کیا ناکام حکومت اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں کا بوجھ بن چکی ہے؟

ملکی سیاست میں مائنس ون کے شور کے باوجود طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ناکام حکومت کی خاموش حمایت سے لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں وزیراعظم عمران خان کے پارلیمانی سیاست سے مائنس ہونے کے امکانات کافی معدوم ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اقتدار میں لانے والی طاقتیں حکمرانوں کو اپنے کندھوں کا بوجھ سمجھنا شروع کر دیتی ہیں تو پھر یہ بوجھ اتار پھینکنے میں انہیں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں آج کل ایک بار پھر مائنس وَن کا شور بپا ہے اور عام تاثر یہ پایا جاتا کہ عمران خان کی حکومت اب چند ماہ کی مہمان ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دراصل پاکستان میں یہ عام رواج ہے کہ اقتدار میں آنے کے ایک یا دو سال بعد ہی حکومت مخالف عوامی جذبات نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں، اور اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الزامات کا تڑکا لگادیا جائے تو بے یقینی مزید بڑھ جاتی ہے لیکن کپتان کے معاملے میں مختلف پیشرفت ہوئی اسکی حکومت اقتدار کے پہلے چھ مہینوں میں ہی منہ کے بل جاگری۔ یوں اس مرتبہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت کی ناکامی کا تاثر قائم کرنے سے بہت پہلے عوام نے حکومت کا ناکام قرار دے دیا۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ حیران کن طور پر پھر بھی حکومت کے ساتھ کھڑی رہی اور اسکی ناکامی کے تاثر کو زائل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہی۔ تاہم اب حکومت کی مکمل ناکامی کے بڑھتے ہوئے تاثر کے پیش نظر فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی کپتان سے آہستہ آہستہ دوری اختیار کرتی نظر آتی ہے۔
آصف زرداری اور نواز شریف۔کے گزشتہ دو ادوار حکومت میں بھی مائنس وَن کی آوازیں آتی رہیں۔ پہلی حکومت میں آصف زرداری پر میمو گیٹ سکینڈل ڈال کر انہیں مائنس کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اگرچہ وہ خود کو بچانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن انہیں ایک وزیرِاعظم کی قربانی دینی پڑی۔ اسی گیم میں نواز شریف نے فوج کا ساتھ دیا اور کالا کوٹ پہن کر تب کہ آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا کے ساتھ میمو گیٹ کیس میں پٹیشنر بن کر سپریم کورٹ چلے گئے۔ اگلے انتخابات میں نواز شریف کو دوبارہ اقتدار بھی مل گیا لیکن زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوا اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی پاداش میں وہ پارلیمنٹ سے تاحیات نااہل کروا دیے گئے۔ یوں یہ خیال کیا گیا کہ وہ حتمی طور پر سیاست سے بھی مائنس ہوگئے ہیں۔ تاہم پکچر ابھی باقی ہے اور کپتان حکومت کی ناکامی کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ کو ایک بار پھر شریف خاندان سے امید دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے کہا جارہا ہے کہ میاں شہباز شریف اگلے ڈارک ہارس ثابت ہو سکتے ہیں۔
چنانچہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس بار بھی ملکی سیاسی منظر نامے کچھ نیا نہیں ہورہا۔ حکومت کو اقتدار میں آئے دو برس گزر گئے لیکن اس کی ناکامی کی باتیں تو ایک برس پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کے باوجود اب اعلیٰ ایوانوں میں مائنس وَن کی باتیں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ عمران خان کے مائنس ہونے کے بعد جو بھی ان کی جگہ وزیرِاعظم بنے گا وہ ان سے تو بہتر ہی حکومت چلائے گا کیونکہ جو شخص عثمان بزدار کو ایک بہترین حکمران سمجھتا ہو اس کا حکمرانی کا اپنا معیار کیا ہوگا؟ اپنوں اور غیروں کے لیے احتساب کا دوہرا معیار لے کر چلنے والے عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اگر مائنس ہو بھی جائیں تو اگلا حکمران بھی اپوزیشن کو نہیں چھوڑے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق تحریک عدم اعتماد ہی وزیر اعظم کو مائنس کرنے کا آئینی راستہ ہے، دوسرا راستہ یہ ہے کہ اگر وزیرِاعظم سمجھیں کہ اس طرح کی کوئی صورتحال بننے جارہی ہے تو وہ صدر کو مشورہ دے کر قومی اسمبلی توڑ سکتے ہیں، نتیجے میں نئے عام انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔مائنس وَن کی تیسری صورت یہ ہے کہ عمران خان کسی عدالتی حکم کے ذریعے نااہل قرار پائیں اور اپنی جگہ کسی اور کو نامزد کریں، لیکن فی الحال ایسا کچھ فوری ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
مہنگائی کے ستائے عوام اور حکومت مخالف لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اگر چلے گئے تو معاملات بہتری کی طرف چل پڑیں گے۔ کم از کم حکومت مخالف 3 بڑی جماعتیں تو میڈیا میں اس طرح کا تاثر بھی دینے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔پہلے مسلم لیگ (ن) لیگ کی جانب سے عام انتخابات کا مطالبہ کیا جاتا رہا، بعد میں کہا گیا کہ تمام فریق مل بیٹھیں اور ملک کو بحران سے نکالیں، یعنی ان کا اشارہ ایک ایسی حکومت کی طرف تھا جس میں تمام جماعتیں شامل ہوں، لیکن وہ اس کا کھل کر اظہار نہیں کرتی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی موجودہ حالات میں عام انتخابات کی حامی نہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ عمران خان چلے جائیں اور ان کی جگہ تحریک انصاف کے کسی اور رکن کو قائدِ ایوان نامزد کیا جائے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا کچھ ہونے بھی جا رہا ہے، جس کا ہنگامہ برپا ہے؟
آج دن تک کا کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ایک ناکام کپتان کو حکومت میں رہنے کے لیے جن قوتوں کی حمایت چاہیے وہ ان کے پاس موجود ہے اور جب تک وہ حمایت برقرار ہے، اسے باقیوں کا محتاج ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تاریخ میں عمران خان پہلے ایسے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے اپنا تمام تر سویلین اختیار خود اسٹیبلشمنٹ کو ان کی خواہش کے مطابق سونپ رکھا ہے۔ یعنی پاکستان میں حقیقی معنوں میں نمبر گیم جن کے ہاتھ میں ہے ان کا ہاتھ اب بھی عمران خان کے سر پر ہی ہے اور جب تک یہ ہاتھ قائم رہتا ہے تب تک تو کسی بھی طرح کا مائنس ون ہوتا نظر نہیں آتا۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو کپتان کی ناکام حکومت کی حمایت کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی مکمل مرضی چل رہی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اتنی کمزور حکومت کو مکمل ناکام ہونے کے بعد گھر بھجوانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو کوئی زیادہ زور نہیں لگانا پڑے گا اور وقت آنے پر یہی ناکامیاں کپتان کے کھاتے میں ڈال کراسے رخصت کر دے گی۔
