کشمیر کی آئینی حیثیت بحال ہونے کا امکان ختم

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک طویل ملاقات کے بعد ان افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت بحال کرنے والی ہے۔ ملاقات میں مودی نے کشمیری قیادت پر واضح کیا کہ انڈیا کے زير انتظام کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جائے گی۔
ملاقات کے بعد کشمیری رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا کہ ریاست جموں کشمیر میں پہلے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور نئی حد بندی کے بعد اسمبلی انتخابات منقعد کرائے جائیں گے جبکہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست بنانے کے بارے میں غور انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔
کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے نریندر مودی سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ بعض رہنماؤں نے مودی سے ملاقات میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ کیا لیکن بتایا گیا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے اس کا فیصلہ اب عدالت پر ہی چھوڑ دینا چاہيے۔ غلام نبی آزاد نے بتایا کہ کشمیر کو دوبارہ ریاست بنانے کے مطالبے پر وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کشمیر میں جمہوریت کے عمل کی بحالی کی پابند ہے لیکن پہلے جموں کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا کام پورا کیا جائے گا جس کے بعد الیکشن منعقد کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ہند نواز کشمیری رہنماؤں کی یہ میٹنگ وزیراعظم نریندر مودی نے بلائی تھی۔ یہ ملاقات وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک چلی۔ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے تقریباً دو برس بعد مودی سے کشمیری رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔اس ملاقات میں سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔ ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’یہ میٹنگ بہت اچھے ماحول میں ہوئی۔‘ وزیراعظم مودی نے اچانک کشمیری رہنماؤں کی یہ میٹنگ کیوں بلائی؟کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی وجوہات کے علاوہ سرحد پر چین سے کشیدگی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی اس میٹنگ کا سبب تھی۔ اس میٹنگ کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ اس میں علیحدگی پسند رہنماؤں کو نہيں بلایا گیا تھا کیونکہ بیشتر علیحدگی پسند رہنما یا تو جیل میں ہیں یا نظربند ہیں۔ریاست کی ہند نواز جماعتیں ریاست کے اختیارات اور خودمختاری کی نہیں بلکہ اپنے کھوئے ہوئے حقوق کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ ملاقات سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کشمیر میں انتخابات کے لیے سیاسی عمل شروع کرنا چاہتی ہے لیکن اس میٹنگ کے نتائج کا کشمیر میں کیا ردعمل ہوتا ہے یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چل سکے گا۔
دوسری جانب اسلام آباد کے سفارتی ذرائع کے مطابق مودی سرکار کا واضح ارادہ یہ ہے کہ چند ماہ بعد جموں و کشمیر کے ریاستی تشخ جسے بھارت میں ”State Hood“ کہا جاتا ہے، کو بحال کر دیا جائے۔ تاکم جس ”ریاست“ کو بحال کیا جائے گا یہ وہ ”ریاست“ نہیں ہوگی جو 1948 تک ڈوگرہ راج کے زیر تسلط ریاست جموں وکشمیر کہلاتی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے گلگت اور بلتستان کے علاوہ موجودہ آزادکشمیر کے علاقے بھی اس ریاست کا حصہ تھے۔ مقبوضہ کشمیر کا لداخ بھی اس کا اہم ترین علاقہ تھا۔ ذرائع کے مطابق جس ”ریاست“ کو اب ”بحال“ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے اسے لداخ سے الگ کر دیا گیا ہے۔ وہ دلی سے براہ راست چلائی Union Territory ہی رہے گا یعنی وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہو گی۔ لداخ سے الگ کیے گے جموں وک شمیر کو اب ایک صوبے کی حیثیت میں بحال کرنے کا ارادہ ہے جو آئینی اعتبار سے بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح اس ملک کا“ اٹوٹ انگ ”ہو گا۔ لیکن بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو فراہم خصوصی حیثیت اب بحال نہیں ہوگی۔ یوں اپنے تئیں بھارت کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کو حل ”کردے گایعنی جموں وکشمیر اب بطور ”صوبہ“ بحال ہو گا۔
