اسلام آباد میں اساتذہ کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ


پنجاب کے کنٹریکٹ اساتذہ نے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے بنی گالا جانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پولیس نے 4 اساتذہ کو ناکے پر ہی حراست میں لے لیا۔
آگے بڑھنے والے اساتذہ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا. جبکہ مظاہرین کچھ دیر منتشر ہوئے اور پھر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
بنی گالہ جانے والے تمام راستے سیل کردیے گئے ہیں جبکہ احتجاج کے سبب اسلام آباد مری روڈ پر شدید ٹریفک جام ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، لوگ راستے میں پھنس گئے ہیں۔بنی گالہ میں احتجاج کے لئے آنے والے پنجاب کے سرکاری اساتذہ پر پولیس نے شدید شیلنگ کی. پنجاب بھر کے سرکاری اساتذہ مطالبات کے حق میں بنی گالہ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کے لیے آنے والوں پر پولیس نے شدید شیلنگ کی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ جانے والا راستہ سیل کردیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے شیلنگ اور راستے بند کرنے کے بعد اساتذہ نے بہارہ کہو روڈ پر احتجاج شروع کردیا، جس کی وجہ سے مری اور کشمیر سے آنے والی ٹریفک کا نظام بڑی طرح متاثر ہوئی۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں 7 برس سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کی مستقلی پبلک سروس کمیشن کا امتحان اور انٹرویو پاس کرنے سے مشروط کردی گئی ہے جو کہ ناانصافی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پنجاب حکومت کو سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کی غیر مشروط ریگولرائزیشن کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا فی الفور حکم دیں تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ مطمئن ہو کر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
اساتذہ کی تیاری پوری ہے، گرم کپڑے بھی رکھے ہیں اور ٹینٹ وغیرہ بھی۔ مارچ میں شریک اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی نوکری مستقل نہیں کر دی جاتی تب تک وہیں بیٹھیں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوگا؟
کاشف شہزاد چوہدری پنجاب گورنمنٹ اسکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز کے صوبائی صدر ہیں اور اس مارچ کے حق میں ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اساتذہ بنی گالہ کی جانب مارچ کیوں کر رہے ہیں؟۔ یہ معاملہ دراصل پنجاب کے سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کی غیر مشروط ریگولرائزیشن یا مستقلی کا ہے۔ ان اساتذہ کی نوکری صرف ایک شرط پر مستقل ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ اساتذہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان اور انٹرویو پاس کریں، ورنہ مستقل تو کیا نوکری ہی نہیں رہے گی۔ یہ مسئلہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے التوا کا شکار ہے اور سات برس سے کانٹریکٹ پر کام کرنے والے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ نے پنجاب حکومت کو ڈیڑھ سال سے غیر مشروط ریگولرائزیشن کےلیے سمری بھیج رکھی ہے جو اب تک منظور نہیں ہوسکی۔
محمد عمران لاہور کے ایک سرکاری اسکول میں 16 ویں اسکیل کے استاد ہیں اور نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو کمپیوٹر پڑھاتے ہیں۔ عمران نے بتایا کہ وہ بھی اس مارچ کا حصہ بنیں گے۔ میں 2014 سے پڑھا رہا ہوں اور کانٹریکٹ پر ہوں۔ پانچ سال کا معاہدہ تھا جس میں پانچ سال کے بعد اب تک دو مرتبہ توسیع ہو چکی ہے جب کہ موجودہ توسیع اپریل میں ختم ہو جائے گی۔ عمران نے بتایا کہ انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کا امتحان پاس کرکے یہ نوکری حاصل کی تھی۔ یہ حکومت کی پالیسی تھی کہ اس امتحان میں 100 میں سے 50 اور اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے سرکاری اسکول میں نوکری کےلیے درخواست دے سکتے تھے۔ جب میں نے نوکری کےلیے درخواست دی تو اس وقت دو سیٹیں خالی تھیں جب کہ درخواست گزار 200 سے زائد تھے جن میں سے میرا انتخاب ہوا۔
بقول عمران 2014 سے پہلےجتنی بھی بھرتیاں ہوئی تھیں وہ ایسے کسی ٹیسٹ کے بغیر ہوئی تھیں۔ ان تمام اساتذہ کو بغیر کسی شرط کے مستقل کردیا گیا ہے۔ میرے جیسے 16ویں اسکیل کے اساتذہ جن کی بھرتیاں ٹیسٹ کے ذریعے 2014 سے 2018 تک ہوتی رہی ہیں ان کےلیے اب ایک ایکٹ بنا دیا گیا ہے کہ ہم دوبارہ پبلک سروس کمشن کا امتحان اور انٹرویو پاس کریں گے تو ہمیں مستقل کیا جائے گا اور جو امتحان پاس نہیں کر پائے گا وہ نوکری سے فارغ ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دور حکومت میں ان سے جونیئرز کو بغیر کسی مقابلے کے امتحان کے مستقل کیا گیا، مگر انہیں نہ اس وقت کیا گیا اور نہ ہی اب کیا جا رہا ہے۔ وزیر تعلیم مراد راس نے ہم سے کہا تھا کہ وہ ہمیں بغیر کسی امتحان کے مستقل کروائیں گے یہاں تک کہ اب تک اس دور حکومت میں محکمہ تعلیم کے تبدیل ہونے والے پانچ سیکرٹریوں نے بھی ہم سے یہی کہا تھا۔ ڈیڑھ برس تک ہمارے مسئلے کی سمری سرکاری دفتروں میں گھومتی رہی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اب موجودہ سیکرٹری نے صاف کہہ دیا ہے کہ ہمیں بلک سروس کمیشن کا امتحان دینا پڑے گا۔ نوکری کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ اگر امتحان کلیئر نہ ہوا تو نوکری بچے گی یا نہیں۔ پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت بھی کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کی غیر مشروط ریگولرائزیشن میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘گذشتہ ڈیڑھ سال سے غیر مشروط ریگولرائزیشن کےلیے بھجوائی گئی سمری منظور نہیں ہو سکی اور اب پبلک سروس کمیشن سے انٹرویو پاس کرنے کا کہا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پنجاب بھر میں 11ہزار سے زائد سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز و اے ای اوز شدید بےچینی و اضطراب میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز این ٹی ایس ٹیسٹ اور محکمانہ انٹرویو کوالیفائی کرکے بھرتی ہوئے۔ ان کے کنٹریکٹ ایگریمنٹ میں ریگولرائزیشن کےلیے دوبارہ پنجاب پبلک سروس کمیشن سے انٹرویو کوالیفائی کرنے کی کوئی شرط نہیں لکھی ہوئی اور نہ ہی بھرتی پالیسی میں یہ شرط موجود تھی، لیکن سابقہ حکومت نے یہ کالا قانون بنا کر 11 ہزار سے زائد سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ رانا لیاقت نے بتایا کہ اپنی نوکریوں اور مستقبل کو بچانے کےلیے 19 دسمبر کو سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کور کمیٹی اس ناانصافی اور غیر سنجیدہ رویہ کے خلاف ہزاروں اساتذہ سمیت بنی گالہ، اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گی جب کہ پنجاب ٹیچرز یونین اس کی بھرپور حمایت اور دھرنے میں بھرپور شرکت کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت کو سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کی غیر مشروط ریگولرائزیشن کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا فی الفور حکم دیں تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ مطمئن ہو کر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ پنجاب گورنمنٹ اسکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز پنجاب کے صوبائی صدر کاشف شہزاد چوہدری نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ ایک ہی ہے اور وہ ہے سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کی مستقلی۔ ہم متعدد بار صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے ملاقات کر چکے ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ وزیر تعلیم اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اور محکمے بھی ہیں ان کے ملازمین کو بھی مستقل کرنا پڑے گا۔ کاشف چوہدری کے مطابق حکومتی وزرا نے اپنے لیے کوئی آرڈینینس پاس کرنا ہو تو راتوں رات ہو جاتا ہے۔ ایکٹ میں تبدیلی بھی ہو جاتی ہے، لیکن باقی اداروں میں کام کرنے والے تو جیسے میرٹ پر ہی نہیں آئے۔ ہم ٹیسٹ دے کر پانچ چھ سو لوگوں میں سے سلیکٹ ہوئے تھے۔ اب سات سات سال کی نوکریوں کے بعد کچھ کی عمر اب اتنی ہو چکی ہے کہ اگر ان کی نوکری چلی جاتی ہے تو وہ کہیں اور نوکری نہیں کر پائیں گے۔ اس ناانصافی کےلیے مارچ کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا تو اساتذہ کا حق ہے۔ اس معاملے پر صوبائی وزیر تعلیم برائے اسکول ایجوکیشن کے ترجمان عمر خیام نے بتایا کہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے اساتذہ کی مستقلی کے مسئلے میں کوئی تاخیر نہیں ہے۔ ہم نے سارا معاملہ کلیئر کرکے سمری آگے بھیج دی ہے جو اب پنجاب کابینہ میں وزارت قانون کے پاس ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button