کارٹون کریکٹر مکی ماؤس بالآخر ختم کیوں ہونے جارہا ہے؟

1928 میں پردہ سکرین پر متعارف کروائے جانے والا کارٹون کردار مکی مائوس اپنی تخلیق کے 95 برس مکمل کرنے کے بعد اب ختم ہونے جا رہا ہے، کیونکہ 2024 میں مکی مائوس کے کاپی رائٹس ایکسپائر ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ مکی ماؤس پہلی بار 18 نومبر 1928 کو کارٹون فلم ’سٹیم بوٹ وِلی‘ کے ذریعے منظرِ عام پر آیا تھا۔ ڈزنی کمپنی کے مالک والٹ ڈزنی نے مکی ماؤس کے کردار کے لیے اپنی آواز استعمال کی تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشہورِ زمانہ کارٹون کردار مکی ماؤس بہت جلد ’ڈزنی سٹوڈیو ‘چھوڑنے والا ہے، سٹوڈیو اس آئیکونک کارٹون کردار کے حوالے سے حاصل خصوصی رائٹس سے جلد محروم ہو جائے گا۔ امریکی کاپی رائٹس قوانین کے تحت 2024 سے مکی ماؤس پبلک ڈومین کے طور پر دستیاب ہوگا اور عام افراد بھی اسے اپنے تخلیقی کاموں کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
تاہم جب کاپی رائٹس ایکسپائر ہو جائیں گے تو ہر فرد اس کردار کو کسی قسم کی اجازت یا معاوضہ ادا کئے بغیر استعمال کر سکے گا۔ یاد رہے کہ مشہور کارٹون کردار ’مکی ماؤس’ ڈزنی کی شناخت بن گیا تھا۔ ڈزنی سٹوڈیو مکی ماؤس کو 130 سے زائد انگریزی فلموں میں استعمال کر چکا ہے۔
مکی مائوس کی معروف فلموں میں سٹیم بوٹ وِلی ، مکی ٹوائس اپون، مکی برتھ ڈے پارٹی، پلان کریزی، رن وے برین، تھرو دی مرر، گیٹ اے ہارس، اے گوفی مووی اور دیگر شامل ہیں۔
