کورونا وائرس: سیکرٹری صحت توقیر شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

وزارت صحت جہاں ایک طرف مہلک کورونا وائرس سے خطرے کے باعث متحرک ہے وہیں وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر توقیر شاہ کو چارج سنبھالتے ہی سیکریٹری صحت کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔ یہ ایک ہفتے میں اس طرح کی دوسری برطرفی ہے کیوں کہ 4 مارچ کو اس وقت کے سیکریٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش ملک (بی ایس-22) کو ہٹا کر ڈاکٹر توقیر حسین شاہ (بی ایس-21) کو انچارج ایڈیشنل سیکریٹری کی حیثیت سے تعینات کیا گیا تھا۔
ایک ایسے موقع پر جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کے سنگین ہنگامی مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے تو پاکستان میں اس جان لیوا صورت حال سے نمٹنے کےلیے بھی سیاست ہو رہی ہے۔ اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی سفارش اور وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بعد، حکومت نے 4 مارچ کو ڈاکٹر توقیر شاہ کو سیکریٹری صحت مقرر کیا تھا تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کےلیے اقدامات کیے جا سکیں۔ پاکستان کو درپیش اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کےلیے توقیر شاہ کی اہلیت اور تجربے نے کورونا وائرس کے خلاف موثر جنگ شروع کرنے کےلیے انہیں ایک بہترین چوائس بنا دیا۔ تاہم، ایک ہفتے بعد ہی یعنی 11 مارچ کو حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ڈاکٹر توقیر کو کسی غلط اقدام کی وجہ سے نہیں بلکہ افسر کے تقرر کے طریقہ کار پر پارٹی کے اندرونی سیاسی رد عمل کی وجہ سے او ایس ڈی بنا دیا۔ وزیراعظم عمران خان پر دباؤ تھا کہ انہوں نے ایک ایسے افسر کو اس کام کےلیے کیوں مقرر کیا جس نے شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ کے دنوں میں ان کے پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا تھا۔
بظاہر آخری تبدیلی پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے کی گئی تنقید کے بعد سامنے آئی چونکہ ڈاکٹر توقیر حسین شاہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے اور وہ سال 2014 میں ماڈل ٹاؤن آپریشن کے وقت سابق وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
ادھر پی اے ٹی کے سربراہ نے ڈاکٹر توقیر شاہ کی تعیناتی پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘ماڈل ٹاؤن قتل عام کے مجرموں اور ماسٹر مائنڈز کو ماضی کی حکومتوں میں پکڑے جانے کا خوف تھا لیکن اب وہ عمران خان کی حکومت میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتے’۔
انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘میرے پاس وزیراعظم عمران خان کو ماڈل ٹاؤن کیس میں شامل مرکزی کرداروں اور مجرموں کو اپنی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے پر مبارک باد دینے کا اظہار کرنے کےلیے الفاظ نہیں ہیں’۔
ایسا نہیں تھا کہ وزیراعظم کو ڈاکٹر توقیر کو سیکریٹری ہیلتھ مقرر کرنے سے قبل ان کے متعلق معلومات نہیں تھیں وزیراعظم کو ڈاکٹر توقیر شاہ کا پس منظر معلوم تھا لیکن ان کی قابلیت اور تجربہ زیادہ تھا اور ساتھ میں وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کی زیر قیادت قائم کی گئی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے بھی ڈاکٹر توقیر کے تقرر کی سفارش کی تھی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا تھا کہ توقیر کو ماڈل ٹاؤن سانحے کی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور نہ ہی عدالت نے حکومت سے ایسا کچھ کرنے کےلیے کہا ہے۔ شہزاد ارباب کی زیر قیادت جس اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے ڈاکٹر توقیر کے تقرر کی سفارش کی تھی اس کے ارکان میں وزیراعظم کے مشیر برائے سول ریفارمز ڈاکٹر عشرت حسین، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ شامل تھے۔
علاوہ ازیں وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق دونوں سیکریٹریز کو بہت اہم وقت پر ہٹایا گیا کیوں کہ یہ کورونا وائرس کے خلاف کوششوں کو دیکھ رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا کی نظریں ہم پر ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمیں یہیں یقین نہیں ہے کہ سیکریٹری صحت کون ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر توقیر حسین شاہ شہباز شریف کے قریبی تھے لیکن وہ بہت قابل تھے اور کچھ ہی دنوں میں انہوں نے وزارت سے متعلق تمام مسائل کو سمجھ لیا تھا۔
تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘ہم یہ بھی سن رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ان کی تعیناتی سے ناخوش ہے کیوں کہ یہ ان کےلیے مشکل ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس تعیناتی کا دفاع کریں’۔
علاوہ ازیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہم سن رہے ہیں کہ ڈاکٹر تنویر احمد قریشی 3 ماہ میں ریٹائر ہوجائیں گے تو اس عرصے میں اگر ان کو تبدیل نہیں کیا جاتا تو حکومت کو ایک اور سیکریٹری صحت کو تلاش کرنا ہوگا’۔
اس تمام صورت حال پر جب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ سیکریٹری صحت کی تعیناتی اور ہٹانے سے متعلق انہوں نے کچھ نہیں کیا۔
