ڈاکٹر ماہا علی کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف

ڈاکٹر ماہا علی کی بہن نے انکشاف کیا ہے کہ ماہا کو پہلے دوست جنید اور پھر بعد میں ڈاکٹر عرفان نامی شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں خود کشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کے کیس میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت اور انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی کی بہن کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ متوفیہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ماہا علی کو زیادتی کا نشانہ بنانے میں جنید نامی دوست اور ڈاکٹر عرفان نامی شخص ملوث ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عرفان کا اپنا ایک ذاتی کلینک ہے اور وہ ڈاکٹر ماہا کیساتھ ہی کام کرتا تھا۔ بہن کی جانب سے دیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنید نے ڈاکٹر ماہا کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
ایک دن جنید نے ماہا کو گھر بلایا اور نشہ آور چیز کھلانے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا ڈالا۔ ڈاکٹر ماہا نے اس حوالے سے اپنے دوست وقاص کو سب کچھ بتا دیا تھا۔ بہن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا نے خود اسے یہ تمام باتیں بتائی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے ڈاکٹر عرفان کو گرفتار کر لیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس میں متوفیہ کے والد نے 3 افراد کے خلاف گزری تھانے میں مقدمے کے اندراج کےلیے درخواست جمع کروائی۔
درخواست میں ڈاکٹر ماہا علی کے والد نے بیٹی کے دوس، ایک اسپتال کے ڈینٹسٹ اور ڈاکٹر کو نامزد کیا ہے اور ان افراد پر ماہا علی کو تشدد کا نشانہ بنانے، زخمی کرنے اور نشے کا عادی بنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ماہا کے والد نے دائر درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ان تینوں افرادکی جانب سے پریشان کیے جانے پر بیٹی نے خودکشی کی ہے۔ اس حوالے سے ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ خودکشی پر مقدمہ درج کرنے کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ خودکشی کی وجہ بننے والوں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن کا مزید کہنا ہے کہ درخواست پر پولیس افسران اور تفتیش کاروں سے قانونی مشاورت کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نجی اسپتال کی ڈاکٹرماہا کی مبینہ خودکشی کا واقعہ سامنے آیا تھا جس کے بعد سے پولیس تحقیقات جاری ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر ماہا کی فیملی اور دوستوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔2 روز قبل پولیس نے تصدیق کی تھی کہ ڈاکٹر ماہا کی موت اقدام خود کشی تھا۔
