کونسے سیاستدانوں کیلئے 2024 کا الیکشن آخری ثابت ہوا؟

پاکستان میں الیکشن کے موقع پر دھاندلی کا شور کوئی نئی بات نہیں، اور یہ شور اب بھی جاری ہے، لیکن موجودہ انتخابات بہت سے سیاستدانوں کے لیے آخری ثابت ہوا ہے اگرچہ بہت سے صف اول کے سیاستدان ان انتخابات میں شکست کے بعد سیاست سے باہر ہوتے نظر آ رہے ہیں اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ کبھی پارلیمانی نظام میں واپس نہیں آ سکیں گے، مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف ایسے رہنما ہیں جو الیکشن جیتنے کے باوجود مستقبل کی انتخابی سیاست سے دور ہو رہے ہیں اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وہ تمام اختیارات اپنے بھائی اور بیٹی کو سونپ کر بتدریج پارلیمانی سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں گے۔آٹھ فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان جیل میں تھے اور کئی مقدمات میں ملنے والی سزائے قید گزار رہے تھے جس کی وجہ سے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔ ان کی جماعت پر امید ہے کہ انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی تعداد میں کامیابی اور بھرپور عوامی ہمدردی کے باعث عمران خان جلد باہر آئیں گے اور ان کے خلاف مقدمات ختم ہو جائیں گے تاہم جب تک ان کے خلاف مقدمات ختم نہیں ہوتے، ان کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کے سرپرست اعلیٰ جہانگیر ترین بھی ان بڑے سیاسی ناموں میں سے ایک ہیں جو اس سال کے انتخابات کے نتیجے کی وجہ سے سیاست سے دور ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اپنے حلقے این اے 6 سے قومی اسمبلی کا انتخاب آزاد امیدوار بشیر خان سے 20 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے تھے جس کے بعد انہوں نے جماعت کی امارت سے بھی استعفٰی دے دیا تھا۔ اگرچہ ان کا اسعتفٰی قبول نہیں کیا گیا لیکن ان کی امارت کی مدت خاتمے کے قریب ہے جس کے بعد ان کے دوبارہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے اور جیتنے کے امکانات کم ہیں۔سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا و وزیر دفاع پرویز خٹک بھی انتخابات میں شکست کے بعد اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پارلیمیٹیرینز) کی سربراہی سے مستعفی ہو گئے ہیں۔وہ نوشہرہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این 33 نوشہرہ سے آزاد امیدوار سید شاہ احد علی کے ہاتھوں 70 ہزار سے زائد ووٹوں اور صوبائی اسمبلی کے پی کے 87 نوشہرہ سے آزاد امیدوار خلیق الرحمان سے 26 ہزار ووٹوں سے ہارے تھے۔کئی مرتبہ قومی اسمبلی میں پہنچنے والے اور متعدد بار وفاقی وزیر رہنے والے راولپنڈی کے سیاستدان شیخ رشید احمد بھی حالیہ انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ بظاہر ان کے بھی قومی سیاست میں واپسی کے امکانات کم ہیں کیونکہ وہ بھی ابھی جیل میں ہیں۔ایک وقت میں مسلم لیگ نواز کے انتہائی اہم رہنما سمجھے جانے والے چکری کے چوہدری نثار علی خان اس مرتبہ بھی آزاد حیثیت میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 2018 کے انتخابات میں چوہدری نثار علی خان نے آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا اور اس وقت بھی وہ قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔چارسدہ کے حلقے این اے 24 سے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ بھی ہار گئے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ 2018 کے انتخابات میں بھی جیتنے میں ناکام رہے تھے۔ ان کا بھی قومی اسمبلی میں واپس آنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور بھی ایک مرتبہ پھر پشاور کے روایتی حلقے سے ہار گئے ہیں اور ان کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ یہ ان کا آخری الیکشن تھا۔ ان میں گجرات سے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، جھنگ سے فیصل صالح حیات، بدین سے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور زوالفقار مرزا اور مری سے شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔سیاسی تجزیہ کار احمد اعجاز، جو پاکستان کے تمام قومی اور صوبائی حلقوں کے امیدواروں پر تحقیق کرتے ہیں، کا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاسی ٹرینڈز بدلنے سے ماضی کے کئی مضبوط امیدوار اب قصہٗ پارینہ بن رہے ہیں۔انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس کی بڑی وجہ بدلتے ہوئے سیاسی رحجانات اور عوام کی زیادہ آگاہی اور ان میں احتساب کے عمل کا فروغ ہے۔ جو بڑے نام ان انتخابات میں شکست کھا گئے ہیں ان کا واپس آنا اب بہت مشکل ہے۔

Back to top button