کراچی: موسلادھار بارش, کئی علاقے زیر آب،2 نوجوان ہلاک

شہرقائد کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔
کراچی میں لانڈھی، کورنگی، فیڈرل بی ایریا، انڈسٹریل ایریا، شاہ لطیف ٹاؤن، بن قاسم، قائد آباد سمیت مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش جاری ہے۔نکاسی آب کے موثر انتظامات نہ ہونے کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہوگیا۔ شادمان ٹاؤن کے اطراف میں صورتحال خوفنک ہوگئی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق تمام رہائشی آبادی زیر آب آگئی ہے۔
This is Sakhi Hassan Graveyard Road, Shadman Town Sector 14-B #Karachi #KarachiRain pic.twitter.com/VhwfTX0uye
— abdullah zahid (@AbdullahhZahid) August 21, 2020
میمن گوٹھ کے علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک ہوگئے۔ ڈاکس کے علاقے مچھر کالونی میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 170 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی ہے۔
#Karachirain #Karachi View from my aunts window near Nazimabad pic.twitter.com/b4AxVWN2ay
— Hamza (@00hmz) August 21, 2020
تھرپارکر سمیت سندھ بھر میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی۔ تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ بھر میں گرج چمک کے ساتھ تیزبارشوں کا سلسلہ دو روز تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
دوسری طرف شہر قائد میں لوڈ مینجمنٹ اور منٹیننس کے نام پر بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔کے الیکٹرک بن قاسم پاور پلانٹ میں بجلی کی پیداوار میں کمی ہوگئی جسے جواز بنا کر گیارہ سو فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بارش میں صورتحال مزید خراب ہوگئی اور کے الیکٹرک کے مزید 40 فیڈر ٹرپ ہوگئے۔فیڈر ٹرپ ہونے سے ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، لیاقت آباد، نصرت بھٹو کالونی، سہراب گوٹھ، گلشن اقبال، گلشن حدید، رزاق آباد، گڈاپ، کاٹھور میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
گارڈن میں لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہریوں نے کے الیکٹرک دفتر پر دھاوا بول دیا۔ مشتعل مظاہرین نے کے الیکٹرک کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی اور گارڈز سے ہاتھا پائی ہوئی۔ مظاہرین نے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور شدید احتجاج کیا۔
