کپتان کی ساکھ خطرے میں: دوہری شہریت والے فارغ کرنا ہوں گے

ماضی میں دوہری شہریت رکھنے والوں کو کابینہ میں شامل کرنے اور انہیں ملکی قسمت کے فیصلے کرنے کی اجازت دینے کے مخالف وزیر اعظم عمران خان کی اپنی کابینہ میں دوہری شہریت رکھنے والے سات معاونین خصوصی سامنے آنے کے بعد اب انکے پاس اسکے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا کہ وہ ان لوگوں کو کابینہ سے فوری فارغ کریں اور اپنی رہی سہی ساکھ بچانے کی کوشش کریں۔
پاکستانی قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوں میں سات غیر ملکی شہریت والے معاون خصوصی کا انکشاف ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان تمام اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید کی زد میں بھی ہیں اور ان سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے اعلانات کی روشنی میں قول و فعل کے تضاد کو ختم کریں اور دوہری شہریت رکھنے والے تمام کابینہ ممبران کو فورا برخاست کریں۔
عمران خان کے ناقدین نے سوشل میڈیا پر ان کی نواز شریف دور میں کی گئی تقاریر وائرل کردی ہیں جن میں وہ واضح طور پر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ دوہری شہریت رکھنے والے فیصلہ ساز پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے اور انہیں کسی حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ماضی میں کپتان کا کہنا تھا کہ بطور کابینہ رکن ایسے افراد کی ملک کے اہم فیصلوں اور دستاویزات تک رسائی ہوتی ہے جو مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل اپنے ماضی کے ویڈیو کلپس میں کپتان یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ ’اس بارے میں پاکستان تحریکِ انصاف کا موقف بڑا صاف ہے کہ اگر آپ کے پاس دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہے تو آپ کو اسمبلی میں نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ جب آپ دوسرے ملک کا پاسپورٹ لیتے ہیں آپ کو اس ملک کے لیے حلف لینا پڑتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جتنے بڑے سیاستدان ہیں جن کے اربوں روپے اور جائیدادیں باہر پڑی ہیں وہ سب بیچ کے پاکستان آئیں۔۔ جن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے وہ یہاں سیاست کرے۔‘
وزیراعظم کی ان تقاریر کی روشنی میں سوشل میڈیا ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ملک کے وزیراعظم کے قول اور فعل میں تضاد ہو گا تو اس کی ساکھ صفر ہو جائے گی لہذا اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے عمران خان کو فوری طور پر دوہری شہریت والے معاونین خصوصی کو برطرف کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مہمان اداکار ہیں جو ملک کو ڈبونے کے بعد جہاز پکڑیں گے اور نکل جائیں گے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کپتان دور حکومت میں پاکستان کا قومی سلامتی کا مشیر معید یوسف بھی ایک غیر ملکی شہریت رکھنے والا آدمی ہے۔ ناقدین کا کہنا یے کہ ایک دوہری شہری رکھنے والا بقول عمران کے دوسرے ملک کے ساتھ وفاداری رکھتا ہے۔ اگر کپتان کہ ماضی کے اپنے بیانات کو مدنظر رکھا جائے تو معید یوسف کو فوجی کمانڈروں اور جی ایچ کیو تک رسائی کے ساتھ پاکستان کے اہم قومی سلامتی کے راز تک رسائی بھی حاصل ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ماضی میں پی پی پی اور ن لیگ کی حکومتوں پر قومی سلامتی کمپرومائز کرنے کے الزام لگانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دوہری شہریت کے حامل لوگوں کی کابینہ میں شمولیت کے لیے سکیورٹی کلیئرنس کیوں دی؟
اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ کے اثاثہ جات پر تبصرہ کرتے ہوئے اینکر پرسن اقرار الحسن کہتے ہیں ’جن صاحب کا واحد گھر دبئی میں، درجنوں ڈالرز اور درہم اکاؤنٹس میں لاکھوں ڈالرز پاکستان سے باہر جب کہ پاکستان میں صرف پچیس ہزار روپے ہوں، وہ صاحب پاکستان کی معیشت ٹھیک کریں گے؟؟ ‘
یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ وزیر اعظم کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات کے مطابق 15 معاونین خصوصی میں سے سات یا تو دوہری شہریت کے حامل ہیں یا وہ کسی دوسرے ملک کے مستقل رہائشی ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہیں جبکہ معاون خصوصی برائے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن معید یوسف امریکا کے رہائشی ہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذولفقار عباس بخاری بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں اور ان کے پاس برطانوی شہریت ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدریس کے پاس کینیڈا کی پیدائشی شہریت ہے اور وہ سنگاپور کی مستقل رہائشی ہیں۔ معاون خصوصی برائے امور توانائی شہزاد سید قاسم بھی امریکا کے شہری ہیں جب کہ اس کے علاوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ندیم افضل گوندل بھی کینیڈا میں مستقل رہائش کا اسٹیٹس رکھتے ہیں۔
وفاقی کابینہ میں موجود 5 مشیران اور 15 معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق 20 میں سے 14 مشیران اور معاونین کے پاس غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں 1.45 ارب روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی موجود ہے۔ 1.45 ارب روپے میں سے 1.08 ارب روپے یعنی 75 فیصد بیرون ملک میں ہیں جب کہ باقی 0.36 ارب روپے یعنی 25 فیصد پاکستان کے بینک اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کل 55 غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس 14 مشیران و معاونین اور ان کی اہلیہ کے نام ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں سے 36 غیر ملکی جب کہ 18 پاکستان میں موجود ہیں۔
غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں سب سے زیادہ رقم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم کے پاس ہے۔ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں ان کے پاس 43 کروڑ، 38 لاکھ روپے ہیں اور ان کے پاکستان کے علاوہ پانچ مختلف ممالک میں اکاؤنٹس موجود ہیں۔ دوسرا نمبر وزیراعظم کے قریبی دوست اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس عرف زلفی بخاری کا ہے۔ ان کی اور ان کی اہلیہ کے چار اکاؤنٹس میں 35 کروڑ، 60 لاکھ روپے کے قریب موجود ہیں۔ تیسرا نمبر معاون خصوصی معاملات برائے وزارت آبی وسائل سردار یار محمد رند کا ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس غیر ملکی اکاؤنٹس میں 20 کروڑ، 23 لاکھ روپے ہیں۔ چوتھا نمبر مشیر خزانہ حفیظ شیخ ہے جن کے پانچ اکاؤنٹس میں 14 کروڑ، 16 لاک روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی موجود ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ 15 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اور دستاویز کے مطابق ان کے پاس گلبرگ گرین، اسلام آباد میں سات کروڑ روپے مالیت کا پانچ کنال کا مکان بھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ رحیم یار خان اور بہاولپور میں 65 ایکڑ اراضی کے بھی مالک ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کراچی، لاہور اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات کے پاس پانچ پلاٹس بھی ہیں۔ ان کے بینک اکاونٹ میں تقریبا تین لاکھ روپے کے علاوہ چار ہزار سے زیادہ ڈالرز بھی ہیں۔
ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے وزیراعظم عمران خان کے 4 معاونین خصوصی کی دوہری شہریت سامنے آنے پر انہیں سخت تنقید کا نشانا بنایا اور کہا ہے کہ دوہری شہریت کا حامل شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔ ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے ان معاونین سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے عمران خان کو غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں اور وزیروں کی برطرفی کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ عمران ایسے مشیروں اور وزیروں سے استعفی لیں۔ مریم اورنگزیب نے وزیراعظم کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اب دوہری شہریت رکھنے والوں کو 22 کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلے کیوں کرنے دے رہے ہیں، انہوں نے آج غیر ملکی پاسپورٹ والوں کو کابینہ میں کیوں بٹھا رکھا ہے؟ عمران خان جن کا پاکستان میں کچھ نہیں، انہیں آج اپنی کابینہ میں بٹھا کر کیوں فیصلے کرا رہے ہیں؟ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ملک پر غیر ملکی ٹولہ مسلط ہونے کی وجہ سے عوام بے روزگاری، معاشی تباہی اور بھوک میں مبتلا ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور مشیروں کی دوہری شہریت اور بیرون ملک اثاثوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے معاملے کو انتہائی حساس قرار دے دیا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیریٰ رحمٰن نے ایک پیغام میں کہا کہ 19 غیر منتخب کابینہ ارکان میں 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل ہیں، دوہری شہریت کا حامل شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت کے لوگوں کو کابینہ کا حصہ کیوں اور کس قانون کے تحت بنایا گیا ہے، عمران خان ماضی میں دوہری شہریت کے حامل کابینہ ارکان کی سخت مخالفت کرتے تھے لیکن آج وزیراعظم نے اپنی ہر بات سے یو ٹرن لے لیا ہے۔ ساتھ ہی شیری رحمٰن نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم نے معلوم ہوتے ہوئے دوہری شہریت کے حامل لوگوں کو آئینی فورم کا حصہ بنایا؟ تاہم اگر وزیراعظم کو معلوم نہیں تھا تو یہ مزید تشویش کی بات ہے۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر کا کہنا تھا کہ کیا دوہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟
دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 ون جی کے مطابق دوہری شہریت رکھنے پر نااہلی کا قانون مشیران اور معاونین وزیراعظم پر لاگو نہیں ہوتا۔’ انہوں نے زلفی بخاری کی تقرری کے خلاف کیس کا حوالہ دیتا ہوا کہا کہ ‘جب انہیں وزیر اعظم کا معاون خصوصی برائے اورسیز پاکستانیز مقرر کیا گیا تو سپریم کورٹ میں ان کی تقرری چیلنج کی گئی تھی، اس کیس میں عدالت عظمیٰ نے انہیں نااہل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ دوہری شہریت رکھنے پر نااہلی کا قانون مشیروں اور معاونین خصوصی پر لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ یہ صرف عوامی نمائندوں کے بارے میں ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘اس لیے جتنے مشیر یا معاونین دوہری شہریت رکھتےہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی ممکن نہیں ہے، تاہم وزیر اعظم خود انہیں ہٹانے یا نہ ہٹانے کا اختیار ضرور رکھتے ہیں۔’
