خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں، ایمرجنسی زیرغور ہے، طارق فضل

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں ایمرجنسی نافذ کرنے کا آپشن زیرغور ہے، جس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی، جبکہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو وفاق کا نمائندہ ہوگا۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق وفاق کا نمائندہ گورنر بھی ہو سکتا ہے، یا کوئی اور شخص بھی ہو سکتا ہے جس کا اسی صوبے سے تعلق ہو۔

اس سے قبل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں اگر آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوئی اور اس کے لیے مقررہ آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اس معاملے میں آئینی تقاضوں کو ہی مدنظر رکھا جائےگا۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر حالات آئینی طور پر ایسے اقدام کا تقاضا کرتے ہیں تو پھر آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی تھی، جسے اب 4 اکتوبر تک کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔

 

Back to top button