کیا جسٹس فائز بھی بےایمان ججوں کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے؟

ہماری عدلیہ نے من مانی تشریح اور اختراعات کرکے ججوں کوتو مقدس بنا لیا لیکن آئین جمہوریت اور سیاست کو قربانی کا بکرا بنا لیا ۔ پوری تاریخ میں ایک بھی جج جیل نہیں گیا، ججوں کی کرپشن کا ریفرنس آئے تو سب جج اکٹھے ہو کر اسے رد کر دیتے ہیں ۔ سیاستدانوں، جرنیلوں اور صحافیوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو ججوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے۔ اگر موجودہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بھی ماضی کے منصفوں والا رویہ ہی اپنائے رکھا تو ہماری تقدیر بدلنے کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ یونان کاسقراط ہو یا پاکستان کاذوالفقار علی بھٹو، دونوں نے یہی درس دیا ہے کہ منصب متعصب ہوں، آپ کے خلاف ہوں یا انصاف سے سراسر خالی بھی ہوں تب بھی ان کا احترام ہی کرنا ہے کیونکہ اگر بے انصاف منصفوں کے فیصلوں پر عمل نہ کیا جائے تو انصاف والے فیصلوں پر عمل بھی مشکل ہو جائے گا ۔سقراط نے غلط فیصلے پر سر جھکا کر زہر پی لیا اور اف تک نہ کی ذوالفقار علی بھٹو بھی ضیا الحق کے چمچے ججوں کو می لارڈ کہتے کہتے پھانسی پر جھول گئے۔ ابو الکلام آزاد سے منسوب ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ بڑی ناانصافیاں انصاف کے ایوانوں میں ہوئی ہیں، پاکستان کی تاریخ تو ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ جسٹس منیر کے فیصلوں سے لیکر جسٹس بندیال تک مصلحتوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے ۔پاکستان کی عدلیہ نے جمہوریت ،آئین اور قانون کاساتھ دینے کی بجائے مقتدرہ ،مارشل لا اور آمروں کاساتھ دیا ہے۔ آمروں نے اسمبلیاں توڑیں تو ججوں نے اسے جائز قرار دیا ،جرنیلوں نے مارشل لالگائے تو ججوں نے انہیں جائز قرار دیا، وزیر اعظموں کو جیل بھیجا گیا تو ججوں نے انہیں رہا کرنے کی بجائے سزائیں سنائیں ججوں کی کرپشن کا ریفرنس آئے تو سب جج اکٹھے ہو کر اسے رد کر دیتے ہیں
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ سیاست دان پر کرپشن کا جھوٹاکیس بھی آئےتو منصف اسے برسوں لٹکا دیتے ہیں مقتدرہ اور عدلیہ کے اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہر وزیر اعظم کو رگڑا لگایا جاتا ہے شاید ہی کوئی خوش قسمت ہو جو جیل جانے سے بچا ہو وگرنہ وزیر اعظم اتنا عرصہ اقتدار میں نہیں رہتا جتنا عرصہ اسے جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے۔ پوری تاریخ میں ایک بھی جج جیل نہیں گیا ہاں ججوں نے تقریباً ہر سیاست دان کو جیل بھیجنے میں مدد و تعاون کیا ہے۔ سب کو پتہ تھا کہ عدلیہ مقتدرہ کی باندی ہے لیکن اس کے باوجود جب افتخار چودھری نے جنرل مشرف کےسامنے حرف انکار بلند کیا تو عوام، میڈیا اور سیاست دانوں نے عدلیہ کی آزادی کے نام پر تحریک چلائی۔ تحریک کامیاب ہوئی اور افتخار چودھری دوبارہ سے چیف جسٹس بن گئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عدلیہ اس کے بعد جمہوریت ،آئین اور پارلیمنٹ کا ساتھ دیتی مگر اس نئی متحرک عدلیہ نے اپنی توپوں کا رخ سیاست دانوں کی طرف ہی رکھا۔ کبھی میمو گیٹ اور کبھی سوئس خط کے نام پر اہل سیاست کو رگیدا گیا اور حد تو یہ ہے کہ پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم کو آرٹیکل 3/184کے تحت نااہل کرکے گھر بھیج دیا گیا حالانکہ آئین میں وزیر اعظم کو فارغ کرنے کا یہ طریقہ سرے سے موجود ہی نہیں ۔ہماری عدلیہ نے من مانی تشریح اور اختراعات کرکے ججوں کوتو مقدس بنا لیا لیکن آئین جمہوریت اور سیاست کو قربانی کا بکرا بنا لیا ۔
سہیل وڑائچ کے مطابق افتخار چودھری ہوں جسٹس کھوسہ ہوں، جسٹس ثاقب نثار ہوں یا جسٹس بندیال انہوں نے آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کی بجائے غیر جمہوری روایات کو مضبوط کیا ۔کھوسہ ،ثاقب نثار اور بندیال نے پسند نا پسند کی بنیاد پر فیصلے کرکے آئین کو روند ڈالا ،سچ تو یہ ہے کہ آج ملک میں جو سیاسی ، معاشی اور آئینی بحران ہے اسکی تشکیل میں ان ججوں کا کلیدی کردار ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال جب ہائیکورٹ کے جج تھے تو آئین کی جمہوری تشریحات کیا کرتے تھے سپریم کورٹ گئے تو کنفیوژ ہو گئے ان کے متضاد فیصلوں نے جمہوریت کی منزل کھوٹی کر دی ۔عمران خان نے اسمبلی توڑی تو جسٹس بندیال اورساتھی ججوں نے اسمبلی بحال کرکے پی ڈی ایم کی حکومت بنوا دی ۔پی ڈی ایم کی حکومت بن گئی تو اسے چلنے نہ دیا ،حکم دیا کہ 90دن میں الیکشن ہوں مگر جب اس حکم پر عمل نہ ہوا تو اتنی جرات نہ کر سکے کہ توہین عدالت کا نوٹس دیکر اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروائیں غرضیکہ عدلیہ جو کہ جمہوریت کا ایک ستون ہے اس نے اپنے ہی ایک دوسرے جمہوری ستون پارلیمنٹ کے خلاف ہی فیصلے کئے ہیں۔ عدلیہ پر آئین کی تشریح اور اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری ہے میڈیا پر حملہ ہو ، حکومت اس پرپابندی لگا دے ،صحافی جیل بھیج دیئے جائیں یا چینل بند ہو جائیں ،عدلیہ نہ ناراض ہوتی ہے نہ ایسا فیصلہ دیتی ہے کہ آئندہ ایسا نہ ہو سکے ،کمزور فیصلے کرکے اپنی جان چھڑانے تک محدود رہتی ہے۔ یہی حال بلوچستان ،پنجاب اور دوسرے صوبوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ہے عدلیہ نے کب بلوچستان یا پنجا ب میں ظلم پر کوئی زوردار فیصلہ کیا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ھے کہ یہ سب کچھ تو ماضی اور حال کی کہانیاں ہیں آج کے چیف جسٹس پہلے والوں سے مختلف نظر آتے ہیں، انہوں نے مقتدرہ کے خلاف فیصلے سنائے، سب پروٹوکول توڑ کر پارلیمنٹ کی تقریب میں جاکر بتایا کہ وہ پارلیمان کو برتر مانتے ہیں وہ پہلے ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات میں خود کمی کے حوالے سے فیصلہ کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلا جمہوری جج آیا ہے جو آئین اور پارلیمنٹ کی بحالی پر یقین رکھتا ہے۔ یہ بھی حسن ظن ہے کہ وہ جسٹس بندیال کی طرح سیاسی طور پر کنفیوژڈ نہیں ہے بلکہ سیاسی عمل کے آگے چلنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس پس منظر میں می لارڈ سے ایک جمہوری اور آئینی کردار کی توقع ہے ،سب سے پہلا مسئلہ انتخابات کی تاریخ کا ہے، آئین میں اس حوالے کوئی ابہام نہیں واضح طور پر 90روز کے اندر انتخابات کروانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر یا باقی لوگ آئین کی اس واضح ہدایات کو نظر انداز کر کے آئین کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس کو اس حوالے سے اپنی تاریخی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا ہو گا۔ احتساب کے نام پر سیاستدانوں کی جس طرح مٹی پلید کی گئی ہے اور جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے، چیف جسٹس کو اس حوالے سے احتساب قوانین کو آئین کے مطابق بنانا چاہئے، احتساب قوانین میں ہر وہ شق جو آئین کے خلاف ہے اسے منسوخ کرنا چاہئے، چیف جسٹس اگر برا نہ منائیں تو یہ بھی عرض کرنی ہے کہ اگر سیاستدانوں، جرنیلوں اور صحافیوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو ججوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے، ججوں کے احتساب کیلئے آرٹیکل 209جسے سپریم کورٹ نے تقریباً ختم کر دیا ہے اسے بحال ہونا چاہئے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر متوقع کام کر جاتے ہیں توقع کرنی چاہئے کہ وہ اپنی اسی شہرت کو مثبت ہتھیار بنا کر اپنے جانے تک آئین، جمہوریت پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو مضبوط بنا جائیں گے، اگر انہوں نے بھی ماضی کے منصفوں والا رویہ ہی اپنائے رکھا تو ہماری تقدیر بدلنے کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔

آخر میں سہیل وڑائچ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مخاطب ہیں کہ
می لارڈ!!! آپ کا کام مشکل سہی مگر ممکن ہے تاریخ بنایئے، تعصب، نفرت اور محبت، لالچ اور منفعت سے نکل کر فیصلے کریں۔ جسٹس مارشل بنیں، جسٹس منیر اور ثاقب نثار نہیں….

Back to top button