کیا سعودی ولی عہد ، عمران خان کو لینے پاکستان آ رہے ہیں؟

9 اور 10 ستمبر کو بھارتی دارلحکومت ، نئی دہلی، میں، انڈیا کے زیرصدارت، G20 کا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں سعودی عرب کے طاقتور اور جواں عمر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی شرکت کریں گے . خبروں کے مطابق وہ بھارت جاتے ہُوئے کچھ گھنٹوں کے لیے پاکستان میں بھی رُکیں گے ۔اب محمد بن سلمان کے چند گھنٹہ قیام کے لیے بھی ہم شدت سے منتظر ہیں ۔ ہمارے سوشل میڈیا پر مگر عیجب تبصرے اور پیش گوئیاں کی جارہی ہیں ۔ یہ پیشگوئیاں دراصل ہماری غیر سنجیدگی کا شاہکار ہیں ۔ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان دراصل عمران خان کو مستقل طور پر سعودی عرب بھجوانے کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ شائد یہ کہنا سچ ہی ہے کہ آج ہمارا سماج اور میڈیا، کسی کی محبت اور کسی کی نفرت میں، دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔ پاکستان میں یہ تقسیم روز بروز گہری ہوتی جارہی ہے جب کہ بھارت اپنے ہاں G20کے اجلاس منعقد کروا کر ترقی اور عالمی شہرت کے زینے پھلانگتا جارہا ہے ۔ عالمی سطح پر بھارت کا قد بڑھ رہا ہے اور ہمارا قدایک سوالیہ نشان بن چکا ہے. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی تنویر قیصر شاہد نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے ٹی وی چینلز ، اخبارات اور سوشل میڈیا میں اِس امر پر سنجیدہ مباحث ہوتے کہ شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان ایسے سعودی دوست ملک میں صرف چند گھنٹے کیوں رُکیں گے؟ باقاعدہ دَورہ کیوں نہیں؟بھارتی میڈیا نے تو پہلے ہی بے پر کی اُڑاتے ہُوئے کہہ دیا ہے کہ محمد بن سلمان چند گھنٹوں کے لیے بھی پاکستان نہیں رُکیں گے۔شہزادہ محمد بن سلمان کی کانفرنس میں شرکت سے سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے خلیجی امیر ممالک بھارت کے مزید قریب آ جائیں گے ۔ جی ٹونٹی کا یہ اجلاس اور ایم بی ایس کی پاکستان میں چند گھنٹوں کی آمد ایسے ایام میں ہو رہی ہے جب پاکستان میں گھر گھر بجلی کے بلوں نے قیامتیں برپا کررکھی ہیں۔ جب پاکستان میں ہر آن روپے کی گھٹتی اور ڈالر کی ہر لمحہ بڑھتی قیمت نے مملکتِ خداداد، عوام اور نگران حکومت کے اوسان خطا کر رکھے ہیں۔ جب پورے پاکستان میں سعودی عرب کی تحفے میں دی گئی قیمتی ترین گھڑی کی ’’بلیک مارکیٹ‘‘ میں فروخت کی داستانیں بازگشت بن کر سنائی دے رہی ہیں۔جب سعودی شاہی خاندان کی عطا کردہ گھڑی کی فروخت کے نتیجے میں ہمارے سابق وزیر اعظم اٹک جیل میں پہنچ گئے ہوں ۔ جب بے پناہ مہنگائی سے پاکستانی عوام کی چیخیں تا آسمان سنائی دے رہی ہیں۔ جب ٹی ٹی پی کے دہشت گرد آئے روز ہمارے جوانوں کو شہید اور زخمی کررہے ہیں۔ ایسے پریشان حال اور محتاج ملک کا باقاعدہ دَورہ شہزادہ محمد بن سلمان بھلا کیونکر کریں گے ؟ تنویر قیصر شاہد لکھتے ہیں کہ ابھی محمد بن سلمان کے پاکستان آمد بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہُوا ہے ہمیں مگر کسی نہ کسی سطح پر یہ احساس تکلیف دے رہا ہے کہ سعودی ولی عہد بھارت جاتے ہُوئے مبینہ طور پر کیوں چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام فرمائیں گے؟ ہم مگر اپنی اداؤں پر غور فرمانے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ عمران خان کے دَور میں پاک سعودی تعلقات کو دھچکا کیوں پہنچا اور کس نے پہنچایا؟ ہماری کج ادائیاں ہیں کہ ہم غیر ملکی دولتمندوں کے محتاج بھی ہیں۔ اُن کی امداد بھی ہمیں چاہیے مگر ہماری اکڑ نہیں جاتی۔ سعودی ولی عہد نے چیئرمین پی ٹی آئی پر اپنی محبتیں نچھاور کیں لیکن چیئرمین نے جواباً شہزادہ بارے کیا رویہ اختیار کیا؟ یہ کہانیاں چاروں جانب گردش میں ہیں۔ اِاور ان کو اب پورا پاکستان بھگت رہا ہے ۔ اگلے روز پاکستان کے جن سرمایہ داروں نے ہمارے دو بڑوں سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں، وہاں بھی یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ہماری بیوروکریسی بارے سخت شکایات ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ پھر بھی ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ محمد بن سلمان کیوں چند گھنٹوں کے لیے ہمارے ہاں قیام کریں گے؟

Back to top button