چیئرمین نیب کے اختیارات کم کرکے توسیع دینے پر غور


حکومت کی جانب سے نیب چیئرمین کو توسیع دینے کے لیے مجوزہ صدارتی آرڈیننس میں چئیرمین کا ملزمان کی گرفتاری کا اختیار ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ خیال رہے کہ چیئرمین نیب کی اس اختیار کو اپوزیشن کی جانب سے ڈریکونین قرار دیا جاتا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب قوانین میں ترمیم کیلئے صدارتی آرڈیننس کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس میں نہ صرف موجودہ چیئرمین نیب کو بدستور کام کرنے کی اجازت دینے کا راستہ ہموار کیا جائے گا بلکہ کاروباری افراد، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کیلئے بھی یہ اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے کہ چیئرمین نیب کا بلا روک ٹوک گرفتاری کا اختیار ختم کر دیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وقت کی قلت کے باعث آرڈیننس میں اگرچہ چیئرمین کے عہدے پر نئے تقرر تک جاوید اقبال کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت کر سکتے ہیں چاہے پھر نئے چیئرمین کا تقرر کیا جائے یا پھر موجودہ چیئرمین کو ہی انکے عہدے میں توسیع دے دی جائے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو انکے ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ قانون کے مطابق وہ اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ضرور کریں کیونکہ بھلے ہی شہباز پر کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں لیکن وہ مجرم نہیں ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر شہباز شریف نیب کے ملزم ہیں تو وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی نیب میں کرپشن ریفرنسز زیرالتوا ہیں لہٰذا حکومت اپنے اُس موقف سے فاصلہ اختیار کر سکتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف چونکہ نیب کیسز کا سامنا کر  رہے ہیں اس لئے اُن سے مشاورت نہیں کی جائے گی۔ انصار عباسی کے مطابق صدارتی آرڈیننس کے مسودے میں نہ صرف موجودہ چیئرمین کا معاملہ حل کیا جائے گا بلکہ احتساب کے نظام میں بہتری کیلئے بھی بڑی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں اور کسی بھی ملزم کو بلا روک ٹوک گرفتار کرنے کا چیئرمین نیب کا صوابدیدی اختیار ختم کیا جا سکتا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے تجویز ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل کو با اختیار کیا جائے اور اگر نیب کوئی گرفتاری کرنا چاہے تو وہ تب ہو جب چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل اس پر متفق ہوں۔ امکان ہے کہ ترمیمی صدارتی آرڈیننس کے بعد ماضی کے برعکس، گرفتاری کا معاملہ خالصتاً چیئرمین نیب کی صوابدید نہیں ہوگا۔ اگر کسی ملزم کو گرفتار کیا جائے گا تو اس بارے میں تحریری طور پر فائل میں وجوہات بتانا ہوں گی۔ تجویز یہ یے کہ نیب اگر کسی ملزم سے تفتیش کرنا چاہے تو اسکو گرفتار کرنے کی بجائے اسکا نام ای سی ایل پر ڈال دیا جائے۔
اسکے علاوہ نیب چئیرمین اور پراسیکیوٹر جنرل دونوں فیصلہ کریں گے کہ اگر ملزم ملک سے باہر نہیں جاتا اور تفتیش میں بھی تعاون کرتا ہے تو اسے گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مجوزہ ترامیم میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ نیب کو عوامی عہدیداروں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے سے روکا جائے گا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاروباری افراد کے معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر نکال دیے جائیں گے۔ صرف ایف بی آر اور ایف آئی اے کو کاروباری افراد سے نمٹنے کا مینڈیٹ حاصل ہو گا چاہے وہ ٹیکس معاملات ہوں، منی لانڈرنگ یا پھر کوئی اور غلط کام۔ بیوروکریسی، سرکاری ملازمین اور سیاستدانون کو نیب کی بدنام زمانہ ہراسگی سے بچانے کیلئے ادارے کو روکا جائے گا کہ وہ ضابطے کی خلاف ورزی اور نیک نیتی سے کیے گئے فیصلوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ نیب کو صرف ایسے کیسز میں تحقیقات کی اجازت ہوگی جن میں اُس کے پاس کسی بیوروکریٹ یا عوامی عہدیدار کیخلاف رشوت کمیشن یا کک بیکس کے ٹھوس شواہد موجود ہوں۔  پراسیکیوٹر جنرل کو بااختیار کرنے سے چیئرمین نیب اور اُن کے ڈی جیز کے اختیارات کے غلط استعمال کے واقعات کی بھی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔ 
تاہم چیئرمین اور  پراسیکیوٹر جنرل کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر سرکاری ماہرین قانون کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ کی رائے ہے کہ یہ بات قانون میں واضح طور پر شامل کر دینا چاہئے کہ مس کنڈکٹ کی صورت میں، چیئرمین یا پراسیکیوٹر جنرل کیخلاف شکایت کی صورت میں معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا جائے لیکن دیگر کی رائے ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، معاملہ ایسے ہی مبہم چھوڑ دیا جائے تاکہ ان دونوں کے سروں پرفراغت کی تلوار لٹکا کر حکومتیں انہیں بلیک میل نہ کر سکیں۔

Back to top button