پٹرول کی قیمت میں کمی، اصل کریڈٹ کا حقدار کون؟

نگراں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پاکستانی صارفین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر تبصروں کے انبار لگا دیے، کسی صارف کو لگا کہ اس اقدام پر حکومت تعریف کی مستحق ہے تو کوئی اس کشمکش میں نظر آیا کہ اس کمی کا کریڈٹ کس کو دیا جائےـپاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں ریکارڈ اضافے کے بعد یکم اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے کی کمی کی گئی تھی جبکہ اب گذشتہ رات نگران حکومت کی جانب سے اس میں مزید 40 روپے کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے جسے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسز اور مارجن بڑھا دیئے ہیں۔دستاویز کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے لیوی کی شرح 50 روپے سے بڑھا کر 55 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی جبکہ پٹرول پر لیوی کی شرح 60 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔پٹرول پر او ایم سی مارجن میں 47 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد پٹرول پر فی لیٹر مارجن 7.41 روپے مقرر کر دیا گیا۔دستاویز کے مطابق پٹرول پر ڈیلر مارجن بھی 41 پیسے بڑھا دیا گیا، اضافے کے بعد ڈیلر مارجن 8 روپے 23 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔خیال رہے او ایم سی اور ڈیلرز مارجن 16 ستمبر اور یکم اکتوبر کو بھی بڑھایا جا چکا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 283 روپے 38 پیسے کر دی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 15 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔جہاں بڑھتی قیمتوں سے پریشان سوشل میڈیا صارفین سراپا احتجاج تھے وہیں اب کم ہوتی قیمتوں پر بھی اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے بارے میں لکھا، ’ڈالر کی قیمت نیچے لانے کے نتیجے میں پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، عام آدمی کو ریلیف ملے گا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور بجلی کی قیمت میں کمی بھی ہونی چاہیے۔‘

وقاص شوکت نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے لکھا کہ ’اچھی بات ہے لیکن اس کا فائدہ اسی وقت ہو گا جب گھریلو اشیا کی قیمتوں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی ہو گی۔فیضان خان نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’بلیک کرنسی مارکیٹ اور ڈالر کے خلاف کریک ڈاؤن سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں بھی 40 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ یہ صرف ایک آغاز ہو سکتا ہے۔ جلد انتخابات اور ایک مضبوط منتخب حکومت پاکستان کو اچھے دنوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔اس پوسٹ کے جواب میں ثروت ایوب نے مزید لکھا کہ ’صرف یہی نہیں بلکہ افغانستان سے سمگلنگ بھی روک دی گئی ہے۔ یہ پہلے بھی کیا جا سکتا تھا، لیکن سرحدوں پر نظر رکھنے والوں کے اپنے مفادات تھے۔‘

محمد سلیمان نے بھی جلد ملک میں جاری مسائل کو حل کرنے کے لیے جلد انتخابات پر زور دیا اور پوسٹ کی کہ ’معاشی بحالی کے لیے جلد انتخابات بہت اہم ہیں کیونکہ عبوری حکومت تمام فیصلے نہیں کر سکتی۔ انتخابات میں 15 اپریل سے زیادہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور منتخب حکومت کو اگلا بجٹ پیش کرنا چاہیے۔ جبکہ نعیم ارشد نامی صارف نے اسے ایک سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے میاں محمد نواز شریف کی پاکستان واپس آنے سے جوڑے دیا اور لکھا، ’پہلے ایک ماہ میں 60 روپے بڑھایا پھر 40 روپے کم کر دیا، کیسا لگا ریلیف؟ دوسری چیز یہ کہ 40 روپے ہماری محبت میں نہیں بلکہ میاں صاحب کے جلسے میں چار لاکھ لوگوں کا اضافہ کرنے کا فارمولا بنایا ہے۔‘عمیر نامی صارف نے ایک میم شیئر کر کے پاکستانیوں کے جذبات ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد جہاں صارفین نے تبصرے کیے وہیں کچھ صارفین نے میمز کا سہارا لیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک الگ ہی ماحول بنا ڈالا، ایک صارف نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کو کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست سے جوڑتے ہوئے لکھا میچ ہارنے کے بعد پیٹرول سستا ہوگیا ، بابر کی قربانی کو سلام۔صارفین کا کہنا تھا کہ ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی تو خوش آئند ہے لیکن کیا روز مرہ کی اشیا بھی سستی ہوں گی وہیں ایک صارف نے ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں کمی نہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا اب اگر 40 روپےکمی کےبعد 331 روپے سے 283 تک پندرہ فیصد کم ہوئی تو ٹرانسپورٹرز کو کم از کم تیس فیصد کرائےکم کرنےچاہیے۔ .

پاکستان تحریک انصاف کے حامی صارفین نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ پیٹرول کی قیمت عمران خان کی حکومت میں اس سے بھی کم تھی ، ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا مائی ڈئیرانتظامیہ پیٹرول ڈیزل سستے ہوگئےہیں موسم بھی اچھاہے۔دفتروں سےنکلیں اورچیزیں سستی کرکےعوام کو سستانےکاموقع بھی دیں۔پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کے باوجود صارفین کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دیے ، ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا اگر 283روپے لیٹر پیٹرول آپ کو کم لگتا ہے تو آپ کو اپنی عقل پر ماتم کرنا چاہیے۔

صارف فیضان خان نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا بلیک کرنسی مارکیٹ اور ڈالر کے خلاف کریک ڈاؤن سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں بھی 40 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ یہ تو ابھی صرف آغاز ہے قبل از وقت انتخابات اور ایک مضبوط منتخب حکومت پاکستان کو اچھے دنوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔

Back to top button