اگلے چند روز میں کونسا شرمناک بم گرنے والا ہے؟

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کا بغیر کسی معقول وجہ کے دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا اور شہباز شریف حکومت کا تحریک انصاف کے 35 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے قبول کرنا اس تلخ حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے اہلِ اقتدار و اختیار کو عام آدمی کے مسائل کی نہ تو پروا ہے اور نہ ہی ادراک ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں اخلاقی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے جس کے کچھ شرمناک نمونے آئندہ چند دنوں میں آپ کے حواس پر بم بن کر گرنے والے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سیاسی لڑائی اتنی خطرناک ہو جائے گی کہ اس کے دو فریقوں میں سے صرف وہ بچے گا جو دوسرے کو مار گرائے گا۔یہ سیاست نہیں قبائلی دشمنی بن چکی ہے اور کسی صاحبِ دل نے ارشد شریف کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بے نقاب کر دیا تو کچھ لوگ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ایسے میں اگر یہ قوم واقعی اپنی حالت بدلنا چاہتی ہے تو ہر فرد پہلے خود کو بدلے، ایسا کرنے سے ہی آس پاس کے حالات بھی بدلیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی سورۃالرعد میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو اس حد تک بدلتا ہے جتنا کہ وہ قوم خود اپنی حالت کو بدلنا چاہتی ہے۔ ہم اگر اس آیت کی روشنی میں پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اس قوم کی حالت کو بدلنا چاہتے ہیں؟ جی ہاں ہمارے سیاسی قائدین دعوے تو بہت کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے حالات بدلنا چاہتے ہیں لیکن ان کے دعوئوں اور کردار و عمل میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔یہ اربابِ اقتدار و اختیار کون ہیں؟ آج کل تو تمام بڑی سیاسی جماعتیں ارباب اقتدار و اختیار میں شامل ہیں۔ صدر عارف علوی کا تعلق تحریک انصاف سے رہا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی سے ہیں جب کہ کابینہ میں ایک درجن سے زائد دیگر جماعتوں کی نمائندگی بھی ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہو چکیں لیکن آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ابھی تک تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور بلوچستان میں بھی بہت سی جماعتوں کی مخلوط حکومت ہے۔ اب تو جماعت اسلامی کو بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں بہت ساری نشستیں مل گئی ہیں لہٰذا تمام اہم سیاسی و مذہبی جماعتیں کسی نہ کسی جگہ اقتدار و اختیار میں حصہ دار ہیں۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ جب ساری ہی جماعتیں شامل اقتدار ہیں تو پھر پاکستان میں سیاسی استحکام کیوں نہیں؟ اس اہم سوال کا جواب آپ کو دو واقعات پر غورکرنے سے مل جائے گا۔ پہلا واقعہ تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ ہے۔دوسرا واقعہ سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے تحریک انصاف کے 35 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے قبول کرنا ہے۔ اس سے قبل سپیکر نے قومی اسمبلی کی گیارہ نشستوں پر استعفے قبول کئے تھے۔ زیادہ تر نشستوں پر عمران نے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور اکثر نشستوں پر حکمران اتحاد کو شکست سے دو چار کیا۔ اب 35 نشستوں پر استعفے قبول کئے گئے ہیں، اس مرتبہ حکمراں اتحاد ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے کترا گیا ہے کیوں کہ عمران دوبارہ مقابلے پر آگئے تو سبکی کا اندیشہ ہے۔ہمارے سیاسی قائدین نے اسمبلیوں اور ضمنی الیکشن کو بچوں کا کھیل سمجھ رکھا ہے۔ جب چاہا کوئی اسمبلی توڑ دی، جب چاہا کسی کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ضمنی الیکشن پر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے خرچ ہو جا ئیں گے۔ عمران اور شہباز ایک دوسرے کو سرپرائز دینے کے شوق میں قوم کے اربوں روپے ضائع کر رہے ہیں۔ عمران کا خیال ہے کہ دو صوبوں کی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد شہباز پر پورے ملک میں انتخابات کا دبائو بڑھے گا جسے بڑھانے کے لئے انہوں نے قومی اسمبلی میں واپس جانے کا اشارہ دیا۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ اس اشارے سے شہباز شریف گھبرا گئے، انہیں خدشہ ہوا کہ کہیں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہ لینا پڑ جائے تو انہوں نے سپیکر کے ذریعے تحریک انصاف کے 35 استعفے قبول کرا دیئے۔ اصولی طور پر سپیکر کو تحریک انصاف کے تمام ارکان قومی اسمبلی کے استعفے قبول کرلینے چاہئیں لیکن سپیکر نے یہ فیصلہ قانون کے تحت نہیں بلکہ سیاسی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ حکمتیں بینچز تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں واپسی کا خیرمقدم کریں گے لیکن انہیں تحریک انصاف کی نیت میں فتور نظر آیا تو انہوں نے بھی فتور سے بھرپور سرپرائز دے دیا، ایک دوسرے کو سرپرائز دینے کے شوقین سیاسی قائدین دراصل اپنی اپنی انا کی تسکین کا سامان کر رہے ہیں۔ پچھلے ایک سال سے پاکستان میں جو سیاسی تماشا لگا ہوا ہے اس نے اہم سیاسی جماعتوں کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا ثبوت کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی عدم دلچسپی ہے۔ کراچی میں ٹرن آئوٹ بہت کم تھا اور کئی صحافی ساتھیوں نے مشاہدہ کیا کہ نوجوانوں نے اس الیکشن میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ اس سے قبل عمران نے بھی اس غلط فہمی میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی تھی کہ وہ نوجوانوں میں بڑے مقبول ہیں۔ 26 نومبر کو وہ راولپنڈی پہنچے تو لانگ مارچ کے شرکاء کی کم تعداد دیکھ کر انہوں نے وفاقی دارالحکومت پر یلغار کا ارادہ ملتوی کر دیا اور دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کردیا۔اس اعلان پر عملدرآمد میں انہوں نے کئی ہفتے لگا دیئے اور ملک سیاسی بے یقینی کا شکار رہا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ سیاسی ہنگامہ آرائیوں اور افراتفری کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں امتحانات بار بار ملتوی ہوئے جس کی وجہ سے طلبا و طالبات کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوا۔ رہی سہی کسر مہنگائی نے نکال دی ہے۔ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کا پلان کسی کے پاس نہیں۔ عمران خان نے ساڑھے تین سال میں چار اور شہباز شریف نے نو ماہ میں دو وزرائے خزانہ آزمائے۔ سب ناکامی کی داستان کے کردار نکلے۔خان صاحب جلد از جلد انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔ وہ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے معیشت سنوارنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے مخالفین کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف شہباز شریف کی مخلوط حکومت قبل از وقت انتخابات سے ایسے بھاگ رہی ہے جیسے چوہا بلی کو دیکھ کر بھاگتا ہے۔ اس لیے صرف نو ماہ میں شیر کا چوہا بننا پاکستانی سیاست کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔
