کپتان کی تین صوبائی حکومتیں مشکلات کے بھنورمیں

وزیراعظم عمران خان کی سیاسی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی تازہ ترین پریشانی یہ ہے کہ ان کی تینوں صوبائی حکومتیں اس وقت اندرونی خلفشار کا شکار ہیں اور پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے وزرائے اعلی کے خلاف اسمبلیوں کے اندر سے ہی اعلان بغاوت ہو چکا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جب وفاقی حکومت کی برے دن شروع ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے ہاتھ سے پنجاب نکلتا ہے جس کے بعد مرکز کی حکومت کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلی کا غلط انتخاب اور پھر اس غلطی کو درست کرنے کی بجائے وزیراعظم کا بار بار انکار، بالآخر ان کے لئے ایک سیاسی پھندے کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ جس سے ان کا بچ نکلنا اب مشکل تر ہو گیا ہے۔ دوسری طرف بلوچستان اور کے پی کے میں بھی تحریک انصاف کے اپنے ہی وزرا اور منتخب اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ جام کمال اور محمود خان کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔
یاد رہے کہ بطور وزیر اعلیٰ ناکامیوں کی نئی تاریخ رقم کرنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف نہ صرف وفاقی وزراء اعلان بغاوت کر چکے ہیں بلکہ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے علاوہ دو درجن کے قریب ممبران پنجاب اسمبلی بھی ایک علیحدہ فارورڈ بلاک بنا چکے ہیں۔ ان حالات میں کپتان کے نام نہاد وسیم اکرم پلس اور فیاض الحسن چوہان کے شیر شاہ سوری کی کرسی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق کپتان نے قاف لیگ کی قیادت کی جانب سے نون لیگ کے ساتھ ہاتھ ملانے کے خطرے کی وجہ سے وقتی طور پر پیچھے ہٹتے ہوئے ہوئے انہیں صوبے میں فیصلہ سازی کے لئے فری ہینڈ تودے دیا ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ یہ فارمولا بھی زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گا اور بزدار کی چھٹی ہو کر رہے گی۔ یعنی سو پیاز اور سو جوتے کھانے کے مصداق وزیراعظم بزدار کو تب گھر بھیجیں گے جب ان کا سب کچھ لٹ چکا ہو گا خصوصا تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ۔۔۔
دوسری طرف کے پی کے میں بھی کپتان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور پانچ صوبائی وزراء اور بیس ممبران اسمبلی نے پی ٹی آئی کے وزیر اعلی محمود خان کی غلط پالیسیوں اور مبینہ کرپشن کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ کپتان نے محمود خان کو وزیر دفاع پرویز خٹک کی سفارش پر کے پی کے کا وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا۔ تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ ان کی اپنی کابینہ کے وزراء خصوصا سینئر وزیر عاطف خان نے محمود خان کو عثمان بزدار پلس قرار دیتے ہوئے ان پر کرپشن اور نا اہلی کے الزامات عائد کر دیئے ہیں جس کے بعد صوبائی حکومت کا پہیہ جام ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی کپتان کی اتحادی حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ صوبائی سپیکر عبدالقدوس بزنجو اور وزیراعلیٰ جام کمال کی بڑھتے ہوئے سیاسی اختلافات ہیں۔ یاد رہے کہ دونوں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور صورتحال کی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعلی جام کمال اور عبدالقدوس بزنجو ایک دوسرے کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ان حالات میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت مشکلات کے ایسے بھنور میں پھنسے دکھائی دیتے ہیں جس میں ان کا آسانی سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button