کھوکھلی سیاسی قیادت!

تحریر:انصارعباسی۔۔۔۔۔بشکریہ :روزنامہ جنگ 

اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور ہماری پارلیمنٹ کے کرتا دھرتا قائداعظم یونیورسٹی میں سینکڑوں مسلمان طلبا و طالبات کی طرف سے ہندوئوں کے مذہبی تہوار ہولی منانے کے عمل کا دفاع کریں گے اور اسے مذہبی رواداری اور بنیادی حقوق کے ساتھ نتھی کریں گے تو اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے والا ادارہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن قائد اعظم یونیورسٹی کے اس اقدام پر تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کرے کہ ایسا عمل جو پاکستان کے اسلامی نظریہ اور ہماری دینی و معاشرتی اقدار کے برعکس ہو، اور پھر لبرل طبقہ اور میڈیا کے دبائو پر اپنا یہ نوٹس واپس لے لے تو یہ کسی المیہ سے کم نہیں۔ افسوس کہ جب یہ سب کچھ ہوا تو حکومت اور قومی اسمبلی میں سے کوئی ایک آواز نہ اُٹھی کہ ’’یہ غلط ہے‘‘،ایسا کوئی سامنے نہ آیا جس نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹس کا دفاع کیا ہو، جس نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کا حوالہ دے کر یہ سوال ہی اُٹھایا ہو کہ کیا ریاست، حکومت یا اس کا کوئی ادارہ مسلمانوں کے غیر مسلموں کا مذہبی تہوار منانے کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔؟ بلکہ الٹا جھوٹ بولا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹس کا مقصد غیر مسلموں کو اپنے مذہبی تہوار منانے سے روکنا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت حکومت کا حصہ ہے لیکن وہ بھی اس مسئلہ پر خاموش رہی۔ اس بات کا بھی افسوس ہے کہ عمومی طور پر علماء کرام نے اس مسئلہ پر کوئی بات نہ کی۔ صرف محترم مفتی منیب الرحمن کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں قائداعظم یونیورسٹی کے اس واقعہ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہولی اور دیوالی نہ صرف ہندوئوں کے مذہبی تہوار ہیں بلکہ یہ ہندومت کا شعاربھی ہیں۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے مذہبی شعار کو اختیار کرنے سے اسلام نے منع کیا ہے ۔ اُنہوں نے ایک حدیث پاکؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اسلام نے تو مسلمانوں کو شدید تنبیہ کی ہے کہ جو کسی غیر مسلم قوم کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ اُنہی میں سے ہو گا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بھی حکومت اور قومی اسمبلی کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’یہ ہوتی ہے خوفزدہ قیادت، سطحی قیادت، ان کی وجہ سے اس ملک میں اسلام مظلوم ہے اور پاکستان غلام اور پسماندہ، ان لوگوں نے HEC کا نوٹیفکیشن پڑھا ہی نہیں، HEC نے ہندو کمیونٹی کیلئے ہولی منانے پر سرے سے پابندی لگائی ہی نہیں، غیر مسلموں کو پاکستان میں اپنی عبادت گاہوں میں جانے اور اپنے مذہبی تہوار منانےکی مکمل آزادی ہے، HEC نے مسلم طلباء کیلئے پاکستان کی اسلامی شناخت، اسلامی ثقافتی اقدار اور تعلیم کے مختلف میدانوں میں مہارتوں کی بات کی تھی، اور اپنی ثقافت و اقدار سے وابستگی کی بات کی تھی، کیا پاکستان نیشنلزم کہیں ہے، کیا پاکستانی ثقافت کہیں ہے؟ حکومت کی صفوں میں موجود دینی قیادت کو اس پسپائی کا ضرور نوٹس لینا چاہیے۔‘‘

ایک حکومتی اعلیٰ عہدیدار نے بڑے فخر سے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ اُس نے HEC کو اپنا نوٹس واپس لینے کیلئےکہا کیوں کہ یہ نوٹس مذہبی رواداری کے خلاف ہے جس پر لبرل طبقے نے اُس کی بڑی واہ واہ کی لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے ہی اس عہدیدار سے سوال کیا گیا کہ’’ وہ جو بات کر رہا ہےکیا وہ اسلامی تعلیمات اور آئینِ پاکستان سے مطابقت رکھتی ہے؟ کیا مسلمانوں کو غیر مسلموں کے مذہبی تہوار منانے کی اسلام اجازت دیتا ہے؟ مذہبی رواداری کا کیا یہ مطلب ہے کہ مسلمان غیر مسلموں کے تہوار منانا شروع کر دیں؟ کیا مذہبی رواداری کے نام پر غیر مسلموں سے عید قرباں منانے کی توقع کسی صورت میں جائز ہو سکتی ہے اور غیر مسلموں کی طرف سے ایسا نہ کرنا کیا مذہبی رواداری کی خلاف ورزی ہوگا؟ ‘‘ہمارے حکمران اور سیاستدان اسلام کی بات کرتے ہوئے کیوں جھجکتے ہیں۔ لبرل طبقہ اور میڈیا سے ایسا کیا ڈرنا کہ قومی اسمبلی کے اندر بیٹھ کر جھوٹ بولا جائے اور آئین کے غلط حوالے دے کر ایک غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسلام اور آئین پاکستان مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور اُن کی مذہبی آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست مسلمانوں کو غیر مسلموں کے مذہبی تہوار منانے کے مواقع فراہم کرے اور اُن کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کرے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 31 تو ریاست اور اس کے ہر ادارے پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہےکہ پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اسلامی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تا کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔

Back to top button