کیا شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل باغی ہونے والے ہیں؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے حوالے سے اڑنے والی افواہوں میں تیزی آنے کے بعد اب یہ پتہ چلا ہے کہ انکی بنیادی وجہ نون لیگ کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے مختلف شہروں میں کرائے جانے والے سیمینارز ہیں جن کا مقصد پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ان سیمینارز کے انعقاد میں پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد، خواجہ محمد ہوتی، حاجی لشکری رئیسانی، اور اسد شماد وغیرہ بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کا موقف ہے کہ وہ کوئی نئی سیاسی جماعت نہیں بنا رہے۔

دوسری جانب اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کی افواہیں نون لیگ کے ناراض دھڑے سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کی وجہ سے اڑ رہی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں پارٹی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ اطلاع بھی آئی تھی کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عمران خان کے سابقہ ساتھی جہانگیر خان ترین اور سنٹرل پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر چوہدری محمد سرور مل کر ایک نئی جماعت بنا رہے ہیں۔ لیکن جہانگیر ترین اور چوہدری سرور دونوں نے اس افواہ کو سختی سے رد کر دیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں یہ افواہ اڑنا شروع ہوگئی کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل، پارٹی قائد نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو نون لیگ کا چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر بنائے جانے پر ناراض ہیں اور ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

لیکن شاہد خاقان عباسی نے وضاحت کی ہے کہ وہ نہ تو پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور نہ ہی کسی نئی جماعت کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے اڑائی جانے والی افواہیں واحیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو مہم چلائی جارہی ہے وہ بے بنیاد ہے۔ یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا مخالفت دھڑا قرار دیا جاتا ہے اور ڈار کی واپسی کے بعد یہ دونوں لیڈران بظاہر کارنر ہو چکے ہیں۔ وزارت خزانہ سے فراغت کے بعد مفتاح اسماعیل نے اسحاق ڈار پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں شاہد خاقان عباسی کی آشیرباد حاصل ہے۔ پچھلے دنوں مفتاح اسماعیل نے ایک انٹرویو میں یہ الزام عائد کر دیا کہ اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ نواز شریف کے سمدھی ہیں۔ جب نون لیگ کی جانب سے ردعمل آیا تو مفتاح اسماعیل نے ایک اور ٹویٹ کی اور لکھا کہ مجھے شاہد خاقان عباسی نے سمجھایا ہے کہ یہ ٹوئیٹ مناسب نہیں لہذا میں سے ڈیلیٹ کر رہا ہوں۔ اس کے چند روز بعد شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز نے ایک ٹویٹ میں بالواسطہ مفتاح اسماعیل کو ایک جوکر وزیر خزانہ قرار دے دیا تھا۔

ان واقعات کے بعد سے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں زوروں پر تھیں کہ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نون لیگ چھوڑنے والے ہیں۔ شاہد خاقان کے متعلق تو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ انہوں نے نون لیگ سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ لیکن اب انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے۔ انکا کہنا یے کہ نہ تو انہوں نے نون لیگ سے نہ استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی وہ کسی نئی جماعت کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کئی فون کالز آئی ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر کسی نے یہ بات پھیلا دی ہے کہ انہوں نے نون لیگ سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ سیمینارز کا انعقاد کر رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے لوگوں کو نئی سیاسی جماعت کے قیام کے حوالے سے قیاس آرائی کا موقع ملا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے بھی نون لیگ چھوڑنے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کراچی سے دو مرتبہ الیکشن ہارنے والا شخص کیسے کوئی ویاسی جماعت تشکیل دے سکتا ہے۔

سینئیر صحافی انصار عباسی کے بقول جب ان کی مفتاح اسماعیل سے بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ کائی نئی جماعت تشکیل دی جا رہی ہے کیونکہ میں اور میرے کچھ ہم خیال سیاست دان دوست اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں سیمینارز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ان سیمینارز کے حوالے سے کوئی مخفی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ یہ سیمینارز اُن مسائل کے حوالے سے منعقد کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کیلئے باعثِ تشویش بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ ملکی مسائل پر اتفاق رائے حاصل ہو سکے۔ مفتاح نے اس بارے میں ایک ٹوئیٹ بھی کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، فواد حسن فواد، خواجہ محمد ہوتی، حاجی لشکری رئیسانی، اسد شماد اور کئی دیگر لوگ بڑے ایشوز پر اتفاق رائے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہم لوگ پاکستان بھر میں سیمینارز کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ عام پاکستانیوں کے مسائل کو اجاگر کیا جا سکے اور ساتھ ہی ان کا حل بھی تلاش کیا جا سکے۔ 75؍ سال بعد دیکھیں تو ملک کے آدھے بچے اسکولوں میں نہیں جاتے، 40؍ فیصد کی نشونما پوری نہیں ہوتی، 18؍ فیصد بچے ضاuع ہو جاتے ہیں، 28؍ فیصد کم وزن ہیں، ہر سال 55؍ لاکھ نئے بچے پیدا ہوتے ہیں، 8؍ کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں، آبادی کا ایک بڑی حصہ زندگی بچانے کیلئے ضروری سرجری نہیں کر اسکتے، بیروزگاری عروج پر ہے، غیر موثر نظام کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ لہازا ہمارے رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ مل بیٹھیں اور مسائل کا حل تلاش کریں۔ ہمارا پہلا سیمینار ہفتہ 21؍ جنوری کو ہوگا جو اس اتفاق رائے کی جانب ایک قدم ہوگا۔ براہِ کرم اس کوشش کی حمایت کیجیے گا۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ ان باتوں کو پھیلا رہے ہیں جس کی شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے تردید کی ہے۔ دونوں کا معاشی مسائل سے نمٹنے کیلئے پارٹی قیادت کی رائے سے اختلاف ہے۔ شاہد عباسی نے تو کھل کر اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا ہے لیکن مفتاح نے کچھ ٹاک شوز میں تبصرے کیے جنہین شریف فیملی نے پسند نہیں کیا۔ مفتاح نے شکایت کی تھی کہ بحیثیت وزیر خزانہ انہیں شہباز شریف کابینہ سے نکلنے کیلئے پارٹی قیادت کی جانب سے شائستہ موقع فراہم نہیں کیا۔ وہ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں کے نقاد رہے ہیں اور ڈار کی جانب سے مالی معاملات سے نمٹنے کے طرز عمل پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں، وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے تو ڈار بھی ان پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے حوالے سے اڑنے والی افواہوں میں کتنا وزن ہے۔

Back to top button