کالعدم ٹی ٹی پی نے سوات حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی

کالعدم ٹی ٹی پی نے سوات میں غیر ملکی سفیروں کے قافلے کی سکیورٹی پر مامور پولیس وین پرحملے میں ملوث ہونےکی تردید کردی ہے۔

 گزشتہ روز محکمہ انسداد دہشت گردی نے مالم جبہ میں سفارت کاروں کی سیکیورٹی میں شامل پولیس وین کےقریب ہونےوالے بم دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کےخلاف درج کیا تھا۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 324، 353 اور 427 کےتحت درج کی گئی،مقدمے میں دھماکاخیز مواد ایکٹ کی دفعہ 3، 4 اور 5 جب کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی ہے۔

پاکستان پینل کوڈ سیکشن قتل، سرکاری ملازمین پرحملہ اور نقصان پہنچانے کےجرائم سے متعلق ہےجب کہ اے ٹی اے کا سیکشن 7 دہشت گردی کی کارروائیوں کےلیے 10 سال سے عمر قید تک کی سزا سےمتعلق ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کےمطابق کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے میں ملوث ہونےکی تردید کی ہے۔ٹی ٹی پی کی جانب سےجاری بیان میں کہاگیا کہ سوات میں غیر ملکی سفیروں پر حملے سےگروپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسری جانب سوات چیمبر آف کامرس، ٹریڈرز فیڈریشن، وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے حملےکی مذمت کی گئی۔

دریں اثناء شہید کانسٹیبل برہان خان کی نماز جنازہ پیر کو پولیس لائنز مینگورہ میں ادا کی گئی،انہیں سوات کےگاؤں شموزئی میں ان کےآبائی قبرستان میں سرکاری اعزاز کےساتھ سپردخاک کر دیاگیا۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نےسوات دھماکے کی مذمت کرتےہوئے پولیس حکام سےواقعے کی رپورٹ طلب کی تھی۔انہوں نے کہا تھاکہ دہشت گرد حملے میں شہید اہلکار کےاہل خانہ کی بھرپور مالی اعانت کی جائےگی، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائےگا۔

یادرہے کہ سوات میں مالم جبہ روڈ پر واقع جہان آباد کےعلاقے میں پولیس وین میں دھماکاہوا جس کےنتیجے میں چار اہلکار زخمی ہوگئے، زخمی اہلکاروں کو فوری اسپتال منتقل کیاگیا جہاں دوران علاج ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے دم توڑ گیا۔شہید اہلکار کی شناخت کانسٹیبل برہان کےنام سےہوئی ہے جب کہ زخمیوں میں سب انسپکٹر سرزمین،کانسٹیبل امان اللہ،کانسٹیبل حبیب گل اور ڈرائیوررحمت اللہ شامل ہیں۔

سوات دھماکے میں کون سے 23 غیر ملکی سفارتکار بال بال بچ گئے؟

Back to top button