پنجاب میں وینٹیلیٹرز کے استعمال کی شرح میں نمایاں کمی

لاہور اور پنجاب کے دیگر حصوں میں وینٹیلیٹرز کے زیر استعمال ہونے کی شرح 35 اور 33 فیصد تک کم ہوئی ہے جو تشویشناک مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
ایک ماہ قبل وینیٹیلیٹرز کے استعمال کی شرح تقریباً 100 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ماہرین صحت نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ہسپتالوں پر مریضوں کے بوجھ بشمول جنہیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ان کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بالخصوص تقریباً گزشتہ ہفتے سے آئیسولیشن کے وارڈز میں داخل ہونے والی مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس مریضوں کے لیے مختص ایک ہزار 19 وینٹیلیٹرز میں سے 372 زیر استعمال ہیں جبکہ دیگر خالی پڑے ہیں۔یہی صورتحال ہسپتالوں کے انتہائی انحصاری یونٹس (ایچ ڈی یوز) میں ہے جہاں زیر استعمال بستروں کی شرح 30 فیصد کم ہوئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ہسپتالوں کے ایچ ڈی یوز میں 4 ہزار 46 بستر مختص کیے گئے تھے جن میں سے ایک ہزار 211 زیر استعمال اور بقیہ خالی ہیں۔
ہفتے کو جاری کردہ سرکاری ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں وینٹیلیٹرز پر زیر علاج مزید 35 مریض دم توڑ گئے تھے جن میں سے 13 نے لاہور میں اپنی آخری سانسیں لیں۔کووڈ 19 سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پنجاب میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار 768 تک پہنچ چکی ہے۔علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں مزید 914 افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جبکہ 29 مریض دم توڑ گئے۔نئے کیسز کے بعد پنجاب میں کووِڈ 19 کے مجموعی متاثرین کی تعداد 3 لاکھ 33 ہزار 971 تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین صحت کا خیال ہے کہ پنجاب میں انفیکشن کی شرح 5 فیصد رہ گئی ہے جو نئے کیسز میں کمی کو ظاہر کرتا ہے تاہم انہوں نے ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ایک عہدیدار نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ ملتان کے سرکاری ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں زیر استعمال بستروں کی شرح 70 فیصد ہوگئی ہے۔
دوسری طرف صوبائی وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ جتنے لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہورہے ہیں اس سے کیے زیادہ صحتیاب ہو کر گھروں کو رخصت بھی ہورہے ہیں جبکہ کورونا کے مثبت کیسز میں کمی ہوئی ہے اور گزشتہ روز شرح 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 21 مئی کورونا وائرس کے 20 ہزار 272 ٹیسٹ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا سے مزید 64 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
یاسمین راشد نے بتایا کہ عید سے قبل اور اس کی چھٹیوں میں لاک ڈاؤن اور ماسک پہننے پر سختی سے عمل کے نتیجے میں کورونا کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایک ہزار کیسز سے کم کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ قبل 4 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پہلی مرتبہ یومیہ 901 کیسز رپورٹ ہوئے۔یاسمین راشد نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ٹیسٹ کم کرنے کی وجہ سے کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے اور بتایا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹ جاری ہیں۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ایسے اضلاع جہاں کورونا وائرس کے کیسز کی شرح 8 فیصد سے زیادہ ہے، ان میں راجن پور، لیہ، اوکاڑہ، پاکپتن، ساہیوال، مظفر گڑھ، وہاڑی، خانیوال، چکوال، گجرات، ننکانہ صاحب، خوشاب، رحیم یار خان، لودھراں شامل ہیں۔
یاسمین راشد نے کہا کہ پنجاب کے دیگر تمام اضلاع میں کورونا کی شرح کم ہے۔انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ راولپنڈی میں کورونا وائرس کے کیسز کی شرح 3.5 فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں ایس او پیز پر عملدرآمد ہوئے وہاں کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ کورونا کے مثبت کیسز میں کمی ہوئی ہے اور گزشتہ روز شرح 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔یاسمین راشد نے کہا کہ ہمارے پاس 9 ہزار 522 وینٹیلیٹر بیڈز میں سے 502 پر مریض موجود ہیں۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ ان اور آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی ہے جبکہ ہفتے اور اتوار کو لاک ڈاؤن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیاحتی مراکز مکمل ایس او پیز پر عملدرآمد کے ساتھ 24 مئی سے کھول دیے جائیں گے۔
یاسمین راشد نے کہا کہ ریلوے 70 فیصد گنجائش پر چلائی جارہی ہے جبکہ 8 بجے کے بعد تمام کمرشل سرگرمیوں پر پابندی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپورٹس پر مکمل پابندی اور انڈور گیمز بھی بند ہیں۔وزیر صحت نے راولپنڈی میں طبی مراکز کی بہتر کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جتنی تعریف کی جائے کم ہے، وہاں سے کوئی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔یاسمین راشد نے کہا کہ اس وقت 2 ہزار 818 آکسیجن بیڈ ہیں ان میں ایک ہزار 804 خالی ہیں. انہوں نے زور دیا کہ کورونا کا تمام اعلاج مفت ہے اگر کہیں کوئی علاج کے لیے پیسہ طلب کرتا ہے تو شکایت کریں۔علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک ہزار انجکشن منگوائے ہیں جبکہ اگلے ماہ پنجاب کے لیے ویکسین کی علیحدہ پروکیورمنٹ کررہے ہیں۔
