کراچی کا میئر کون بنے گا؟

تحریر:محمد عرفان صدیقی
بشکریہ:روزنامہ جنگ
جن لوگوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا ہے انہوں نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب بھی وہ کسی بین الاقوامی شہر میں لینڈ کرتے ہیں تو رَن وے کے اطراف کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے ، خوبصورت ہر ی بھر ی گھاس لگی ہوگی ، درخت لگے ہوں گے ، شہر کے نام کے ساتھ خوش آمدیدی تحریر درج ہوگی ، یعنی ملک جتنا بھی غریب ہو وہ باہر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی خوبصورتی سے متاثر کرنے کے لئے ایئرپورٹ کو بھی سجا سنوار کررکھتا ہے مگر آپ کراچی آئیں ،جہاز لینڈ کرتے وقت گہرے رنگ کی جلی ہوئی گھاس، چار وں طرف بے ہنگم مٹی ،صفائی ستھرائی کرنے والا کوئی نہیں ، غرض ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی یتیم شہر میں داخل ہوگئے ہیں ،ایئرپورٹ سے باہر نکلیں توشاہراہ فیصل کی جانب مڑتے ہی پرانی اور خستہ حال عمارتوں کا ایک جال نظر آتاہےجن کا پلاسٹر ٹوٹ ٹوٹ کر گررہاہے ، عمارتوں سے رنگ بہہ چکا ہوگا ،ایسا لگے گا کسی جنگ زدہ شہر میں داخل ہوگئے ہیں ،شہری حکومت نہ ہونے کا نقصان یہی ہے کہ شہر کو کوئی اپنا نہیں سمجھتا، پھر کراچی کے رہائشی علاقوں کی گلیاں بیس بیس سال سے نہیں بنائی گئیں ، لہٰذا شہر کے مہنگے ترین علاقے بھی آفت زدہ علاقے محسوس ہوتے ہیں ،کراچی کا آئی بلاک جہاں دو سو چالیس گز کا مکان چار، پانچ کروڑ سے کم کا نہیں وہاں پچھلے بیس سالوں سے گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کسی جنگ زدہ ملک کی سڑکیں لگتی ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ، بفرزون ، نارتھ کراچی ، نیوکراچی جیسے غریب علاقے کے لوگ تو یہی سمجھتے ہوں گے کہ سڑکیں اور گلیاں ان کے نصیب میں ہی نہیں ہیں ،پھر شہری اداروں کا یہ عالم ہے کہ ایک ادارہ اگر خوش قسمتی سے کوئی سڑک تعمیر کر بھی دیتا ہے تو چند دنوں بعد دوسرا ادارہ آکر وہ سڑک یہ کہہ کر کھود دیتا ہے کہ اس نے سڑک کے نیچے کوئی پانی ، بجلی ، گیس یا کوئی دوسری لائن ڈالنی ہے ،لہٰذا کروڑوں کی تعمیر سے بنی سڑک چند ماہ بعد ہی دوبارہ کھد جاتی ہے ،کراچی کے اکثر علاقوں کے لوگ اب اسی کو اپنی قسمت سمجھنے لگے ہیں کہ پانی صرف ٹینکروں سے ہی ملنا ہے ،لائنوں کا پانی شاید پچاس فیصد شہریوں کو ہی حاصل ہوگا ،لیکن ٹینکر مافیا پورے شہر کو پانی پہنچاتاہے ،چوری ، ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں اتنی عام ہے کہ عام آدمی بھی روزانہ ایک عدد موبائل فون ہاتھ میںلئے ڈاکوؤں کے انتظار میں رہتا ہے کیونکہ پولیس چیف نے کہا ہے کہ ڈاکوؤں سے الجھنا نہیں ہے بلکہ جو ہے اس کے حوالے کرنا ہے ،کراچی کے ان حالات میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو شاید ایم کیوایم نے اپنی کارکردگی اور عوامی مقبولیت دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تینوں گروپوں کے انضمام کے باوجود آخری وقت میں حلقہ بندیوں کا بہانہ بنا کر بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی ،لہٰذا مقابلہ پھر پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی اور تحریک انصا ف کے درمیان ہوا ، بلدیاتی انتخابات سے قبل رائے عامہ کے مختلف جائزے کروائے گئے جن میں جماعت اسلامی کو مقبولیت میں پہلے نمبر پر دکھا یا جارہا تھا جس کی وجہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم کی کراچی کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے جدوجہد اور جماعت اسلامی کے سابق میئر نعمت اللہ خان کی شاندار کارکردگی ہے جس نے عوام کو حافظ نعیم کے پلڑے میں وزن ڈالنے پر مجبور کیا ہوگا لیکن پھر انتخابات ہوئے اور نتائج آنا شروع ہوئے عوام کو دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات یاد آگئے جب نتائج کو دو دن تک روک کے رکھا گیا اور پھر کراچی سے تحریک انصاف کو قومی و صوبائی اسمبلی کی بہت ساری نشستیں پلیٹ میں رکھ کر دے دی گئیں ، یہی رجحان حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی دیکھنے میں آیا کہ غیر حتمی نتائج کے مطابق کراچی کی 235یونین کونسلز کی نشستوں میں سے پیپلز پارٹی حیرت انگیز طور پر ترانوے نشستیں لےکر پہلے نمبر پر رہی، جماعت اسلامی چھیاسی نشستیں لے کر دوسرے جب کہ تحریک انصاف صرف چالیس نشستیں لے کر تیسرے نمبر پر رہی۔ بین الاقوامی تنظیم فافن نے بھی بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے،دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنا میئر بنانے میں کامیاب ہوگی یا جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ مل کر میئر بنائے گی اور پیپلز پارٹی جس کی صوبے میں حکومت بھی ہے ،کی مخالفت کا سامنا کرے گی جس سے نقصان کراچی کے عوام کا ہی ہوگا ،صورتحال بہت مشکل اورپیچیدہ ہے ۔ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا میئر کون ہوگا لیکن دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کراچی کے عوام کا حامی و ناصر ہو ۔
