کپتان حکومت کا ساتھ دینے پر ادارے مشکل میں

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسوقت عمران خان کی ناکام حکومت کے ساتھ تعاون کی بھینٹ چڑھ رہی ہے اور اسے سارے انڈے ایک ٹوکری میں ڈالنے کی سزا مل رہی ہے۔ اسٹیبلشمینٹ اب چاہے ملکی صورتحال پر تاسف سے ہاتھ ملے یا اس ابتری پر دکھ کا اظہار کرے، وہ اس حکومت کی پشت پناہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب اس مقام سے اسکی باعزت واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ میڈیا کو غلام بنا کر اسکے ذریعے تین برس تک مثبت رپورٹنگ کروانے کے باوجود ملک کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کا الزام اب اسی اسٹیبلشمینٹ کے سر ہے۔ حنیف کے مطابق اب اگر چند لوگ اس حکومت کی طرفداری سے ہاتھ کھینچ بھی لیتے ہیں تو کئی ہاتھ ان کے گریبان تک پہنچنے والے ہیں اور کئی سوال ان کی راہ میں حائل ہونے والے ہیں۔ اسلیے اب قومی ادارے حکومت کے ساتھ تعاون کے گرداب میں بڑی طرح پھنس چکے ہیں اور اب ان کے لیے فرار ممکن نہیں ہے۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ جب سب فریق اپنے، اپنے بیانیے کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہوں اور کوئی بھی جنبش کرنے پر راضی نہ ہو تو ایسے حالات میں صرف بہادری کی کوئی مثال ہی صورت حال کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ سیاسی جمود کو سیاسی جد و جہد میں تبدیل کرنا بہت کٹھن کام ہے۔ اب واحد حل یہ ہے کہ کوئی سیاسی فریق ایسی دلیری سے کام لے جو اس صورت حال کو پلٹ کر رکھ دے۔ ابھی تک کی صورت حال میں جرات کا یہ سہرا نواز شریف، مریم اور مولانا فضل الرحمن کے سر سجتا ہے۔ اسلیے کہ وہ جس نظریے پر چل رہے ہیں اس کے لیے شجاعت بھی درکار ہے اور سرمدی ولولہ بھی۔ دہاؤ کے جبر و استبداد کے خلاف آواز اٹھانا سہل نہیں۔ لیکن دلیری کی یہ داستان صرف ان تین لوگوں تک موقوف نہیں۔
عمار مسعود کے مطابق اس داستان شجاعت میں ملک کے بہادر صحافیوں کے زخم خوردہ بدن، جسٹس وقار سیٹھ کے دلیرانہ فیصلے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی شجاعت، حاصل بزنجو کی ہمت، پرویز رشید کی جمہوری سوچ، فرحت اللہ بابر کا استدلال، رضا ربانی کے دلائل، مشاہد اللہ خان مرحوم کا دلیرانہ جذبہ اور سینیٹر لالا عثمان کاکڑ کے جنازے میں شریک لوگوں کی انکھوں سے گرتے اشک بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یاد رکھیں، خوف اور جبر کے ماحول میں شجیع لوگوں کی بہادری ہی قوموں کو گرداب سے نکالتی ہے، انہیں جمہوریت کی راہ پر ڈالتی ہے، سیاسی جمود کو سیاسی جدوجہد میں ڈھالتی ہے۔
عمار مسعود کے مطابق اس وقت ملک کا سیاسی نقشہ عجب جمود کا منظر پیش کر رہا ہے۔ لگتا ہے سب سیاسی اور غیر سیاسی کھلاڑی اپنے، اپنے بیانیے کا شکار ہو چکے ہیں۔ کسی کو صورت حال میں تبدیلی گوارا نہیں۔ بساط کے سب کھلاڑی اپنے کہے کی گرفت میں ہیں۔ کوئی اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر رہا۔ کسی کو اپنے بیانیے سے ”یو ٹرن“ مقصود نہیں۔ یہ سوچنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ سیاسی جمود کیسے تخلیق ہوا اور اس سے نکلنے کی صورت کیا ہے؟ دنیا کی تاریخ ایسے مشکل مقامات پر کیا حل تجویز کرتی ہے؟ اور ہماری اپنی تاریخ کس راستے کی طرف نشاندہی کرتی ہے؟
موجودہ حکومت ”کرپشن کرپشن“ کی رٹ میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ ان کی اپنی صفوں میں چاہے کرپشن کی جتنی مرضی کہانیاں ہوں یہ مخالفین پر کرپشن کے الزامات لگانے سے، انہیں چور، ڈاکو، لٹیرا کہنے سے باز نہیں آ سکتے۔ اس لیے کہ انہوں نے ووٹ ہی اس بات کے لیے ہیں۔ انہوں نے قوم کو سمجھایا کہ اگر حاکم اعلی کرپٹ نہ ہو تو ملک ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں، کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اب بقول خان صاحب کے مصاحبین کے خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں تو جانے کیوں ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
عمار کا کہنا ہے کہ سرکاری کرپشن کی کہانیوں میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر ادارہ سرنگوں ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن عمران خان اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے اس لیے قاصر ہیں کہ انہیں ”کرپشن کے خاتمے کا چورن“ ہی بیچنا ہے اور جب انہوں نے اس چورن کی فروخت بند کردی ان کی اپنی ”ہٹی“ بند ہو جائے گی۔ اس لیے حالات چاہے کچھ بھی ہوں حکومت وقت جب تک قائم ہے ان کی زبان پر کرپشن اور لوٹ مار کے احتساب کو نعرہ ہی رہے گا۔ عمران خان اگر چاہیں بھی تو اس نعرے سے نہیں نکل سکتے اور الزامات گھڑنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔
عمار کے مطابق مسلم لیگ نون ”ووٹ کو عزت“ دینے کے حصار میں قید ہے۔ پورے ملک کے لوگوں نے اس نعرے پر لبیک کہا۔ جماعت چاہے کوئی بھی ہو جمہوری سوچ کے سیاسی کارکن اب ووٹ کو عزت دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب ہر اپوزیشن لیڈر کی ایک ایک حرکت کو اسی نظر سے جانچا جا رہا ہے۔ کسی بیان میں اگر ووٹ کی عزت کے بیانیے سے ذرا سا بھی انحراف ہوتا ہے تو عوام اس شخصیت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ عوام میں جمہوری سوچ پیدا کرنا ایک کار دگر ہے مگر اس جمہوری سوچ کو قائم رکھنا اور خود اس میزان پر پورا اترنا اس سے بھی مشکل کام ہے۔ اب مسلم لیگ نون کا ووٹر ووٹ کو عزت دینے کے درپے ہے اور اس کے لیڈران اگر چاہیں بھی تو اس نظریے سے انحراف نہیں کر سکتے۔ کسی ڈیل کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔
انکے مطابق پیپلز پارٹی، سندھ حکومت کے گرداب میں ہے اور اس کی ساری سیاست، ساری جدوجہد سندھ حکومت تک محدود ہے۔ دوسرخ جانب مولانا فضل الرحمن اور دیگر چھوٹی جماعتیں بڑی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جو قوت رکھنے کے باوجود کوئی قومی سطح کی تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ ان کی پوزیشن ”تیل دیکھو اور تیل کی دھار“ دیکھنے تک محدود ہے۔ ان کی توقعات ملک کی بڑی پارٹیوں سے ہے۔ انہی کے بیانیے پر ان کی سیاست کا انحصار ہے۔ یہ سب منتظر ہے ایسی صورت حال کی جہاں ان کی اپنی اساس بھی قائم رہے، سیاست کے دھارے کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے اور پاکستانی جمہوریت کے نام پر بٹا بھی نہ لگے۔
