کپتان کا پرویز الٰہی کو سپیکر شپ سے فارغ کرنے کا منصوبہ

وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کی بڑھتی ہوئی بلیک میلنگ سے تنگ آکر سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کو انکے عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے غور و حوض شروع کردیا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت صرف درجن بھر ممبران کی اکثریت پر قائم ہے جن میں سے دس کا تعلق قاف لیگ سے ہے۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کی قیادت کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے، مسلسل بلیک میل کرنے اور اتحاد سے باہر آنے کی دھمکیوں سے تنگ آکر وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ قاف لیگ کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو فارغ کروا کر تحریک انصاف کے کسی رکن کو نیا اسپیکر منتخب کروایا جائے۔ اس حوالے سے طریقہ کار کے علاوہ ایسے فیصلے کے فائدے اور نقصان کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے تجاویز طلب کی ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل اس حوالے سے اپنے قریبی ساتھی جہانگیر خان ترین سے بھی رائے مانگی تھی تاہم جہانگیر ترین نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کردیا تھا کہ چوہدری پرویز الہی کی جگہ کسی دوسرے شخص کو اسپیکر پنجاب اسمبلی لگایا جائے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور وزیراعظم میں دوریوں اور اختلافات کی ایک بڑی وجہ سپیکر چوہدری پرویز الہی کی ممکنہ تبدیلی کا معاملہ بھی ہے۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مسلم لیگ قاف کی قیادت کی جانب سے خود پر مسلسل دباؤ ڈالے جانے سے تنگ آ چکے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ مسلم لیگ قاف اور نون لیگ کی جانب سے پنجاب حکومت پر شب خون مارے جانے سے پہلے تحریک انصاف خود پیش قدمی کرے اور بلیک میل کرنے والی اتحادی جماعت قاف لیگ سے پیچھا چھڑا لے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے درجن سے زائد اراکین اسمبلی سپیکر چوہدری پرویز الہی کی تبدیلی کی صورت میں تحریک انصاف کا ساتھ دے سکتے ہیں تاکہ قاف لیگ کے دس ووٹوں کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔
یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کے لیے گورنر اور وزیر اعلی پنجاب کو خصوصی ٹاسک دیا ہے اور اس حوالے سے سے چھ فروری کو اسلام آباد میں ان دونوں شخصیات سے ایک اہم ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کپتان نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے معاملات طے کرانے والے اپنے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کو بھی اس معاملے پر منانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جہانگیر ترین نے وزیراعظم کے سپیکر پنجاب اسمبلی ہٹاؤ منصوبے پر کام کرنے کی حامی بھرلی تو ممکنہ طور پر تحریک انصاف پنجاب میں قاف لیگ کو بڑا سرپرائز دے سکتی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ قاف کو بھی وزیر اعظم کے خطرناک ارادوں کی بھنک پڑ گئی ہے یہی وجہ ہے کہ قاف لیگ کی قیادت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانہ ہوچکے ہیں اور جاتے جاتے وزیراعظم کو مشورہ دے گئے ہیں کہ وہ اتحادیوں کی نیت پر شک کرنا بند کر دیں۔ اسی طرح سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے بھی تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو چودھری برادران کا طرز سیاست بالکل پسند نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی جماعت کے بعض رہنماؤں کے مسلسل اصرار کے باوجود وزیراعظم عمران خان چوہدری برادران سے ملنے سے گریزاں ہیں اور مستقبل قریب میں بھی کپتان اور قاف لیگ قیادت کی ملاقات کے امکانات خاصے محدود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان اسپیکر پنجاب اسمبلی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے منصوبے پر کب عمل درآمد شروع کرتے ہیں اور اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
