چینی، دالوں نے پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ کیسے کیا؟

چینی، دالوں سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہونے پر مہنگائی کے طوفان سے ستائے پاکستانیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔چینی کی فی کلو تھوک قیمت 165 روپے ہونے کے بعد متعدد خوردہ فروشوں نے قیمت بڑھا کر 185 روپے فی کلو کر دی تھی، اسی طرح کچھ آئن لائن اسٹور آدھا کلو چینی کی قیمت 99 روپے، 5 کلو کی 905 روپے اور 2 کلو پیکٹ کی 375 روپے چارج کر رہے ہیں، چینی کی قیمتوں میں کوئی کمی یا استحکام نظر نہیں آ رہا ہے۔کراچی ہولسیلر گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے بتایا کہ حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آ رہی، جب سے نگران حکومت آئی ہے چینی کی قیمت 28 روپے بڑھ چکی ہے حالانکہ ای سی سی نے اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو چیک کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ درآمد کردہ دالوں کی فی کلو تھوک قیمت میں اوسطاً 20 روپے اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے، ایک دکاندار نے بتایا کہ مسور کی دال کی فی کلو قیمت 320 روپے سے بڑھ کر 360 روپے ہو گئی ہے، جبکہ ارہر کی دال 550 روپے فی کلو کے بجائے اب 600 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، مونگ اور چنے کی دال کی قیمت 320 روپے اور 280 روپے پر برقرار ہے حالانکہ اس کی تھوک قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین شیخ امجد رشید نے بتایا کہ مارکیٹ میں گھی / تیل کی 2 مختلف قیمتیں ہیں، گھی / تیل کی قیمتوں میں 25 روپے فی کلو / لیٹر کا اضافہ دیکھ رہا ہوں، پام آئل کی فی من قیمتیں 13 ہزار سے 13 ہزار 600 کے مقابلے میں گزشتہ 15 دنوں کے دوران بڑھ کر 15 ہزار 300 ہو گئی ہیں، ڈالر کی قدر میں بے لگام اضافے کے نتیجے میں گھی / تیل کی قیمتوں میں کم از کم 10 فیصد اضافہ ہوگا۔ملک میں پام آئل کی عام ماہانہ کھپت 2 لاکھ ٹن ہے لیکن تجارتی درآمد کنندگان نے ضرورت سے زیادہ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ ٹن درآمد کیا ہے، جس کی بندرگاہ سے کلیئرنس کے انتظار ہے۔سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار سے لے کر نگران حکومت تک معاشی صورتحال میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ ڈالر کا فغانستان میں غیر قانونی اخراج، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ پر کوئی کنٹرول نہ ہونے اور ڈالر کی آمد کی وجہ سے اب ڈالر کا بحران مزید خطرناک ہو گیا ہے۔ملک کی پام آئل کی درآمدات مالی سال 2022 میں 28 لاکھ ٹن (3.549 ارب ڈالر) سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 30 لاکھ ٹن (3.6 ارب ڈالر) ہو گئیں، مالی سال 2023 میں پام آئل کی فی ٹن اوسط قیمت 1178 ڈالر پر برقرار ہے جو اس سے پچھلے برس 1256 ڈالر تھی۔
