میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ میر رضا کیس سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، آنےوالی 2 میڈیکل رپورٹس کا جائزہ جوڈیشل کمیشن لےگا، متضاد رپورٹس کےمعاملےکافیصلہ کمیشن یا عدالت پر چھوڑیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہ کہ ابتدائی کرائم سین کو مطلوبہ انداز میں محفوظ نہیں کیا گیا، حکومت اس معاملے میں غیرجانبدار رہتے ہوئے حقائق سامنے لانا چاہتی ہے، کسی بھی کیس میں ایک فیصد بھی شک ہو تو تحقیقات 100 فیصد ہونی چاہئیں، آئی جی یا کسی افسر کی رائے حتمی نہیں، تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کی فیملی کے دکھ میں ہم برابر کے شریک ہیں، ہم اس کیس کی تحقیقات ہائیکورٹ ججز سے کرائیں گے، جوڈیشل کمیشن بننا وقت کی ضرورت سمجھتا ہوں۔
ضیا لنجار نے کہا کہ کیس کی تحقیقاتی ٹیم بھی تبدیل کردی گئی ہے اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نئی تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، فیملی کو کہا ہے جو بھی پولیس افسر کہیں گے ان کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے مزیدکہا کہ اب تک ایسا کچھ نہیں سامنےآیا کہ اس کے پیچھے کوئی ہائی پروفائل شخصیت ہو۔
دوسری جانب میررضا کیس میں نیا انکشاف ہوا ہے ذرائع کا بتانا ہےکہ میررضا کے جسم کو تیزاب سے جلانے کی بھی کوشش کی گئی، میر رضا کی شرٹ پر تیزاب پایا گیا۔
