کپتان حکومت کے وزرا پر کرپشن کے الزامات کا نیا ریکارڈ

وزیر اعظم عمران خان کے تین سالہ دور حکومت میں جو نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے وہ کابینہ کے ممبران پر سب سے ذیادہ کرپشن کے الزامات، سب سے زیادہ استعفوں اور سب سے ذیادہ برطرفیوں کا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے اسے کپتان حکومت کا کریڈٹ قرار دیتے ہیں کہ اس نے اتنے بڑے پیمارے پر وزرا اور ارکان کابینہ کو کرپشن کے الزامات پر عہدوں سے ہٹایا۔ تاہم دوسری طرف ناقدین اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر وزرا کچھ عرصے بعد دوبارہ حکومت کا حصہ بن گئے۔
وزیراعظم عمران خان کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ وہ ایک کرپشن مخالف بیانیہ لے کر اقتدار میں آئے تھے لیکن ان کی حکومت کے دوران نہ صرف ان کے کئی وزرا پر کرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں بلکہ اب تو راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں خود ان کا اپنا نام بھی آ چکا ہے۔ چنانچہ اسوقت پاکستانی سوشل میڈیا پر کپتان حکومت کے وزراء پر لگنے والے کرپشن کے الزامات زیر بحث ہیں جن کا خلاصہ ایک ٹویٹر صارف نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
خزانے سے حفیظ شیخ نکلا، ادویات سے عامر کیانی نکلا، چینی سے جہانگیر ترین نکلا، کے الیکٹرک سے عارف نقوی نکلا، آٹے سے خسرو بختیار نکلا، پٹرول سے ندیم بابر نکلا، پیزے سے عاصم باجوہ نکلا، چندے سے علیمہ باجی نکلی، کرونا میڈیسن و ماسک سے ڈاکٹر ظفر مرزا نکلا، ھاؤسنگ سوسائٹیز سے علیم خان نکلا، رنگ روڈ سے پہلے زلفی بخاری، غلام سرور خان اور عثمان بزدار نکلے اور اب خود عمران خان برآمد ہو گیا۔ آگے آگے دیکھیے، کیا کیا نکلتا ہے۔۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ سے مبینہ کرپشن کے الزام پر تازہ ترین فراغت کپتان کے لاڈلے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کی ہوئی ہے جنہوں نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں نام آنے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ لیکن وہ کپتان کی حکومت کے پہلے کابینہ ممبر نہیں ہیں جنہوں نے کرپشن سکینڈل میں نام آنے پر استعفیٰ دیا ہے، اس سے قبل کئی وفاقی وزرا متنازع امور میں نام آنے پر مستعفی ہو چکے ہیں۔
اگست 2018 میں پی ٹی آئی کے برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں چھ بار بڑے رد و بدل سامنے آئے۔ جبکہ کئی وزرا اور حکومتی عہدیدارن مستعفی ہوئے یا عہدے سے علیحدہ کیے گئے جن میں اعظم سواتی، بابر اعوان، جہانگیر ترین، علیم خان، عامر کیانی، اجمل وزیر، سمیع اللہ چوہدری، ظفر مرزا ، ندیم بابر، فردوس عاشق اعوان اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ شامل ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین اسے موجودہ حکومت کا کریڈٹ قرار دیتے ہیں کہ اتنے بڑے پیمارے پر وزرا و ارکان کابینہ کو کرپشن یا متنازع ہو جانے پر عہدوں سے ہٹایا گیا، جبکہ گزشتہ حکومتوں میں سکینڈل سامنے آنے کے باجود بھی کارروائی نہیں کی جاتی تھی۔ تاہم دوسری طرف مبصرین اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر وزرا کچھ عرصے بعد دوبارہ حکومت کا حصہ بن گئے جن میں اعظم سواتی، بابر اعوان، علیم خان اور فردوس عاشق اعوان شامل ہیں۔ لہازا احتساب کا حکومتی دعوی ہوا ہو جاتا ہے۔
ملک کی تین بڑی جماعتوں کے ادوار حکومت میں کرپشن پر وزرا اور حکومتی عہدیداران کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں سب سے زیادہ وزراء کرپشن الزامات کا شکار ہوئے۔
مارچ 2008 میں پیپلز پارٹی تیسری بار برسر اقتدار آئی تو ماضی کے کرپشن الزامات نے اس کا پیچھا اب بھی نہ چھوڑا۔ صرف ایک سال بعد دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کی طرف سے جاری کردہ متنازع قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او کے خاتمے کے ذریعے پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری سمیت متعدد کابینہ ارکان اور رہنماوں کے خلاف کرپشن کے کیسز بحال کر دیے جس سے حکومت شدید مشکلات کا شکار ہو گئی۔ این آر او کے ذریعے مشرف نے جنوری 1986 سے اکتوبر 1999 تک سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو کرپشن منی لانڈرنگ جیسے کیسز میں عام معافی دے دی تھی۔ این آر او کے خاتمے کے بعد پارٹی سربراہ آصف زرداری کے خلاف سوئس کیسز بحال ہونے کا راستہ کھل گیا، لیکن بطور صدر انہیں استثنیٰ حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی تھی۔ تاہم اپریل 2012 میں سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسی بنا پر توہین عدالت کی سزا سنائی تھی کہ انہوں نے صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا تھا۔ اسی کیس کی بنا پر جون 2012 میں یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
اسکے علاوہ پیپلز پارٹی کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو مشہور زمانہ میموگیٹ سکینڈل کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ میمو گیٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حسین حقانی نے امریکی افواج کے سربراہ کو خط لکھ کر پاکستان میں ممکنہ مارشل لا کا راستہ روکنے کی درخواست کی تھی۔ حقانی نے الزامات کی تردید کی تھی تاہم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ جنوری 2013 میں سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت کئی عہدیداران کی رینٹل پاور کیس میں گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ لیکن عدالت نے بعد میں گرفتاری کے حکم پر عمل درآمد نہیں کروایا تھا۔ اس کیس میں راجہ پرویز اشرف اور دیگر پر بجلی بنانے والے کمپنیوں سے ’کک بیکس‘ لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کی انہوں نے تردید کی تھی۔ تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوتے ہی نیب نے راجہ پرویز اشرف اور دیگر پیپلز پارٹی رہنماوں کو طلبی کے نوٹس بھیج دیے تھے۔ گویا پیپلز پارٹی کے پورے دور حکومت میں کرپشن کے باعث کسی وزیر کو خود سے نکالا نہیں گیا نہ ہی کسی نے خود استعفیٰ دیا کیوں کہ ان کیسز کے پیچھے جنرل کیانی اور احمد شجاع پاشا کا ہاتھ تھا۔
مسلم لیگ نواز کے تیسرے دور حکومت میں آغاز میں تو کرپشن کا کوئی کیس نہیں بنا۔ تاہم پارٹی سربراہ نواز شریف کی وزارت عظمی پانامہ سکینڈل کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں گئی
جب انہیں غیر ملکی اقامہ رکھنے پر نااہل قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح مسلم لیگ نواز کے دور میں 2015 میں مرحوم مشاہد اللہ سے فوجی اسٹیبشملنٹ کے خلاف بیان دینے پر استعفیٰ لیا گیا، جبکہ ڈان لیکس تنازعے پر 2016 میں پرویز رشید سے وزارت اطلاعات واپس لے لی گئی۔ اس کے بعد نومبر 2017 میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد سے فیض کی زیر گرانی کروائے گے فیض آباد دھرنا مظاہرین کے مطالبے پر استعفیٰ لے لیا گیا۔ تاہم مسلم لیگ نواز کے دور میں بھی کرپشن سکینڈل کی بنیاد پر کسی وزیر کو برطرف کیا گیا نہ ہی استعفیٰ لیا گیا، بلکہ عدالتی احکامات کے باعث 2017 میں نواز شریف کی وزارت عظمی گئی۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خاتمے کے بعد پارٹی کے صدر شہباز شریف سمیت کئی سابق کابینہ ارکان کے خلاف نیب کیسز بنے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں جن میں شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال وغیر نمایاں ہیں تاہم ابھی تک کرپشن کا کوئی کیس ثابت نہیں ہو پایا۔
اگست 2018 میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کی جماعت کرپشن کے خاتمے کے منشور کے ساتھ حکومت میں آئی تھی تاہم حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف سکینڈل سامنے آنا شروع ہو گئے تھے جن پر فوری ایکشن بھی لیا جاتا رہا۔ دسمبر 2018 میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو اسلام آباد میں سی ڈی اے کی زمین پر ناجائز قبضے اور اپنے پڑوسی کے خلاف اختیار کے ناجائز استعمال کے الزامات کے بعد مستعفی ہونا پڑا تھا۔ تاہم صرف چار ماہ بعد یعنی اپریل 2019 میں اعظم سواتی کو کیس ختم ہونے کے بعد دوبارہ سے کابینہ میں شامل کرکے پارلیمانی امور کا وفاقی وزیر مقررکر دیا گیا تھا۔ اسی طرح ستمبر 2018 میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نندی پور ریفرنس کی تحقیقات کے باعث وزارت سے مستعفی ہو گئے تھے تاہم احتساب عدالت سے بریت کے بعد انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کر لیا گیا تھا۔
فروری 2019 میں نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں پنجاب کے سینیئر وزیر اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست علیم خان کو گرفتار کر لیا جس کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفی دے دیا لیکن رہائی اور بریت کے بعد اپریل 2020 میں ان کی بھی صوبائی کابینہ میں واپسی ہو گئی۔ اسی طرح اپریل 2019 میں اس وقت کے وزیرصحت عامر محمود کیانی کو بھی عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ ان پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے سکینڈل کے حوالے سے نیب کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ پھر اپریل 2020 میں گندم اور چینی کے بحران کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں لائی گئیں اور کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے مشیر شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا جب کہ ‏جہانگیر ترین کو بھی چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ خسرو بختیار سے فوڈ سیکورٹی کی وزارت واپس لے کر ان کا قلمدان تبدیل کیا گیا۔ وزیراعظم کے ترجمان شہباز گل نے تصدیق کی تھی کہ کابینہ میں تبدیلیاں چینی اور آٹے سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کی وجہ سے کی گئی ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے آٹا اور چینی بحران سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں اپنا نام آنے پر اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا۔ تاہم ان وزراء میں سے بھی ابھی تک کسی پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو پایا۔ لیکن عمران خان کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ وہ ایک کرپشن مخالف بیانیہ لے کر اقتدار میں آئے تھے لیکن ان کی حکومت کے دوران نہ صرف ان کے کئی وزرا پر کرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں بلکہ اب تو راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں خود ان کا اپنا نام بھی آ چکا ہے۔

Back to top button