کیا سعودی ولی عہد شاہ سلمان کے برے دن شروع ہو گئے؟


امریکی صدر ٹرمپ کی صدارتی الیکشن میں شکست کے بعد اقتدار میں آنے والی جوبائیڈن حکومت نے پہپی مرتبہ اس الزام کی تصدیق کر دی یے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ہاتھ تھا اور انہوں نے ہی جمال کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ اس الزام کی تصدیق ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کی گئی ہے جسے سعودی وزارت خارجہ نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی قیادت کے خلاف ایک جارحانہ قدم قرار دیا ہے۔
لیکن یہ ایک حقیقیت ہے کہ امریکی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سعودی ولی عہد کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس وقت مذکورہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مقصد سعودی قیادت کو دباؤ میں لانا ہے اور یہ قدم مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ نئی امریکی انتظامیہ نے اس سلسلے میں پہلے ہی پالیسی سطح پر کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ حالیہ دنوں صدر جو بائیڈن نے یمن کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ کی حمایت ختم کر دی ہے اور سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بھی بند کر دی ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حکومت کی جانب سے منظرِ عام پر لائی جانے والی انٹیلیجنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے اس معاملے میں سعودی شہزادے کا کھلے عام نام لیا ہے جبکہ محمد بن سلمان اس الزام سے انکار کرتے آئے ہیں کہ انھوں نے جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ جس کے لیے جمال خاشقجی کام کرتے تھے، کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کی تحقیقات کی بنیاد وہ فون کالیں ہیں جو امریکہ میں سعودی سفیر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان نے قتل کے بعد کی تھیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امریکی انٹیلیجنس رپورٹ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی قیادت کے خلاف جارحانہ اور غلط قدم قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ایسی رپورٹ جاری کرنے اور اس میں پائے جانے والے غلط اور بلاجواز نتائج پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب سعودی سلطنت نے اس گھناؤنے جرم کی مذمت کی تھی اور اس کی قیادت نے یہ یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے تھے کہ مستقبل میں دوبارہ ایسا بدقسمت واقعہ نہ دہرایا جا سکے۔ یاد رہے کہ 2108 میں سی آئی اے کے حوالے سے یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ شہرادہ محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔ لیکن ان الزامات کو امریکہ عوامی سطح پر اس سے پہلے کبھی بھی منظر پر نہیں لایا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کی نسبت انسانی حقوق کے معاملے میں سعودی عرب کے حوالے سے سخت انداز ہے حالانکہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کا اہم اتحادی ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جو بائیڈن سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدے کو ختم کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں کیونکہ اس سے انسانی حقوق کو خطرات لاحق ہیں۔
واضح رہے کہ انسٹھ سالہ جمال خاشقجی ایک سعودی صحافی تھے۔ خاشقجی ماضی میں سعودی عرب کی حکومت کے مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے تھے لیکن بعد میں سعودی حکمران خاندان کی نظروں میں کھٹکنے لگے اور وہ ملک چھوڑ کر سنہ 2017 میں امریکہ چلے گئے۔ امریکہ میں انھوں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے محمد بن سلمان کی پالیسی پر تنقیدی کالم لکھنے شروع کر دیے۔ اپنے پہلے ہی کالم میں انھوں نے لکھا تھا کہ انھیں سعودی عرب میں گرفتاری کا خوف تھا کیونکہ محمد بن سلمان اپنے تمام مخالفین کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے آخری کالم میں یمن پر سعودی عرب کے حملے پر شدید تنقید کی تھی۔ جمال خاشقجی کو آخری مرتبہ دو اکتوبر سنہ کو 2018 ترکی کے شہر استنبول کے سعودی سفارت خانے میں جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ سعودی عرب کے حکام کے مطابق جمال خاشقجی پر قابو پانے کے لیے انھیں ایک انجیکشن لگایا گیا اور جسمانی کشمکش کے دوران انھیں انجیکشن کی ضرورت سے زیادہ مقدار لگ گئی جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ جس کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے کچھ مقامی مددگاروں کے حوالے کر دی گئی۔ ان کی لاش کا اس کے بعد سے کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ترکی کے خفیہ اداروں کی طرف سے جاری کردہ معلومات جن میں کچھ آڈیو مواد بھی شامل ہے، دل دہلانے دینے والی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔ دوسری جانب سعودی عرب میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اس قتل کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا لیکن 2019 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کیونکہ یہ قتل سعودی اہلکاروں کی غفلت سے ہوا ہے اس لیے وہ سعودی عرب کی حکومت کے ایک اہم ترین رکن ہونے کی حیثیت سے اس قتل کی ذمہ دار قبول کرتے ہیں۔
سعودی عرب کی ایک عدالت نے اس قتل کے جرم میں پانچ اہلکاروں کو موت کی سزا سنائی تھی لیکن گذشتہ سال ستمبر میں ان کی سزا میں کمی کر کے اس کو 20 سال قید میں بدل دیا گیا تھا۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کو شائع کرنا امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی سعودی عرب سے امریکہ کے تعلقات کو از سر نو ترتیب دینے کی پالیسی کا حصہ ہے اور وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے برخلاف سعودی عرب کے بارے میں زیادہ سخت رویہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس قتل کی تفتیشی رپورٹ کو عام کرنے کے قانونی تقاضوں کو سعودی عرب سے تعلقات بہتر رکھنے کی بنیاد پر رد کر دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر بائیڈن سعودی حکمران فرما روا پچاسی سالہ شاہ سلمان سے براہ راست بات کریں گے اور ان کے بیٹے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان سے بات نہیں کریں گے جو کہ عملاً اس وقت سعودی عرب کے حکمران ہیں۔ اس سے اگلے روز صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان سے بات کی جس سے واضح ہوگیا کہ بائیڈن انتظامیہ ولی عہد محمد بن سلمان سے ناراض ہے اور اب تمام معاملات ان کے والد کے ساتھ ہی طے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر بائیڈن نے یہ فون کال رپورٹ پڑھنے کے بعد کی تھی لیکن اس رابطے کے بعد ایسی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی تھیں کہ آیا اس رپورٹ سے متعلق کوئی بات ہوئی یا نہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک کرنے کے بعد امریکی انتظامیہ اب سعودی شاہی خاندان کے ساتھ پہلے سے بہتر انداز میں معاملات طے کرنے کے قابل ہوگی لیکن اس طرح ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے شدید مشکلات پیدا ہوں گے جو سعودی عرب کے حکمران بننے کے روز بروز اپنی طاقت اور اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ہر حربہ آزما رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button