چیف جسٹس کی قتل کیس کے لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے تہرے قتل کیس میں لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کرادی۔
تفصیلات کے مطابق حیدر آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے سالانہ عشائیے کی تقریب کے دوران ام رباب نے تہرے قتل کیس کی فائل چیف جسٹس آف پاکستان کو تھمادیں۔ابتدائی طور پر پولیس ام رباب کو چیف جسٹس سے ملاقات کرنے سے روک رہی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ملاقات کی اجازت دے دی گئی۔ام رباب نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے اور کیس کے حوالے سے ملاقات کرنے کا کہا ہے۔
واضح رہے کہ ام رباب کے والد مختار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا کابل چانڈیوں جو 17 جنوری 2018 کو ضلع دادو کے تعلقہ میہڑ میں فرید آباد تھانے کی حدود میں قتل کردیا گیا تھا۔ام رباب کے مطابق کیس میں ملزمان کے خلاف فرد جرم اب تک عائد نہیں کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم علی گوہر چانڈیو اور سکندر چانڈیو جیل میں ہیں جبکہ مرتضیٰ چانڈیو اور ذوالفقار فرار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برھان چانڈیو نے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کیس سکھر کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں زیر التوا تھا تاہم اسے اب انسداد دہشت گردی عدالت میرپور ماتھیلو، گھوٹکی منتقل کردیا گیا ہے۔ام رباب کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کیس کو کراچی منتقل کرنے کی درخواست کی تھی تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اسے گھوٹکی منتقل کردیا۔
یاد رہے کہ 17 جنوری 2018 کو میہڑ میں مسلح افراد نے یونین کونسل کے چیئرمین قمراللہ چانڈیو کے گھر پر حملہ کرکے انہیں اور ان کے دو بیٹوں بلدیہ کے اراکین مختیار اور قابل کو قتل کردیا تھا۔نواب چانڈیو اور ان کے بھائیوں نواب برہان چانڈیو سمیت دیگر پانچ افراد کے خلاف مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے والے پر مقدمہ درج کرادیا گیا تھا بعد ازاں رکن صوبائی اسمبلی اور ان کے بھائی کا نام ناکافی ثبوت کی بنا پر ایف آئی آر سے خارج کردیا گیا تھا۔مقتولین کے ورثا کی جانب سے سخت جدوجہد کے بعد پی پی پی سے منسلک مبینہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی گئی تھی جبکہ میہڑ اور دادو پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔
