امریکی سینیٹرز کا پاکستانی الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ؟

امریکہ کے بعض قانون سازوں نے صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ اینٹنی بلنکن کو خط لکھ کر امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات تک پاکستان کی نئی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے۔
امریکی قانون سازوں کی طرف سے یہ خط ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی شفافیت کے بارے میں ملک کے اندر اور باہر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ آٹھ فروری کو ملک میں صاف اور شفاف انداز میں انتخابات منعقد کیے گئے۔ دوسری جانب کانگریس کے 30 سے زائد اراکین نے بائیڈن حکومت کے نام ایک خط میں پاکستان کے عام انتخابات کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے پاکستان سے ان کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک طرف دفتر خارجہ اس خط بارے کوئی بھی ردعمل دینے سے گریزاں ہے وہیں دوسری جانب کانگریس کے ارکان کی جانب سے بائیڈن حکومت کے نام کے اس خط کی اہمیت اور اس کے اثرات مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں حکومت کے فیصلے صرف امریکی کانگرس کے مطالبہ پر نہیں کئے جاتے ہیں اور امریکی سینیٹرز کے پاکستان پر الیکشن دھاندلی کے الزامات بے معنی ہیں اور ایسی الزام تراشیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
پاکستان کے سابق سفیر عاقل ندیم کہتے ہیں کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت کی طرف سے پاکستان میں بننے والی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم ان کے خیال میں ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ کسی الیکشن کی بنیاد پر آنے والی حکومت کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔
عاقل ندیم کہتے ہیں کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو خط امریکی ریاست ٹیکساس سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کسار کی طرف سے لکھا گیا ہے جہاں پاکستانی نژاد امریکی شہری کافی سرگرم ہیں اور ان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت کے حامیوں کی بڑی تعداد ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے امریکہ کے سرکاری اور سیاسی حلقوں میں رائے اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے لابنگ بھی جاری ہے۔ عاقل ندیم کے خیال میں امریکہ کے بعض حلقوں میں پی ٹی آئی کے بارے میں مثبت رائے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم کئی مرتبہ ارکانِ کانگریس اپنے حلقوں میں بسنے والے شہریوں کے اپنے آبائی ممالک سے متعلق تحفظات سے حکومت کو آگاہ کرنے کے لیے بھی ایسے اقدامات کرتے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی خط پر امریکہ انتظامیہ عمل نہیں کرتی ہے کیونکہ ان کے پیشِ نظر امریکہ کے مفادات ہوتے ہیں۔ اگر کسی بھی ملک میں مبینہ طور مشکوک انتخابات کے نتیجے میں کوئی حکومت منتخب ہو کر آ جائے ایسا نہیں ہوتا ہے کہ اسے تسلیم نہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بعض قانون سازوں کی طرف سے پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کے بارے میں خط سے دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نئی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے جو امریکہ کے لیے اہم معاملات کو براہ رست ڈیل کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے سے متعلق مثبت عندیہ دیا گیا ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ اس معاملے میں آئی ایم ایف کو امریکہ کی آشیر آباد حاصل ہو گی۔تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کا محکمۂ خارجہ پہلے ہی پاکستان کے انتخابات کے بارے میں شکایات کی تحقیقات کی بات کر چکا ہے۔
