پی ٹی ایم مذاکرات، حکومت کا خڑقمر حملہ کیس واپس لینے کا فیصلہ

صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت شمالی وزیرستان کے علاقے خڑقمر میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے سے متعلق پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے خلاف دائر مقدمے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے.
حکومت کی طرف سے بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے. درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت کیس سے دستبردار ہونا چاہتی ہے جس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایبٹ آباد میں ہورہی ہے۔ مذکورہ درخواست ریاست کی جانب سے ضلع بنوں کے پبلک پراسیکیوٹر اور اے ٹی سی بنوں کے سینئر پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق ریاست/حکومت، موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس کیس کی پروسیکیوشن سے دستبردار ہونا چاہتی ہے۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عدالت کے ایک عہدیدار نے یہ تصدیق بھی کی کہ درخواست دائر ہوچکی ہے۔ تاہم ابھی تک عدالت کی جانب سے درخواست کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پروسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے حکام نے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا۔محسن داوڑ اور علی وزیر کے قانونی نمائندے عبداللطیف آفریدی جو سینئر وکیل بھی ہیں اور پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہیں انہوں نے بھی اس اقدام کی تصدیق کی لیکن کہا کہ ان کے موکلوں کو حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی کاپی ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ کیس سے دستبرداری کا اقدام پی ٹی ایم کی جانب سے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے اعتماد سازی کے اقدامات کا سنجیدگی سے مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کہا تھا کہ حکومت اعتماد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لازمی اقدامات اٹھائے اور یہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات شروع کرنے سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ 26 مئی 2019 کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خڑکمر چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا، جس کے بارے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔بیان میں کہا گیا تھا کہ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا۔
پاک فوج کے مطابق چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 10 زخمی ہوئے۔ بعد ازاں دونوں اراکین اسمبلی کو گرفتار کرکے بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں گرفتار اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر پشاور جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ 10 جون کو خیبرپختونخوا کے اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
بعدازاں 13 جون کو محسن داوڑ اور علی وزیر نےخیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔جس کے بعد 18 ستمبر کو پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ نےعلی وزیر اور محسن داوڑ کی مشروط ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا اور انہیں 21 ستمبر کو خیبرپختونخوا کی ہری پور جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button