چیف صاحب کی داشتہ جنرل رانی کی کہانی

اس ملک کے طاقتور خفیہ ادارے گستاخ صحافیوں کو پھینٹی لگوا کر اور گولیاں مروا کر الزام کسی نامعلوم لڑکی کے بھائی پر ڈال دیتے ہی۔ لیکن یہ ادارے نامعلوم لڑکی کی اُس مشہور زمانہ ماں کو بھول جاتے ہیں جو چیف صاحب کی داشتہ تھی اور جس کا نام جنرل رانی کا نام تھا۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی رانی اس دیس کے باوردی راجوں کے دلوں پر راج کرتی ہے اور خوب لوٹ مار کرتی ہے، لیکن آفت ٹوٹتی ہے تو صرف صحافیوں پر.
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر جماعت اسلامی کے سابق ایم این اے فرید احمد پراچہ کی خودنوشت ’’عمرِرواں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پراچہ نے اپنی جوانی اور ہمارے بچپن میں پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن لڑا تھا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں ایل ایل بی کے طالب علم تھے اور اپنے اساتذہ میں شیخ امتیاز علی اور سردار اقبال موکل کے ساتھ ساتھ چوہدری اعتزاز احسن اور عابد حسن منٹو کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔ پراچہ زمانہ طالب علمی سے اب تک ایک درجن سے زائد مرتبہ جیل جا چکے ہیں۔ اپنی کتاب میں انہوں نے جیل کی کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والے ایک دھوکے کا ذکر بھی کیا ہے۔ پراچہ نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کو اپنی پسندیدہ جیل قرار دیا ہے کیونکہ یہ بڑی کھلی ڈلی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وہ الخدمت فائونڈیشن کے روحِ رواں عبدالشکور اور مسعود کھوکھر کے ہمراہ اس جیل میں قید تھے۔ جیل کے انچارج حمید اصغر اکثر انہیں اپنے دفتر میں گپ شپ کے لئے بلالیتے اور زنانہ جیل سے یحیہ خان کی سابقہ داشتہ اقلیم اختر رانی المعروف جنرل رانی کو بھی بلا لیتے۔
فرید پراچہ لکھتے ہیں کہ شاید انکی اور جنرل رانی کی گفتگو کی ریکارڈنگ بھی ہوتی ہو لیکن انکی زیادہ دلچسپی سانحہ مشرقی پاکستان میں یحییٰ خان کے کردار پر ہوتی۔ یحییٰ خان سے جنرل رانی کی جان پہچان اس وقت ہوئی جب وہ میجر تھے۔ جنرل رانی کا خاوند غلام رضا ڈی ایس پی تھا۔ خاوند کی وجہ سے وہ تھانیدارنی اور جنرل یحییٰ خان سے تعلق کی وجہ سے جنرل رانی کہلاتی تھیں۔ ایک دفعہ جنرل رانی نے فرید پراچہ کو بتایا کہ میرے پاس بھٹو اور یحییٰ کی ملاقاتوں کی ایک ایسی ریکارڈنگ موجود ہے جو ثابت کر سکتی ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار نہ مجیب ہے نہ یحییٰ بلکہ صرف بھٹو ہے۔ جنرل رانی ہمیشہ یحییٰ خان کو سادہ دل اور بھولا بھالا قرار دیتیں اور کہتیں کہ بھٹو نے مجھے جیل میں اس لئے ڈالا ہے کہ میرے پاس اس کی اور یحییٰ کی گفتگو کی کیسٹ ہے۔ فرید پراچہ کے مطابق انہوں نے جنرل رانی کو تجویز دی کہ ہم رہائی کے بعد آپ کو پنجاب یونیورسٹی میں بلائیں گے۔ وہاں ایک بڑی کانفرنس کا اہتمام کریں گے اور آپ وہاں وہ کیسٹ چلا دیں۔ سب معاملات طے ہو گئے جنرل رانی نے فرید احمد پراچہ کو اپنی بیٹی کا نمبر بھی دیدیا لیکن رہائی کے بعد جنرل رانی کے مصطفیٰ کھر کے ذریعہ حکومت کے ساتھ معاملات طے ہوگئے اور موصوفہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔
حامد میر کے مطابق پتہ نہیں جنرل رانی کے پاس کوئی کیسٹ موجود تھی یا نہیں لیکن ’’عمرِ رواں‘‘ میں یہ واقعہ پڑھنے کے بعد مجھے ایس ایم ظفر صاحب کی کتاب ’’میرے مشہور مقدمے‘‘ یاد آگئی۔ اس کتاب میں ایس ایم ظفر صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے جنرل یحییٰ خان کا بھی مقدمہ لڑا اور جنرل رانی کا بھی مقدمہ لڑا ۔جنرل رانی سے وابستہ یادوں کا اختتام بڑا دلچسپ ہے۔ ایس ایم ظفر لکھتے ہیں کہ جن دنوں جنرل رانی گجرات میں اپنے گھر پر نظربند تھیں تو انہوں نے اپنی نظربندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کیلئے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ قومی اسمبلی میں خواتین کی نشست پر الیکشن لڑنا چاہتی تھیں اور انکی بیٹی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنا چاہتی تھیں۔ ایس ایم ظفر نے انہیں پریس کانفرنس سے روک دیا اور نظربندی کے خلاف حکومت کو نوٹس بھیج دیا۔ کچھ دنوں بعد جنرل رانی کو رہائی مل گئی۔ اس دوران ایس ایم ظفر صاحب کی ٹویوٹا کار لاہور ایئرپورٹ سے چوری ہو گئی۔ جنرل رانی لاہور آئیں تو انہوں نے ایس ایم ظفر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس ملاقات کے کچھ دنوں بعد تھانہ سول لائنز لاہور نے ایس ایم ظفر کو اطلاع دی کہ آپ کی چوری شدہ کار برآمد ہو گئی ہے۔ انہوں نے اطلاع دینے والے پولیس افسر سے پوچھا کہ میری کار آپ کو کہاں سے ملی؟ انہوں نے جواب دیا یہ کار جنرل رانی کے بیٹے کے پاس تھی۔ ایس ایم ظفر صاحب نے اپنی کتاب کے اس چیپٹر کا نام ’’جنرل رانی‘‘ رکھا اور اس باب کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ جنرل رانی جنرل یحییٰ تک کیسے پہنچی اور میری کار جنرل رانی کے بیٹے تک کیسے پہنچی؟ نہ ایس ایم ظفر کو یہ پتہ چلا کہ ان کی کار جنرل رانی کے بیٹے کے پاس کیسے پہنچی نہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو یہ پتہ چلا کہ جنرل رانی کی بھٹو حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل ہوئی یا نہیں لیکن ایک بات کا پتہ انہیں ہونا چاہئے۔ جنرل رانی نے کوٹ لکھپت جیل میں اپنی بیٹی کا فون نمبر پراچہ صاحب کو دیا تھا۔
اس بیٹی کا ذکر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی بائیو گرافی ’’دی پیپلز مہاراجہ‘‘ میں بھی آیا ہے اور بھارتی میڈیا میں آج بھی یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا جنرل رانی کی بیٹی بھارتی پنجاب کی فرسٹ لیڈ ی ہے؟ جنرل رانی جنرل یحییٰ تک کیسے پہنچی اور جنرل رانی کی بیٹی اور سابقہ صحافی عروسی عالم کیپٹن امریندر سنگھ تک کیسے پہنچی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو فرید احمد پراچہ کی کتاب پڑھتے ہوئے ذہن میں آئے۔ کوئی ہے جو ان سوالات کا جواب دے؟
