سب سے زیادہ آف شور کمپنیاں عمران کے ساتھیوں کی نکلیں

نامور شخصیات کے خفیہ مالی امور بارے ’پینڈورا پیپرز‘ مارکیٹ ہونے کے بعد پاکستان میں جن لوگوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں ان میں سے زیادہ تر کا تعلق حکومتی جماعت اور عمران خان کے ساتھیوں سے نکلا ہے۔ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر صنعت خسرو بختیار، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الہی، سابق وزیر برائے آبی امور فیصل واوڈا، پنجاب کے سنیئر وزیر عبدالعلیم خان اور سابق وزیر آبی وسائل سینیٹر فیصل واوڈا وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
پنڈورا پیپرز نے پاکستان سے متعلق اپنے الگ ضمیمے میں لکھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کیا لیکن ان کے قریبی ساتھی کروڑوں روپے آف شور کمپنیوں میں منتقل کرتے رہے۔ پیپرز میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان کے قریبی ساتھی بشمول کابینہ ارکان، ان کے خاندان کے افراد اور مالی معاونین نے خفیہ طور پر کروڑوں ڈالرز آف شور کمپنیوں میں چھپا رکھے ہیں۔
آئی سی آئی جے کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے متعدد مرتبہ اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ ٹیکس چوری سے اور منی لانڈرنگ کے باعث غریب ممالک میں غربت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ان کے قریبی حلقے کے لوگوں کی آف شور کمپنیوں کے سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ آئی سی آئی جے کے مطابق عمران کے قریبی حلقے میں سے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ تحریک انصاف کی فنڈنگ کرنے والے عارف نقوی بھی شامل ہیں۔ نقوی 2013 میں انتخابی مہم میں وزیراعظم عمران خان کے فنانسر اور اہم فنڈنگ کرنے والی شخصیت تھے اور ان کی کئی آف شور کمپنیاں ہیں۔
آئی سی آئی جے کی رپورٹ کے مطابق دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقے کے ‘ایم اراکین’ سمیت کابینہ کے وزرا اور ان کے خاندان کے نام بھی آف شور کمپنیاں رکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت میں اہم مالی مفادات رکھنے والوں کے پاس ‘خفیہ رکھی گئی کئی ملین ڈالرز کی کمپنیاں اور ٹرسٹ ہولڈنگ پر مشتمل چھپی ہوئی دولت ہے۔ رپورٹ میں فوجی عہدیداروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے تاہم کہا گیا ہے کہ اس میں عمران خان کی اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی کمپنی نہیں ہے۔
دوسری جانب پنڈورا پیپرز سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جن حکومتی شخصیات کی آف شور کمپنیاں نکلی ہیں ان کے خلاف تحقیقات ہوں گے اور اگر کچھ غلط ثابت ہوا تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔
پنڈورا پیپرز کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے کے نام بھی ایک آف شور کمپنی ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر شرجیل میمن کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔ اسحاق ڈار کا مؤقف ہے کہ ان کا اپنے بیٹے کے بزنس معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علی ڈار نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے لندن میں حق حلال کا کاروبار کیا ہے اور ان کا ایک ایک پیسہ جائز ہے۔ پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے لیکن انہوں نے اپنی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی۔
پنڈورا پیپرز تیار کرنے والی آئی سی آئی جی کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی کا نام بھی آف شور کمپنی رکھنے والے پاکستانی وزراء میں شامل ہے۔ تاہم چوہدری برادران کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا تمام کاروبار جائز ہے اور ان پر الزام تراشی کا مقصد چوہدری خاندان کی سیاسی ساکھ خراب کرنا ہے۔ دوسری جانب آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ مونس الہی نے مبینہ طور پر ’کرپٹ کاروبار‘ کا پیسہ خفیہ ٹرسٹ میں منتقل کیا تاکہ یہ پیسہ ٹیکس حکام سے چھپایا جاسکے۔ مونس پہلے عمران خان کی کابینہ میں وزیر آبی وسائل رہنے والے فیصل واوڈا کے نام بھی ایک خفیہ آف شور کمپنی نکلی ہے جنکے ڈائریکٹرز میں ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔ تاہم فیصل واوڈا نے اپنی آف شور کمپنی کے حوالے سے موقف نہیں دیا۔
وزیر صنعت خسرو بختیار کے اہل خانہ کے نام بھی آف شور کمپنی نکلی ہے۔ خسرو بختیار کے بھائی عمر بختیار کا نام پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔ آئی سی آئی جے کے مطابق عمر بختیار نے 10 لاکھ ڈالر مالیت کا لندن میں واقع ایک فلیٹ 2018 میں ایک آف شور کمپنی کے ذریعے اپنی والدہ کے نام منتقل کیا۔ آئی سی آئی جے کے مطابق خسرو بختیار کے بھائی عمر بختیار نے 10 لاکھ ڈالر لندن کے علاقے چیلسی میں اپنی بزرگ والدہ کو اپارٹنمنٹ کے لیے 2018 میں آف شور کمپنی کے ذریعے منتقل کیے۔ خسرو بختیار نے تحریری بیان میں کہا کہ نیب ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے جہاں ‘الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے تھے۔
پنڈورا پیپرز میں وزیرخزانہ شوکت ترین کی آف شور کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شوکت ترین اور ان کے خاندان کے اراکین کی چار آف شور کمپنیاں ہیں۔ اس حوالے سے آئی سی آئی جے کے لیے کام کرنے والے سینئر صحافی عمر چیمہ نے بتایا ہے کہ آف شور کمپنیوں کے بارے میں شوکت ترین کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم پنڈورا پیپرز سامنے آنے کے بعد شوکت ترین نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ انکی آف شور کمپنیوں کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلا اور نہ ہی کوئی ٹرانزیکشن ہوئی، اور یہ کمپنیاں 2014 اور 2015 کے درمیان بند ہو گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آف شور کمپنیاں انکے ملکیتی سلک بینک کے لیے فنڈ ریزنگ کی خاطر قائم کی گئیں۔
پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں پنجاب کے سابق وزیر عبدالعلیم خان کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہے۔ یاد رہے کہ عبدالعلیم خان نے پچھلے مہینے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جسے ابھی تک قبول نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں انہوں نے سماء ٹی وی بھی خرید لیا تھا اور اب یہ اطلاعات ہیں کہ وہ سیاست چھوڑ کر میڈیا ٹائکون بننے جا رہے ہیں۔ علیم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آف شور کمپنیاں ڈیکلیئر کر رکھی ہیں اور ایف بی آر کو بھی ان کے بارے میں علم ہے۔
وزیراعظم کےسابق معاون خصوصی وقارمسعود کے بیٹے کی بھی ایک آف شور کمپنی نکل آئی ہے جو کہ برٹش ورجن آئی لینڈز میں قائم ہے۔ وقار مسعود خان نے آئی سی آئی جے کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے بیٹے کی کمپنی کا کیا معاملہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انکے بیٹے خود مختا زندگی گزار رہے ہیں اور ان پر انحصار نہیں کرتے۔ اسکے علاوہ ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کی آف شور کمپنی بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔
پنڈورا پیپرز میں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران، بینکاروں، کاروباری شخصیات اور میڈیا مالکان کی آف شورکمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ فوجی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے جن لوگوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں ان میں پنجاب کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول کے داماد احسن لطیف، جنرل پرویز مشرف کے سابق سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل شفاعت شاہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کاونٹر ٹیررازم میجر جنرل ندیم نصرت، لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ افضل مظفر کے بیٹے حسن مظفر، لیفٹننٹ جنرل تنویر طاہر کی اہلیہ زہرہ تنویر، ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی، سابق ایئر مارشل عباس خٹک کے بیٹے عمر خٹک اور احد خٹک اور ایمبیسیڈر ایٹ لارج برائے غیر ملکی سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی شامل ہیں۔
پنڈورا پیپرز کے مطابق 2007 میں سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی جنرل (ریٹائرڈ) شفاعت اللہ شاہ کی زوجہ نے ایک آف شور ٹرانزیکشن کے ذریعے لندن میں ایک فلیٹ لیا جس کی قیمت 12 لاکھ ڈالرہے۔آئی سی آئی جے کے مطابق یہ فلیٹ انڈیا کے ایک فلم ڈائریکٹر کے آصف کے بیٹے کی آف شور کمپنی نے سابق جنرل کی زوجہ کو منتقل کیا۔ سابق جنرل نے آئی سی آئی جے کو بتایا کہ یہ فلیٹ انہوں نے آرمی کے ایک سابق ساتھی جو کہ لندن میں ایک رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں ان کے توسط سے خریدا اور اس سے آصف کے کسی قریبی رابطے کا عمل دخل نہیں۔
آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی برائے کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل نصرت ندیم بھی بی وی آئی میں افغان آئل اور جی اے ایس لمیٹڈ نامی کمپنیوں کے مالک نکلے۔ انہوں نے آئی سی آئی جے کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی ایک دوست نے بنائی تھی لیکن اسے کسی بھی ٹرانزیکشن کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ پنڈورا پیپرز ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہیں اور تحقیقات میں دنیا کے 117 ملکوں کے 150 میڈيا اداروں کے 600 سے زائد رپورٹرز نے حصہ لیا ہے۔صحافتی دنیا کی سب سے بڑی تحقیقات میں پاکستان سینیئر صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی شریک ہوئے۔ نامور شخصیات کے مالی امور کی تحقیقات کا کام دو سال میں مکمل ہوا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم پنڈورا پیپرز میں نام آنے پر اپنے ساتھی وفاقی وزرا کے خلاف کیا کاروائی کرتے ہیں۔
