کاکڑ کو برین ہیمرج نہیں ہوا تھا، سر پر بڑا زخم تھا: سرجن

اپنے سر پر پراسرار چوٹ لگنے سے انتقال کر جانے والے اینٹی اسٹیبلشمینٹ سینیٹر عثمان کاکڑ کے دماغ کا آپریشن کرنے والے نیورو سرجنز نقیب اللہ اچکزئی اور صمد پانیزئی نے کہا ہے کہ سی ٹی سکین میں کاکڑ کو برین ہیمرج ہونے کے کوئی آثار نہیں ملے کیونکہ ایسا ہونے سے دماغ کے اندر خون جم جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خون عثمان کاکڑ کے دماغ کے اندر نہیں بلکہ سر کے باہر جما تھا جو کہ برین ہیما ٹوما کہلاتا ہے جس کی صرف دو وجوہات ہو سکتی ہیں، پہلی یہ کہ ان کے سر پر کوئی آہنی چیز زور سے ماری گئی ہو اور دوسری یہ کہ وہ سر کے بل کسی آہنی چیز پر زور سے گرے ہوں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر صمد پانیزی نے کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں عثمان کاکڑ کے دماغ کا آپریشن کیا تھا جس کے بعد انہیں آغا خان اسپتال کراچی منتقل کر دیا گیا تھا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔
دوسری جانب مرحوم سنیٹر کے بیٹے خوشحال کاکڑ کی جانب سے اپنے والد کی پراسرار موت کو قتل قرار دیئے جانے کے بعد اب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی یہ الزام لگا دیا ہے کہ عثمان کاکڑ کی موت قدرتی نہیں ہے بلکہ ان کو حملہ کر کے قتل کیا گیا ہے۔ داوڑ کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ کے سر پر جتنی گہری چوٹ آئی ہے ہے وہ گرنے سے نہیں لگ سکتی اور ان کے بیٹے کے اس موقف میں کافی وزن لگتا ہے کہ ان کے والد کے سر پر کسی آہنی چیز سے وار کیا گیا ہو۔ یاد رہے کہ واقعے کے وقت عثمان کاکڑ اپنے کوئٹہ کے گھر میں موجود تھے اور ان کے آس پاس کوئی نہیں تھا۔ مرحوم سینیٹر کے بیٹے خوشحال خان خٹک کا کہنا ہے کہ ان کے والد پر کم از کم دو افراد نے مل کر حملہ کیا جسکے نتیجے میں ان کے پاؤں اور سر دونوں پر چوٹ کے نشان تھے۔
دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیئر رہنما عثمان کاکڑ کی موت طبعی ہے، اور ملک دشمن عناصر ان کی موت کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ مرحوم کے خاندان نے تحقیقات کے لیے رابطہ کیا تو حکومت بھرپور تعاون کرے گی۔لانگو نے یہ وضاحت عثمان کاکڑ کے بیٹے، رشتہ داروں اور پشتونخوا میپ کے بعض رہنماؤں کے اس بیان کے بعد جاری کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عثمان کاکڑ کی موت کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ انہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا گیاہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ 17 جون کو زخمی حالت میں کوئٹہ کے ایک ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ لیکن حالت خراب ہونے پر انہیں 19 جون کو ایئر ایمبولنس کے ذریعے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دو روز بعد انتقال کر گئے تھے۔
والد کے انتقال کے بعد کراچی کے نجی ہسپتال میں کارکنوں سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ نےالزام لگایا کہ ’ان کے والد کو سر پر بھاری چیز مار کر قتل کیا گیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات غلط ہے کہ عثمان کاکڑ کو زخم برین ہیمرج کے بعد گرنے سے لگا۔ گرنے کی صورت میں سر کے پچھلے، دائیں یا بائیں جانب چوٹ لگتی ہے مگر عثمان کاکڑ کے سر کے اوپری حصے اور پاؤں دونوں پر زخم لگے ہیں۔‘
عثمان کاکڑ کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ’گھر کی بیٹھک کے جس حصے میں وہ گرے ہوئے بے ہوشی کی حالت میں ملے، وہاں قالین ہونے کی وجہ سے اتنی شدید چوٹ لگنے کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’زبان بندی نہ کرنے پر انکے والد اور باقی گھر والوں کو بھی دھمکی آمیز پیغامات مل رہے تھے جنکا ذکر ان کے والد نے سینیٹ میں اپنی آخری تقریر میں بھی کیا تھا۔
کاکڑ کے رشتہ داروں کے الزامات کے بعد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کئی سینیئر رہنماؤں اور سینیٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے بھی انکی پراسرار موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پشتونخوامیپ نے اپنے بیان میں انہیں شہید کا خطاب دیا اور سات روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ عثمان کاکڑ کی میت کراچی سے قافلے کی صورت میں سڑک کے راستے کوئٹہ منتقلی کے دوران حب، وندر، بیلہ، وڈھ، خضدار، سوراب، قلات، مستونگ اور کوئٹہ سمیت دیگر مقامات پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے قافلے کا استقبال کیا اور میت والی ایمبولنس پر پھول کی پتیاں نچھاور کیں۔ پشتونخوامیپ کے سینیئر رہنماء عبدالرؤف لالہ نےکہا کہ ’عثمان کاکڑ کے گھر والوں نے انکی موت بارے جن خدشات کا اظہار کیا انکی تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈاکٹروں کے بیانات کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔‘
دوسری جانب وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ’عثمان کاکڑ کے خاندان میں سے کسی نے اب تک حکومت یا پولیس سے تحقیقات کے لیے رابطہ نہیں کیا اگر انہوں نے رابطہ کیا تو حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔‘ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ ’عثمان کاکڑ مدبر انسان اور عظیم سیاست دان تھے۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی ہر سطح پر ترجمانی کی، بلوچستان حکومت ان کے خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔‘’بلوچستان حکومت نے متاثرہ خاندان کو علاج معالجے اور کراچی منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر اور طیارے سمیت ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’عثمان کاکڑ کی موت پر ملک دشمن عناصر غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور معاملے کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔‘
اس موقع پر بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ ’کراچی کے جناح ہسپتال کے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا کہ عثمان کاکڑ کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود نہیں اور موت کی وجہ طبعی ہے۔‘
لیکن جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ ’ہسپتال نے اب تک عثمان کاکڑ کے موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا۔ ان کی موت طبعی ہے یا غیر طبعی، ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’عثمان کاکڑ کی لاش کا مکمل پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد میڈیکل ٹیم نے نہ صرف خود تمام کیمیکل نمونے لے کر کراچی میں واقع متعلقہ حکومتی لیبارٹری کو ٹیسٹ کے لیے بجھوا دیے بلکہ خاندان کی درخواست پر انہیں بھی تین جار اور دو سرنجز پر مشتمل نمونوں کا سیٹ بناکر دیا ہے تاکہ وہ کسی بھی آزاد لیبارٹری سے ٹیسٹ کراسکیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کہا جاتا ہے کہ عثمان کاکڑ سر پر چوٹ لگی تھی۔ ہمیں وہ جس حالت میں ملے ان کی سرجری ہوچکی تھی جس کی وجہ سے دکھائی دینے والے شواہد ختم ہوچکے تھے۔‘’ ہم نے کوئٹہ اور کراچی کے ہسپتالوں کا تمام ریکارڈ منگوالیا ہے اور پرانی سی ٹی سکین رپورٹس بھی حاصل کرلی ہیں۔ ہم نے خود بھی یہاں سی ٹی سکین کرایا ہے۔‘ سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ ’لیبارٹری سے کیمیکل سیمپلز کی رپورٹ ایک ہفتے سے دس دن تک مل جائے گی جس کے بعد پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔‘
دوسری جانب عثمان کاکڑ کا آپریشن کرنے والے نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے قرار دیا ہے کہ ’مرحوم کی موت برین ہیمرج سمیت کسی طبعی وجہ سے نہیں بلکہ سر پر لگنے والے زخم سے دماغ کو نقصان پہنچنے سے ہوئی۔‘ ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کے مطابق سر پر ایسی چوٹ کسی بھی وجہ سے لگ سکتی ہے۔ سی ٹی سکین رپورٹ میں برین ہیمرج ثابت نہیں ہوا، بعض اوقات جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو گرنے سے سر پر چوٹ لگ جاتی ہے یعنی سیکنڈری انجری ہوتی ہے مگر عثمان کاکڑ کے کیس میں infarction یعنی خون کی سپلائی متاثر ہونا، کوئی ہیمرج ، بلڈ پریشر، خون کا پتلا ہونے کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچنے کے شواہد سی ٹی سکین رپورٹ میں نہیں ملے۔‘ عثمان کاکڑ کا آپریشن کرنے والے ایک اور نیورو سرجن ڈاکٹر صمد پانیزئی نے بتایا کہ ’عثمان کاکڑ کو برین ہیمرج نہیں بلکہ برین ہیما ٹوما ہوا۔ ‘’برین ہیمرج میں دماغ کے اندر خون جم جاتا ہے جبکہ برین ہیما ٹوما میں چوٹ کی صورت میں دماغ کے اوپر خون جمتا ہے۔ عثمان کاکڑ کے دماغ کے اوپر خون جما ہوا تھا یہ صرف دو وجوہات کی بنا پر ہوسکتا ہے یا انہیں کسی چیز سے مارا گیاہے یا وہ کسی چیز پر گرے ہیں۔‘
یاد رہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے عثمان کاکڑ کی اچانک موت پر شکوک و شبہات اٹھائے گے ہیں اور واقعے کے حقائق اور معاملے کی چھان بین کے لیے پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عثمان کاکڑ کے جسم کے کسی بھی حصے پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھے اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ جسم پر موجود زخم قدرتی تھے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس رپورٹ میں حتمی طور پر موت کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور کہا گیا کہ موت کی اصل وجہ کیمیائی اور ہسٹوپیتھولوجی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہوسکے گی جس کے لیے نمونے لے لیے گئے ہیں۔
جناح پوسٹ گریجویٹ کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ سر میں مبینہ چوٹ کے بارے میں فی الحال تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سرجری ان کی زندگی کے دوران ہی کی گئی تھی، البتہ سی ٹی اسکین کے ساتھ ساتھ اینٹی مارٹم اور پوسٹ مارٹم دونوں ہی دستیاب ہیں جبکہ ہسپتال کے ریکارڈ کے علاوہ کیمیائی تجزیے اور ہسٹوپیتھولوجی سے متعلق رپورٹس کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عثمان کاکڑ کے اہل خانہ نے بھی آزادانہ جانچ کے لیے نمونے دینے کی درخواست کی تھی جو انہیں فراہم کر دیے گئے ہیں۔
