ائیرپورٹس پر قرنطینہ سینٹرز نہیں بنا سکتے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے ائیرپورٹس پر قرنطینہ سینٹر کے قیام کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ انہوں نے یہ بات سندھ حکومت کی جانب سے ائیرپورٹس پر ناقص اسکریننگ کے الزامات کے ردعمل میں کہی۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ائیرپورٹس پر صوبوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، جتنے لوگ باہر سے آتے ہیں ان کےلیے ملک کے ائیرپورٹس پر قرنطینہ سینٹرز کا قیام ممکن نہیں تھا، ہم نے اس کےلیے ایمرجنسی کور کمیٹی بنائی ہے جس کی روزانہ میٹنگ ہوتی ہے، سب کے ساتھ مشورے کے بعد ایک ایس او پی بنایا ہے اسی کے تحت کام ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے کئی مریضوں کو ائیرپورٹس پر ہی شناخت کیا اور بعض وہاں سے گزرنے کے بعد شناخت ہوئے، اگر آپ بیرون ملک سے آرہے ہیں تو ممکن ہے کہ ائیرپورٹ پر آپ میں کوئی علامات نہیں ہوں لیکن پھر بھی ائیرپورٹ پر ہم مسافروں کو ہدایات دیتے ہیں کہ علامات کی صورت میں کہاں اطلاع دینا ہے۔
مشیر صحت کا کہنا تھا کہ نہیں پتا وزیراعلیٰ سندھ کی سطح پر نیچے کس طرح چیزیں بتائی جارہی ہیں، ہمیں صحت کے معاملے پر ہر طرح کی سیاست سے بالا ہوکر کام کرنا چاہیے، یہ ہماری حکمت عملی ہے اور سب صوبے متفق ہیں۔
معاون خصوصی نے بتایا کہ بلوچستان میں ایمرجنسی بنیادوں پر پوائنٹس بنائے، وہاں کی صورت حال مختلف ہے، تفتان میں 3 ہزار افراد کو قرنطینہ کیا ہوا ہے، ہم انہیں 14 روز سے پہلے نہیں جانے دے رہے، اگر ہم صرف تنقید ہی کرنا چاہیں تو کسی پر بھی کرسکتے ہیں، ہم نے جو اقدامات کیے وہ بہترین ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے پاس اتنے کم کیسز ہیں، آنے والے دنوں میں صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اس حوالے سے فیصلے صوبوں کے ساتھ مل کر فیصلے کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کورونا پر بات ہوئی تھی، وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک لمبی میٹنگ کی جس میں منصوبہ بندی پر بات ہوئی، اس سلسلے میں کچھ فیصلے ہوئے ہیں جو آنے والے دنوں میں عوام تک پہنچ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا ائیرپورٹ پاکستان کا مصروف ترین ائیرپورٹ ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ وہاں پر تعداد زیادہ ہے جب کہ دیگر صوبوں میں بھی فالو اپ ہورہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر میسجز آئے کہ ہماری اسکریننگ نہیں ہوئی ہم نے ان لوگوں کے نام ٹیم کو بھیجے اور ان کے ہیلتھ ڈکلیریشن فارم ڈھونڈ نکالے، یہاں صرف غلط فہمی ہے، ایک اسکریننگ اسکینر کے ذریعے ہے جس میں تھرمو گن ماتھے پر لگانے کی ضرورت نہیں، ایسے مسافر جو تھرمو اسکین سے گزریں انہیں تھرمو گن کی ضرورت نہیں، اس لیے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تھرموگن استعمال نہیں ہوا تو اسکریننگ نہیں ہوئی، ہم نے نئے تھرمو اسکینر کراچی اور اسلام آباد میں لگائے ہیں اس لیے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں لیکن ہمیں پتا ہے لوگوں کی اسکریننگ ہورہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جتنے بھی پاکستان میں کیسز ہیں یہ سب مسافر ہیں، یہ سب اپنے جسم میں وائرس لے کر آئے ہیں اب تک کسی کو وائرس ٹرانسفر نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے اب تک 20 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 2 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔
