’’کرونا کے بعد دنیا بھر میں ذیابیطس مریضوں میں اضافہ‘‘

کرونا کی وبا کے پھیلائو اور اس سے ہونے والی لاکھوں اموات کے بعد دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، زیادہ تر تعداد ٹائپ ون مریضوں کی بتائی جا رہی ہے۔
دنیا بھر میں کرونا کی وبا کا آغاز دسمبر2019 کے اختتام پر چین سے ہوا تھا اور جنوری2020 تک یہ وائرس دیگر ممالک تک پھیل گیا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اسے گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت نے 30 جنوری 2020 کو کرونا کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا اور پھر ایک ماہ بعد 12 مارچ 2020 کو اسے ’عالمی وبا‘ قرار دیا گیا تھا۔تین سال بعد رواں برس 6 مئی کو عالمی ادارہ صحت نے کرونا کی گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
کرونا کی وبا کے دوران سخت پابندیوں اور کاروبار زندگی محدود ہو جانے کی وجہ سے کئی امراض میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اب ایک اپنی نوعیت کی منفرد اور جامع تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران دنیا بھر کے نوعمر افراد اور کم سن بچوں میں ذیابیطس ٹائپ ون کے مرض میں تیزی دیکھی گئی۔
طبی جریدے ’جاما نیٹ ورک‘ میں شائع کینیڈین ماہرین کی تحقیق کے مطابق کرونا کے آغاز کے 12 ماہ بعد بچوں میں ٹائپ ون ذیابیطس کی شرح میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا، تحقیق کے لیے ماہرین نے دنیا کے مختلف ممالک کی طبی تحقیقات اور ڈیٹا کا جائزہ لیا اور انہوں نے مجموعی طور پر 42 رپورٹس کا ڈیٹا دیکھا۔
ماہرین نے مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کے کیسز کا مطالعہ کیا، ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض بھی شامل تھے جبکہ ان میں بالغ افراد کا ڈیٹا بھی شامل تھا۔
تاہم بعد ازاں ماہرین نے صرف بچوں میں کرونا کی وبا کے دوران ذیابیطس ٹائپ ون کے بڑھنے کے رجحانات کو نوٹ کرکے نتیجہ اخذ کیا کہ وبا کے بعد اس میں انتہائی تیزی دیکھی گئی۔تحقیق کے دوران سعودی عرب، کویت، بھارت، امریکا، برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کے بچوں میں ذیابیطس ٹائپ ون کے کیسز کو دیکھا گیا۔
کرونا سے 12 ماہ قبل بچوں میں ذیابیطس ٹائپ ون کے بڑھنے کی کیا شرح تھی اور کرونا کے 12 ماہ بعد اس میں کیا تبدیلی آئی؟ نتائج سے معلوم ہوا کہ کرونا سے ایک سال قبل ہی دنیا بھر کے بچوں میں ذیابیطس ٹائپ ون کے بڑھنے کی شرح میں تین فیصد اضافہ ہوچکا تھا لیکن کرونا کے ایک سال بعد اس میں بہت زیادہ یعنی 12 فیصد تک اضافہ ہوا۔
اسی طرح کرونا کے دوسرے سال بچوں اور کم عمر افراد (جن کی عمریں 19 سال سے کم تھیں) میں ذیابیطس ٹائپ ون کے بڑھنے کی شرح 27 فیصد تک جا پہنچی تھیں۔تحقیق میں بچوں اور کم عمر افراد میں ذیابیطس ٹائپ ون بڑھنے کے واضح اسباب بیان نہیں کیے گئے، تاہم بتایا گیا کہ بیماری متعدد مسائل کی وجہ سے بڑھی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ اہم مفروضہ یہ ہے کہ بچوں کا گھر تک محدود ہونا ہی ان کی بیماری کا سبب ہوگا، کیوںکہ کھیلنے کودنے کے دوران بچوں کو بہت سارے ایسے جراثیم ملتے ہیں جو انہیں متعدد بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

Back to top button