کیا جہانگیر ترین اپنے سابقہ کپتان کو پچھاڑ پائیں گے؟

سینئر صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی خرابیوں، سخت اختلافات، کچھ شخصی کمزوریوں اور پھر نو مئی کے اودھم اور لا قانونیت کے سنگین واقعات کے بعد ہر زبان پر ’ختم شد‘ کا لفظ گردش کرنے لگا اور پھر نیا پراجیکٹ شروع ہوا۔ یکدم مقدموں کا، الزامات کا، پروپیگنڈے کا، قید و بند کا حصار سا بندھتا چلا گیا۔ تحریک انصاف کی شکل میں پرانی پیشکش کی ناکامی روز روشن کی طرح عیاں تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کا تقریباً تمام ڈھانچہ ہی منہدم کیا جانے لگا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کا مزید کہنا ہے کہ نو مئی کے معاملات سے کچھ ہٹ کر پرانے پراجیکٹ کے متعدد ستونوں کی گرفتاری، پھر اڈیالہ یا کوٹ لکھپت، یا سول لائنز جیل میں منتقلی۔ ادھر عدالت سے کچھ چھوٹ، ادھر پولیس وغیرہ کی پھرتیاں، جیل میں دوبارہ واپسی کا سلسلہ چلتا رہا۔ایسے میں ان لوگوں کو بھی رگڑا گیا جو نو مئی کے واقعات میں ملوث نہیں تھے۔ بس پھر بہت سے ستون ڈگمگا گئے۔ ایک ایک کر کے یہ کہہ کر پارٹی چھوڑنے لگے کہ اب سیاست سے وقفہ چاہیے۔ وجوہات مختلف بیان کیں۔ نو مئی کے حملوں کی شدید مذمت کی۔آخر مطلوب یہی تھا۔ پی ٹی آئی کے گرے ہوئے ملبے کی مدد سے ایک نئی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی۔ جہانگیر ترین جیسے پرانے کھلاڑی میدان میں کود گئے جن کی سیاست نے آمریت کے دور میں جنم لیا تھا اور انہوں نے عمران خان کے لیے اتنی خدمات سرانجام دیں کہ اے ٹی ایم اور عمران خان کے دستِ راست کہلائے گئے۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ ترین کو پھر نئے منصوبے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی کا نام استحکام پاکستان پارٹی۔ ایک عجیب سماں تھا۔ سب لوگ امنڈ کر آئے، وہ بھی جو کہہ چکے تھے کہ اب سیاست چھوڑ رہے ہیں اور وہ بھی ایک عمران خان کے متوالے جو کہہ چکے تھے کہ اب ماتھے پر گولی مارو گے تب اپنے لیڈر کوُ چھوڑوں گا۔ لیکن کسی نے گولی نہیں ماری اور نہ عمران خان کے ساتھ رہے!
اس کے برعکس فوری طور پرترین کی پارٹی میں شمولیت حاصل کی۔ اسی طرح عمران خان کے 100 حامی دوڑ کر ترین گروپ میں داخل ہو گئے۔
نہ کوئی شرمندگی نہ کوئی پریشانی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جہاں کہا گیا کہ جاؤ وہیں چل دیے۔ لوگوں کی پروا کم اور اپنی سیاسی مستقبل کو شاید تابناک بنانے کے شوق میں یہ سوچا ہو گا کہ کمک وقت کے طاقتور حلقے فراہم کریں گے تو پھر لوگوں کی تنقید کی کیا پروا؟ان بظاہر جیت کے پجاریوں کے سامنے ترین پارٹی کی ناکامی کچھ جلد سامنے آ گئی۔ پارٹی بننے کے بعد متحرک کم اور خاموش زیادہ دکھائی دی۔ اور پھر سب سے حیران کن ہے ترین صاحب کا لندن کا سفر۔ وہ علاج کے لیے لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ابھی تو پارٹی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ کچھ چالیں الٹی ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ ترین کے نئے سیاسی دوست سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کی سخت غلطیوں کے باوجود ان کا ووٹ ان کو شاید نہیں پڑے گا۔
عمران خان کے ساتھ کھڑے شاہ محمود قریشی یہ سب دیکھتے ہوئے ترین پارٹی کے بارے میں کہہ چکے ہیں: ’dead on arrival‘
اور بات تو سچ ہی ہے گرچہ ہے کچھ رسوائی کی۔ اس کے معنی بہت مشکل میں گھرے عمران خان کے لیے شاید فوری آسانی تو نہیں پر معرکہ آرائی والوں کے لیے ترین آپشن کوئی کامیابی کی نوید نہیں۔
