے میں ناکام

لاہور ہسپتال حملے میں ملوث وزیراعظم کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی کی گرفتاری میں پولیس مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ دوسری طرف حسان کے والد اور کپتان کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے اپنا مفرور بیٹا پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے یہ بیان داغ دیا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اسے صرف عمران خان کا بھانجا ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔
موصوف نے اپنے مفرور بیٹے کا سراغ دینے کے بجائے یہ ارشاد فرمایا کہ دل کے ہسپتال میں وکلاء کے حملے کے نتیجے میں اموات کوئی پہلا واقعہ نہیں یہاں تب بھی مریض مرتے رہے ہیں جب ینگ ڈاکٹرز ہڑتالیں کرتے تھے۔
11 دسمبر کو لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے حملے کے دوران سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور پولیس پر پتھراؤ میں ملوث وزیراعظم عمران خان کا بھانجا بیرسٹر حسان نیازی چھلاوا بن گیا، تین روز گزر گئے مگر پولیس کی گرفت میں نہ آسکا حالانکہ اس ملک میں سابق صدر اور وزیراعظم کو فوری گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ دوسری جانب موصوف کے والد حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ان کے صاحبزادے کو وزیراعظم سے تعلق داری کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دل کے ہسپتال میں وکلاء کے حملے کے نتیجے میں اموات کوئی پہلا واقعہ نہیں یہاں تب بھی مریض مرتے رہے ہیں جب ینگ ڈاکٹرز ہڑتالیں کرتے تھے۔
نئے پاکستان میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے حملے کے الزام میں لاہور پولیس نے بیرسٹر حسان نیازی کا نام کسی ایف آئی آر میں شامل ہی نہیں کیا۔ جب میڈیا پر اس حوالے سے شور مچا تو کارروائی ڈالنے کے لیے پولیس نے حسان کے گھر پر چھاپہ مارا اور کہہ دیا کہ حسان وہاں نہیں ملا اور پھر ہاتھ ہر ہاتھ دھرے بیٹھ گئی۔ حالانکہ ان کیسز میں جتنے وکلاء بھی گرفتار ہوئے سبھی کو گھروں کی بجائے ان کے چیمبرز یا دیگر جگہوں سے گرفتار کیا گیا مگر حسان نیازی کے معاملے میں پنجاب حکومت نہ جانے کن مصلحتوں کا شکار ہے کہ ابھی تک اس کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا اور تنقید سے بچنے کی خاطر محض کاغذی کارروائی کے لئے اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور پھر خاموش ہو گئی۔ اوپر سے حسان کے والد حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ حسان کو وزیراعظم کا بھانجا اور میرا بیٹا ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حفیظ اللہ نیازی نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ موقف اپنایا آیا کہ ان کے بیٹے کا صرف اتنا قصور ہے کہ وہ عمران خان کا بھانجا اور سپورٹر ہے۔ واضح رہے کہ حفیظ اللہ نیازی عمران خان کے سخت مخالف ہیں مگر اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے وہ حق بات کہنے کی بجائے بے سروپا باتیں کر رہے ہیں۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء حملے کے نتیجے میں کچھ انہونی نہیں ہوئی، وہاں تو روز ہی لوگ مرتے ہیں۔ بیرسٹر حسان نیازی کے والد نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی کہ انسٹیوٹ آف کاڈیالوجی میں تب بھی مریض مرا کرتے تھے، جب ینگ ڈاکٹرز ہڑتالیں کرتے تھے۔ اگر وکلاء کے حملے کے نتیجے میں چند اموات ہوگئی ہیں تو اس پر شور کیوں مچایا جارہا ہے۔ پی آئی سی واقعے میں دیگر وکلاء کی طرح حسان نیازی کی جانب سے بھی پتھراؤ اور پولیس موبائل کو آگ لگانے کی ویڈیوز پوری دنیا نے دیکھی مگر حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ کسی ویڈیو میں یہ نظر نہیں آرہا کہ ان کے بیٹے بیرسٹر حسان نیازی نے توڑ پھوڑ کی ہو یا وہ کسی شر انگیز کارروائی کا حصہ بنا اس پر تنقید صرف عمران خان کا بھانجا اور میرا بیٹا ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button