کیا رمیز راجہ کرکٹ ٹیم کو دوبارہ کھڑا کر سکیں گے؟


وزیر اعظم عمران خان کے پرانے دوست احسان مانی کا بطور چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ دور ختم اور رمیز راجہ کا دورہ شروع ہونے والا ہے۔ وزیرِ اعظم اور کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف عمران خان نے رمیز راجہ کی بطور چیئرمین پی سی بی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔ وزیرِاعظم آفس سے رمیز راجہ کو فون پر چیئرمین پی سی بی بنانے کی اطلاع دی گئی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ وہ حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات میں ان سے اپنا منصوبہ شیئر کر چکے تھے۔اس سے قبل پی سی بی کے 77 سالہ چیئرمین احسان مانی نے عہدے پر مزید کام کرنے سے معذرت کر لی تھی جن کی بطور گورننگ بورڈ ممبر پی سی بی مدت ختم ہو گئی تھی۔
پاکستان کی کرکٹ جو ہمیشہ سے اُتار چڑھاؤ کے لیے شہرت رکھتی ہے اس وقت ایک اور ڈرامائی صورتحال سے دوچار ہوئی جب احسان مانی نے وزیراعظم کو مطلع کیا کہ وہ اگلی مدت کے لیے اپنے عہدے میں توسیع نہیں چاہتے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی حیران کن تھی کہ مانی نے گذشتہ دنوں دو مرتبہ عمران خان سے ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ چیئرمین شپ کی اگلی تین سالہ مدت کے بجائے وہ ایک سال تک ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہیں، تاکہ کرکٹ بورڈ کے زیرتکمیل منصوبوں کو مکمل کر سکیں۔ لیکن پھر اچانک انھوں نے اپنا ارادہ تبدیل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق احسان مانی کے فیصلے میں اچانک تبدیلی کی یہ وجہ سامنے آئی ہے کہ وہ رمیز راجہ کی موجودگی میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جنہیں بورڈ آف گورنر کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ رمیز راجہ نے بطور کرکٹر پاکستان کے لیے 57 ٹیسٹ اور 198 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے، وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم راجہ کے چھوٹے بھائی، سابق فرسٹ کلاس کرکٹر راجہ سلیم اختر کے بیٹے اور فرسٹ کلاس کرکٹر زعیم راجہ کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ 1984 سے لے کر 1997 تک پاکستان ٹیم کا حصہ رہے، جس دوران انہوں نے ٹیسٹ میں دو ہزار آٹھ سو تینتیس اور ون ڈے کرکٹ میں پانچ ہزار آٹھ سو چوالیس رنز بنائے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تو انہوں نے صرف دو مرتبہ سو کا ہندسہ عبور کیا، لیکن ون ڈے کرکٹ میں ان کی نو سینچریاں ایک وقت میں پاکستانی ریکارڈ تھا۔
وہ 1987 اور 1996 کے ورلڈ کپ میں پاکستان اسکواڈ کا حصہ بھی تھے، لیکن 1992 کے ورلڈ کپ کارناموں کو کوئی نہیں بھلا سکتا۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے ایونٹ میں اُنہوں نے دو سینچریاں اسکور کیں۔ عمران خان کی گیند پر فائنل میچ کا فیصلہ کن کیچ لے کر وہ ہمیشہ کے لیے پاکستانیوں کے دلوں میں بس گئے۔ رمیز راجہ نے کچھ عرصہ پاکستان کی ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت بھی کی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ رمیز راجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک ہو رہے ہوں، وہ اس سے قبل 2004 میں پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ لیکن اس بار 59 سالہ سابق ٹیسٹ کرکٹر کو چیئرمین پی سی بی کے اعزازی عہدے کے لیے کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ پہلے ان کا نام پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے ممبر کے لیے تجویز کیا جائے گا۔ جس کے بعد سابق جج جسٹس شیخ عظمت سعید کی زیرِ نگرانی الیکشن کے ذریعے ان کا باضابطہ انتخاب ہو گا۔
پیٹرن ان چیف وزیرِ اعظم کے نامزد کردہ نام کو عام طور پر ‘کامیاب’ ہی سمجھا جاتا ہے اور امکان ہے کہ رمیز راجہ کی نامزدگی کو بھی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ نئے چیئرمین کے انتخاب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان بورڈ کے معاملات دیکھیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے رمیز راجہ کی تقرری پر سابق کپتان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ بھی دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ "پی سی بی چیئرمین کا عہدہ کسی چیلنج سے کم نہیں۔ جہاں بہت کچھ نیا کرنے کی ضرورت ہے وہیں بہت کچھ جو پچھلے دور میں ہوا اسے ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔”
دوسری جانب معروف کرکٹ کمنٹیٹر مرزا اقبال بیگ کا کہنا تھا کہ رمیز راجہ کے آنے سے پاکستان کرکٹ میں بہتری آئے گی کیوں کہ وہ اس سسٹم کا حصہ رہ چکے ہیں جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مرزا اقبال بیگ کا کہنا تھا کہ رمیز راجہ کا متحرک ہونا، پاکستان کرکٹ کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ "اپنے تین سالہ دور میں احسان مانی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے جو ان سے وابستہ تھیں، سونے پر سہاگا یہ کہ وہ انگلینڈ سے وسیم خان کو لے آئے اور انہیں بھاری تنخواہ پر چیف ایگزیکٹو بنا دیا۔ بغیر یہ سوچے کہ وہ یہاں کے کرکٹ کلچر سے واقف نہیں۔ ان کے دور میں پاکستان کرکٹ بجائے بلندی پر جانے کے، تنزلی کی جانب گئی۔” اقبال بیگ نے مزید کہا کہ وہ 1988 سے لے کر اب تک مختلف پی سی بی چیئرمین دیکھ چکے ہیں، لیکن احسان مانی کے دور کو مایوس کن کہنا بے جا نہ ہو گا۔اُن کا کہنا تھا کہ "احسان مانی کی عمر 77 برس ہے، ان کے متحرک نہ ہونے کی وجہ سے گراس روٹ لیول پر کرکٹ پروان چڑھنے کے بجائے ختم ہو گئی، اگر وہ اتنے متحرک ہوتے جتنا کہ پی سی بی چیئرمین کو ہونا چاہیے تو معاملات ہی نہ بگڑتے۔”
بقول اقبال بیگ، ورلڈ کپ سے قبل رمیز راجہ کی انٹری سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، معاملات بہتری کی طرف جانے کی زیادہ امید ہے۔مرزا اقبال بیگ کا کہنا تھا کہ ‘رمیز راجہ نہ صرف ایک منجھے ہوئے کرکٹ کمنٹیٹر ہیں، بلکہ وہ اپنے زمانے کے مایہ ناز کرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ پنجاب یونی ورسٹی سے انہوں نے ایم بی اے کیا ہوا ہے، ان کے آنے سے بہتری کی امید نظرآئی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے پلان پر عمل درآمد کس طرح کراتے ہیں۔’ اقبال بیگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرکٹ چھوڑنے کے بعد رمیز راجہ کمنٹری کے شعبے سے وابستہ ہو گئے تھے اور انہوں نے دنیا بھر میں کمنٹری کی۔ بطور چیئرمین پی سی بی، ان کے پاس بہترین موقع ہے ان غلطیوں کو ٹھیک کرنے کا جس کی وہ نشان دہی کرتے آئے ہیں۔اقبال بیگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات میں رمیز راجہ نے جو روڈ میپ دیا ہو گا وہ اسے کیسے نافذ کرتے ہیں، یہ ان کا سب سے بڑا امتحان ہو گا۔

Back to top button