کرکٹ بورڈ نے محمد عامرکی ریٹائرمنٹ کو ذاتی فیصلہ قرار دیدیا

فاسٹ باﺅلر محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی اطلاعات کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے آج دوپہر میں محمد عامر سے رابطہ کیا اس دوران 29 سالہ فاسٹ باﺅلر نے چیف ایگزیکٹو پی سی بی کو تصدیق کی ہے کہ وہ مزید بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی خواہش نہیں رکھتے، لہٰذا آئندہ کسی بھی انٹرنیشنل میچ کےلیے ان کے نام پر غور نہ کیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ محمد عامر کا ذاتی فیصلہ ہے اور پی سی بی اس کا احترام کرتا ہے، لہٰذا اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ قومی ٹیم کے فاسٹ باﺅلر محمد عامر نے احتجاجاً انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ بورڈ اور مینجمنٹ کے رویے سے دلبرداشتہ محمد عامر نے احتجاجاً ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتا نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عامر نے ریٹائرمنٹ کی تصدیق کی اور کہا کہ موجودہ ٹیم مینجمنٹ مجھے ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے اور میں موجود صورتحال میں ذہنی دباﺅ برداشت نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مصباح الحق اور وقار یونس ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ ہی اس وقت تک میں نہیں کھیلوں گا ان کا کہنا تھا کہ پرفارمنس کے باوجود مجھ پر طنز کیا جاتا ہے اور موجودہ کوچز دبے لفظوں میں کہتے ہیں عامر نے دھوکا دیا۔ عامر نے الزام عائد کیا کہ انہیں منصوبہ کے تحت سائیڈ لائن کیا گیا اور ان کے بارے میں تاثر قائم کیا گیا کہ وہ ملک کے لیے نہیں کھیلنا چاہتے واضح رہے کہ گزشتہ سال محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
وہاب ریاض نے بھی کھیل کے طویل ترین فارمیٹ سے کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے دونوں کرکٹرز شدید تنقید کی زد میں تھے‘قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے بھی عامر اور وہاب دونوں کی ریٹائرمنٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عامر اور وہاب کی ریٹائرمنٹ سے مشکل دوروں میں پاکستان کو تجربہ کار باﺅلرز کی کمی محسوس ہو گی۔ گزشتہ دنوں دورہ نیوزی لینڈ کے لیے قومی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تو وہاب ریاض تو اس ٹیم میں شامل تھے لیکن محمد عامر جگہ بنانے میں ناکام رہے اس معاملے پر جب محمد عامر سے پوچھا گیا تھا تو انہوں نے طنزاً جواب دیا تھا کہ مصباح صاحب ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب قومی ٹیم کے باﺅلنگ کوچ وقار یونس نے اپنے ایک بیان میں محمد عامر کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس کی وجہ ورک لوڈ نہیں تھی وقار یونس نے کہا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ عامر نے ورک لوڈ کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، میں نے انہیں حال ہی میں فرنچائز کرکٹ میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا اور وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لہٰذا ریڈ بال کرکٹ نہ کھیلنا ان کا اپنا فیصلہ ہے۔
2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا یافتہ محمد عامر کو 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 50 ٹی 20 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے محمد عامر کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 2009 میں اسی انگلش سرزمین پر ٹی20 میچ سے ہوا تھا جس میں 2010 میں انہیں اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ محمد عامر نے جولائی 2009 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھا، انہوں نے 36 ٹیسٹ میچز میں 30۔47 اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں کیریئر کی ابتدا میں ہی کم عمر میں رفتار، سوئنگ اور سیم کے ساتھ عمدہ باﺅلنگ کرنے پر محمد عامر کا مستقبل تابناک نظر آتا تھا لیکن پھر 2010 میں لارڈز ٹیسٹ نے ناصرف اس نوجوان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا بلکہ پاکستان کو بھی ایک بہترین باﺅلر کی خدمات سے محروم کردیا۔
24 جولائی 2010 کو لارڈز میں شروع ہونے والے میچ کے ابتدائی روز محمد عامر نے 6 انگلش بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھا کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 50 وکٹیں مکمل کر لیں لیکن پھر یہی میچ اس کے لیے ایک سیاہ داغ بن گیا میچ کے دوران ایک برطانوی اخبار دی نیوز آف دی ورلڈ نے بک میکر مظہر مجید کی پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر اسپاٹ فکسنگ کرنے کی ویڈیوز جاری کر دیں۔
ایک ویڈیو میں مظہر مجید نے پیشگوئی کی کہ کپتان سلمان بٹ کی زیرِ نگرانی محمد عامر اور محمد آصف کس اوور کی کون سی گیند پر نو بال کروائیں گے تینوں کھلاڑیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران سٹے بازوں سے بھاری رقوم وصول کرکے مخصوص اوقات میں جان بوجھ کر نو بالیں کرائیں تینوں پر یہ جرم ثابت ہوا، عدالت نے جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ عامر پر پانچ سال، آصف پر سات سال اور کپتان سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی لگادی، بعد ازاں بٹ کی پانچ اور آصف کی سزا میں دو سال کی تخفیف کردی گئی تھی۔
