ڈاکٹرز کا کرونا وباء بارے حکومتی اقدامات پر تحفظات کا اظہار

ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس تیاری کے لیے شروع میں دو سے تین مہینے تھے لیکن انہوں نے جو اقدامات کیے اس کو اب ہم بھگت رہے ہیں۔
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) ، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اور دعا فاؤنڈیشن کے اراکین نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کی جانب سے شکایت کی جاتی ہے کہ مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی لیکن سہولیات کی فراہمی حکومت کا کام ہے اور اس کو دیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو دیکھنا چاہیے جو بستر بنائے گئے ہیں وہاں پورا انتظام ہے یا نہیں اور وہاں ڈاکٹروں کی تعداد پوری ہے یا نہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے لیے ایک اور تشویش ناک پہلو ہے کہ پاکستان میں طبی عملے کا کورونا مثبت ہونے کی شرح دنیا میں بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں صحیح سہولیات نہیں دی گئیں۔انہوں نےمزید کہا کہ اب ایک اور مسئلہ کھڑا ہوا ہے کہ کسی ہسپتال کے اندر مریض کے علاج میں تاخیر ہوتی ہے یا جو مریض فوت ہوجاتا ہے تو وہاں لواحقین ڈاکٹروں پر تشدد کرتے ہیں اور ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر دوہرے حملوں سے بہت پریشان ہیں اس لیے ایک تجویز آئی تھی کہ ڈاکٹر ہڑتال کریں لیکن اس وقت ہڑتال نہیں کرسکتے، اگر ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے تو انہیں جو تھوڑی کچھ سہولیات مل رہی ہیں وہ بھی نہ ملیں گی۔پیما کے اراکین نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جہاں بھی کووڈ-19 کا علاج کیا جارہا ہے، وہاں خاطر خوا سیکیورٹی فراہم کی جائے اورہسپتال انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے وارڈز کے باہر خاطر خوا تعداد میں سیکیورٹی موجود رہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تنظیم مطالبہ کرتی ہے کہ جو طبی عملہ علاج معالجے میں مصروف ہیں اگر انہیں ضرورت پڑتی ہے تو انہیں اولین ترجیح دی جائے اور ہسپتالوں میں ان کے لیے بستر مختص کیے جائیں تاکہ ان کی بہتر دیکھ بھال کی جائے گی، جب لڑنے والے فوجی کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ اگر میں بیمار پڑتا ہوں میری دیکھ بھال کرنے کے لیے کوئی موجود ہے تو کس ہمت اور جذبے سے کام کرے گا۔اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور نرسز کے لیے کچھ بستر مختص کرے کیونکہ وہ علاج معالجہ کرتے ہوئے بیمار پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی ہسپتالوں سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کو سہولیات مہیا کی جانی چاہیے۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ٹیسٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اس لیے مطالبہ ہے کہ ٹیسٹ کی سہولیات کو بڑھادی جائیں کیونکہ ڈاکٹر کسی مریض کو ٹیسٹ کا کہتا ہے تو وہ جگہ مارے پھرتے ہیں لیکن ان کا ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا کا ٹیسٹ نجی لیبارٹریز میں بہت مہنگا ہے لیکن جہاں مفت ہوتا ہے وہاں سفارش ہوتو ٹیسٹ ممکن ہوتا ہے ورنہ دھکے کھاتے ہیں۔
کورونا وائرس کوبیرونی سازش کہنے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا میں رپورٹس چلتی ہیں کہ کورونا وائرس ایک غیرملکی یا بل گیٹس، امریکا یا چین کی سازش ہے تو ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے کوئی محکمہ بنائے یا ایک ٹیم کو مخصوص کرے جو ان گمراہ کن افواہوں پر لوگوں کو مثبت طریقے سے سمجھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر کی نصف آبادی نہیں سمجھتی کہ کورونا واقعی میں ایک بیماری ہے اس کی وجہ سوشل میڈیا میں چلنے والا گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ٹیکا لگا کر مار دیں گے اور پیسے لینے کے لیے جھوٹ بولا جارہا ہے جو بالکل غلط ہے اور اس طرح کے پروپیگنڈے سے ٖڈاکٹروں کا مورال بھی گرجاتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ حکومت کم ازکم کراچی میں چین کی طرح عارضی ہسپتال قائم کرے تاکہ مریضوں کے رش کو کم کیا جاسکے۔انڈس ہسپتال کے ڈاکٹرسہیل اختر کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سندھ اور وفاقی حکومت سے ناراض اور احتجاج ہے کہ انہیں تین یا چار مہینے ملے تھے لیکن انہوں جو تیاری کی اس کو اب ہم بھگت رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک طرف مریضوں کی تعداد کو بڑھنے سے روکنا تھا اور دوسری طرف سہولیات کو بڑھانا تھا لیکن حکومت نے اقدامات نہیں کیے۔ڈاکٹروں نے کہا کہ وائرس اپنی علامات تیزی سے بدلتا ہے اور بچے جلدی متاثر ہوسکتے ہیں اس لیے بچوں کو شاپنگ اور دیگر مقامات پر نہیں لے کر جائیں اور اس پر ہم پابندی لگا سکیں۔انہوں نے والدین سے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگائیں۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ‘علاج سب کا ہوتا ہے، پورا پورا ہسپتال بند ہوجاتا ہے، سول ہسپتال کے ایک وارڈ میں مریض غیر متوقع طور پر داخل ہوئے اور بعد ٹیسٹ کیا گیا جن سے ڈاکٹروں کو لگا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وارڈ میں 10 سے 15 ڈاکٹر اور نرسز کام مصروف ہوگئے اور جب کام کرنے کے لیے کام نہیں تھا تو پورا وارڈ بند کردینا پڑا’۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ مریض اس لیے لڑتے تھے کہ جب کسی مریض کا انتقال ہوتا تھا تو تدفین کے پرانے ایس او پیز غیر منصفانہ اور غیر سائنسی تھے، ہم اس مسئلے کو اٹھایا اور کہا کہ میت کی غسل تک تھوڑا خدشہ رہتا ہے لیکن اس کے بعد لواحقین کے حوالے کریں تو لواحقین کو غصہ ہوتا تھا کہ مریض ہسپتال میں رہا تو ان کی شکل نہیں دیکھی اورجب انتقال ہوا تو بھی ان کی شکل نہیں دیکھی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں جب یہ مسئلہ حل ہوگیا تو لوگوں کے غم و غصے میں کمی آئی اور لڑنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
