آزادکشمیرمیں ن لیگ کی جیت پرمخالفین کاشورسمجھ سےبالاترہے،عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات عطاتارڑ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر حکومت بنان کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے، مسلم لیگ ن کی جیت مخالفین کو ہضإ نہیں ہورہی۔
عطااللہ تار ڑنےپریس کانفرنس کرتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں لوگوں نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر الیکشن مہم میں حصہ لیا بلکہ وہ جلسوں اور کارنر میٹنگ میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے الیکشن کے عمل کا حصہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بہت اچھی روایت قائم کی کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو گلگت بلستان میں کامیابی پر حکومت بنانے کی دعوت دی اور اسے مبارکباد پیش کی، پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر کے انتخابات پر بھی بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جو پریس کانفرنس کی اس میں بے بنیاد الزامات لگائے گئے، پہلی بات تو یہ کہ لوگوں نے فیصلہ تعمیر و ترقی اور اس بات پر فیصلہ کرنا تھا کہ آزاد کشمیر کون سی جماعت کی ترجیعات میں شامل ہے اور کس کی خدمت کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں پر بھی معاملات بہت توجہ طلب ہیں، 2024کے الیکشن پر اگر آپ سوال اٹھاتے ہیں تو کیا وہ سندھ پر نہیں اٹھتا، دھاندلی کے الزامات لگائے جارہے ہیں تو کیا ہی اچھا ہوتا اگر ناقابل تردید ثبوت پیش کیے جاتے اور شواہد بھی پیش کیے جاتے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں پر بھی معاملات بہت توجہ طلب ہیں، 2024کے الیکشن پر اگر آپ سوال اٹھاتے ہیں تو کیا وہ سندھ پر نہیں اٹھتا، دھاندلی کے الزامات لگائے جارہے ہیں تو کیا ہی اچھا ہوتا اگر ناقابل تردید ثبوت پیش کیے جاتے اور شواہد بھی پیش کیے جاتے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور مؤثر انتخابی مہم کا نتیجہ ہے، جبکہ بے بنیاد الزامات کے بجائے سیاسی جماعتوں کو عوامی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پارٹی کی پوری قیادت نے آزاد کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، جس کے باعث مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایک واضح لہر پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مخالف جماعتیں بہتر مہم چلاتیں تو شاید نتائج مختلف ہوتے، تاہم جمہوری نظام میں سیاسی مقابلہ معمول کی بات ہے۔
