مکہ دفاعی معاہدے میں مصر بھی شامل ہوسکتا ہے : ترک وزیر خارجہ

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہےکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانےوالا دفاعی معاہدہ دیگر علاقائی ممالک کےلیے بھی کھلا ہے اور مصر اس میں ممکنہ طور پر شامل ہوسکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ صدر رجب طیب اردوان چاہتےہیں کہ یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس کے تحت یکجا کیاجائے۔
وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہاکہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونےکے بعد مصر ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔
ہاکان فیدان نے کہاکہ ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے حالیہ مہینوں میں علاقائی معاملات سے نمٹنے کےلیے ایک گروپ بھی تشکیل دیاہے، جسے ’’آر فور‘‘ کا نام دیاگیا ہے۔اس گروپ کا مقصد ٹھوس طریقہ کار کے ذریعے شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔
ہاکان فیدان نےکہا کہ بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے بحری جہازوں کے تحفظ کےلیے بننے والے بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہوناچاہیے،کیونکہ بحری جہازوں کی سلامتی انقرہ کے مفادات سے متعلق ہے۔
بھارتی میڈیانےمکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئےاہم قرار دیدیا
ترک وزیر خارجہ نےکہا کہ یہ دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 کے باہمی دفاعی معاہدے جیسا ہے،تاہم یہ ایران یا کسی دوسرے ملک کےخلاف نہیں ہے بلکہ تینوں اتحادی ممالک کی سلامتی کےلیے عمومی تعاون کی یقین دہانی ہے،کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں اتحادی ممالک مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گےکہ کس نوعیت،سطح اور طریقہ کار کےتحت مدد فراہم کی جائےگی۔ جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہیں ہوتا،کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیاجائے گا۔
