کیا بلوچستان میں مشرقی پاکستان والی تاریخ دہرائی جارہی ہے؟

https://youtu.be/rLPYqv4o9SU
بلوچستان میں پچھلی ایک دھائی سے ریاستی اداروں کے ہاتھوں گمشدہ کئے جانے والے نوجونوں کے لواحقین کا صبر جواب دے گیا ہے مگر حکومت اور اپوزیشن، کوئی بھی ان کی دادرسی کے لیے آگے آنے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کو تیار نہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک ملک کے آئین کو بار بار پامال کرنے والے مقتدرریاستی ادارے اپنے تئیں ان نوجوانوں کو لاپتہ کرتے ہیں جنہیں وہ ریاست دشمن اور غدار گردانتے ہیں۔ تاہم گمشدہ افراد کے خاندان انہیں بلوچ قوم پرست کہتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر دو گمشدہ بلوچ نوجوانوں کی بہن حسیبہ قمبرانی کی یک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں وہ کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بتا رہی ہے کہ اس کے ایک بھائی کو پچھلے سال اغواء کرکے سال بعد لاش سڑک پر پھینک دی گئی اور اب اس کے دوسرے بھائی کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے اور اس کا کوئی پتا نہیں۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پاس دستیاب فہرست کے مطابق اب تک صرف 275 کے قریب گمشدہ افراد واپس آئے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں 5128 لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی تھی اور عمران خان کی حکومت کی مشروط حمایت کے لیے پیش کیے چھ نکات میں سے ایک اہم نکتہ لاپتہ افراد کی واپسی بھی تھی۔ موجودہ حکومت میں گمشدہ افراد کی واپسی کا آغاز ہوا تاہم یہ عمل سیاسی ضروریات کے تحت آگے بڑھتا نظر آتا ہے۔ جب کبھی اختر مینگل حکومت چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہیں تو حکومت ایجنسیوں سے دوچار لوگوں کو رہا کروا لیتی ہے لیکن پھر درجن بھر مذید نوجوان اغوا بھی کر لئے جاتے ہیں۔ سردا اختر مینگل نے بی بی سی کا کہنا یے کہ اب تک 500 کے قریب افراد گھروں کو واپس آچکے ہیں لیکن انہوں نے جو فہرست پیش کی تھی اس میں سے صرف اکا دکا ہی واپس آئے ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پاس دستیاب بازیاب ہونے والے 275 افراد کی فہرست کے جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی اکثریت یعنی 107 افراد موجودہ حکومت کے دور یعنی 2018 اور 2019 کے دوران ہی لاپتہ ہوئے اور چند ماہ کے بعد انھیں رہائی حاصل ہوگئی۔ تاہم طویل عرصے سے لاپتہ افراد میں سے ابھی اکثریت کی بازیابی نہیں ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا دعویٰ ہے کہ موجودہ وقت مسنگ پرسنز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے آج سے دس پندرہ سال قبل لوگ افغانستان اور کمشیر جہاد کے لیے چلے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ بلوچستان میں ایک روایت ہے کہ جب وہ لڑائی کرتے ہیں تو پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں وہ لاپتہ افراد نہیں ہیں۔ تاہم وہ اس سوال کا جواب نہیں دے پائے کہ پہاڑوں پر چلے جانے والے بلوچوں کی بعد میں لاشیں کیوں ملتی ہیں۔۔
اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے گمشدہ افراد کی حوالے سے بلند و بانگ دعوے کیے تھے لیکن اقتدار میں آئے تو وہ انہی کی کٹھ پتلی بن گئے جو بلوچ نوجوانوں کو گمشدہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ بلوچ رہنما سردار اختر مینگل اس معاملے کی بنیاد پر کپتان حکومت کے حامی بنے تھے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے مگر اب وہ بھی خاموش ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ جب اختر مینگل پر تھوڑا دباؤ آتا ہے تو وہ حکومت سے علیحدہ ہونے کی گیدڑ بھبھکیاں دیتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی شخص ریاست اور عوام کے درمیان ایک گمشدہ معاہدے کی بات کرنے کو تیار نہیں. بنیادی سوال آئین کے تحت دی جانے والی اُن ضمانتوں کا ہے جو شہری اور ریاست کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ آئین پاکستان کی بنیادی حقوق کی ضمانت کی دسویں شق ہر شہری کو تحفظ فراہم کرتی ہے کہ اُسے بغیر جرم بتائے اور قانون کے سامنے پیش کیے حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور آئین پاکستان اس بات کی اجازت قطعی طور پر نہیں دیتا۔
بلوچ ہوں یا پختون یا ایم کیو ایم کے لاپتہ افرادکے لواحقین۔۔۔ سب اسی حق کے لیے آواز اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آجکل بلوچستان کی ایک اور بیٹی حسیبہ قمبرآنی سڑکوں پر ہے۔ حسیبہ کا غم بھی یہی ہے کہ وہ ایک بھائی کی لاش وصول کرنے کے بعد دو بھائیوں کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ اُس جیسی کئی بہنیں سڑکوں پر کھڑی ریاست کو یاد دلا رہی ہیں کہ ریاست اور اُن کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا لیکن اب اُس معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور ریاست اس تعلق سے لاتعلق ہو رہی ہے۔ ریاست شہریوں کے حقوق کی ضامن اور ریاستی ادارے پاسبان۔ کیا ان تڑپتے اور لمحہ لمحہ جیتے مرتے لوگوں کو ان کے بیٹوں اور بھائیوں کی آس نہیں دی جا سکتی۔ کیا ان کی صبحیں اُمید اور شامیں آرزوؤں سے نہیں بھری جا سکتیں۔ کیا ان کی نا اُمید آنکھوں میں اُمید کے چراغ نہیں جلائے جا سکتے۔
سادہ سا سوال ہے کہ ریاست کے لیے کیا دقّت ہے کہ وہ ان افراد کو جو ہو سکتا ہے کہ غلط راہ پر ہوں۔۔۔ قانون کی عدالت میں لا کھڑا کرے۔ کیا حرج ہے کہ ان بلکتی بہنوں کو دلاسہ دے دیا جائے کہ ان کے بھائی زندہ ہیں۔۔۔ اگر ہیں۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ یوں تو ملک میں جمہوریت ہے، آئین ہے، نظام ہے، ریاست ہے لیکن جمہوریت، آئین، نظام اور ریاست سے شہری کا تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ دراصل بلوچستان میں پیدا ہونے والے موجودہ حالات کا اصل ذمہ دار آیئن شکن آرمی چیف جنرل مشرف ہے جس کے ہاتھوں بلوچ قوم پرست رہنما اکبر بگٹی کا قتل ہوا اور پھر بلوچ نوجوان باغی ہو گے۔ اکبر بگٹی بلوچستن میں تعینات ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ایک میجر کے ہاتھوں زیادتی پر ناراض ہوئے اور اُن کا یہ غصہ وقت کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ تاہم وہ کبھی بھی آئین پاکستان کے مخالف نہ رہے۔ یہاں تک کہ وہ آخری لمحوں تک پارلیمان اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرتے رہے۔ تاہم مشرف نے خاتون ڈاکٹر کی عزت پامال کرنے والے میجر کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی بجائے اس کا ساتھ دیا جس پر معاملات مزید خراب ہوگئے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرف نے اکبر بگٹی کو غدار قرار دے دیا اور بالآخر انہیں ایک فوجی آپریشن میں شہید کر دیا گیا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکبر بگٹی نے ہمیشہ واشگاف لفظوں میں آئین پاکستان کی سربلندی کے لیے آواز اٹھائی تاہم آئین کو پامال کرنے والے کیسے اُنھیں محب وطن مانتے؟ویسے بھی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج بلوچستان میں پھر سے مشرقی پاکستان والی تاریخ دوہرائی جارہی ہے۔
