کہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ سچ مچ نیوٹرل تو نہیں ہو گئی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ پاکستانی تجزیہ نگاروں کو ہائبرڈ نظام کے خالق جنرل باجوہ، فیض حمید اور ثاقب نثار جیسوں نے سہل پسند بنا دیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن کا ابھی اعلان بھی نہیں ہوا تھا اور انہیں اسکا رزلٹ معلوم تھا، لیکن اب یہ سہولت ’صارف‘ کو میسر نہیں ہے۔ ہر طرف شام کا اسرار پھیلا ہوا ہے، تجزیہ کاروں کو معلوم اور نامعلوم کی سرحد پر گمانوں کے لشکر نے گھیر رکھا ہے، لہذا آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے، وہ اس حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یوں لگتا ہے پاکستان میں بھی شام ہو گئی ہے۔ ہائیرڈ نظام ہمارے سامنے دن دیہاڑے قائم کیا گیا تھا، سارا کھیل اور کھلاڑی فلڈ لائٹ کی چندھیا دینے والی روشنی میں نہائے ہوئے تھے، باجوہ صاحب جو ڈرامہ کھیل رہے تھے وہ برہنہ تھا، ثاقب نثار کی عدالت میں جو حرکات ہو رہی تھیں وہ چھپ چھپا کر نہیں بلکہ سرِ عام ہو رہی تھیں، جاوید اقبال کی نیب، چوک میں کھڑے ہو کر وہ گُل کھلا رہی تھی جو خلوت میں بھی کھیلے جائیں تو معیوب سمجھے جائیں اور فیض حمید کے ٹوٹے ہوئے بندِ قبا اندھوں کو بھی نظر آ رہے تھا، یہ بینائی سوز منظر سب دیکھ رہے تھے، یعنی جب تک عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کا آفتابِ عشق نصف النہار پر تھا سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا، ایک نازنین تھا اور باقی سب ناز بردار، عمران خان کے سب سیاسی مخالفین جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیے گئے، جو صحافی حالتِ رکوع میں جانے پر آمادہ نہ ہوا اسے ’لفافی‘ قرار دیا گیا لیکن پھر یوں ہوا کہ خمارِ عشق ٹوٹنے لگا، سورج ڈھل گیا، شام کے سائے دراز ہونے لگے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ جب تک یہ عشق سر چڑھ کر بول رہا تھا ہم ایک ’معلوم‘ دنیا کے شہری تھے، کیونکہ ہمیں علم تھا عام انتخابات کا کیا نتیجہ آئے گا، کس مقدمے کا کیا فیصلہ ہو گا، کون سی سیاسی جماعت کس کے اشارے پر کس کو ووٹ دے گی، سب کچھ روزِ روشن کی طرح عیاں تھا، تجزیہ کاروں کی زندگی بہت آسان تھی،ایم کیو ایم ، باپ پارٹی اور مسلم لیگ ق کہاں کھڑی ہے؟ بس اسی سے پتا چل جاتا تھا ادارے کہاں کھڑے ہیں اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ لیکن اب صورت احوال کچھ یوں ہے کہ باپ پارٹی، ایم کیو ایم اور ق لیگ ایک دوسرے کی طرف پشت کئے کھڑے ہیں، ایسے میں کس کو سمجھ آ سکتی ہے کہ ’ادارہ‘ کہاں کھڑا ہے، اور پھر سب سے بڑھ کر، اگر چوہدری پرویز الٰہی کا رُخِ انور بنی گالا کی طرف ہو اور چوہدری شجاعت حسین کا روئے مبارک جاتی عمرا کی جانب تو آپ کو منظر کی کیا خاک سمجھ آئے گی، ناظرینِ سیاست کو بھی کچھ ایسا ہی مرحلہ درپیش ہے۔ شام کے دھندلکے میں کچھ سمجھ نہیں آتا یہ راستے میں رسی کا ٹکڑا پڑا ہے کہ سانپ دم سادھے لیٹا ہے۔ جس طرح پرویز الٰہی گورنر کے ہاتھوں ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد بحال ہوئے اور اسمبلی توڑ دی اس کی آپ کیا تشریح کریں گے؟ کس کو توقع تھی کہ پرویز الٰہی 186 ووٹ لے لیں گے؟ اور پھر اسمبلی بھی توڑ دیں گے؟
حماد غزنوی کے بقول قیاس یہ تھا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی فوری انتخابات نہیں چاہتا، اسٹیبلشمنٹ بھی ملکی معاشی صورت حال کے پیشِ نظر جلد انتخاب کی حامی نہیں ہے، تو پھر ہوا کیا؟ پرویز الٰہی، جنہوں نے ساری زندگی فوج کی انگلی پکڑ کر سیاست کی ہے، کیا انہوں نے آزادی کا اعلان کر دیا ہے؟ اور دوسری طرف شجاعت حسین کی ساری زندگی بھی ’عشقِ بُتاں‘ میں کٹی ہے، وہ کس کے مشورے پر آخری عمر میں ’مسلماں‘ ہو گئے ہیں؟ یہ منظر دیکھ کر تو ہمیں بھی کبھی کبھی یہ گمان گزرتا ہے کہ ’جناب‘ کہیں سچی مچی نیوٹرل تو نہیں ہو گئے؟ عمران خان کا سیاسی مستقبل بھی کچھ ایسے ہی جُھٹ پُٹے میں لپٹا ہوا ہے۔ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ ان کے تعلقات اپنے سابق عسکری عشاق سے دن کی روشنی میں ہی کشیدہ ہو گئے تھے، لیکن اس کے بعد شام ہو گئی اور سارا منظر پراسرار ہو گیا، اب کسی کو نہیں معلوم کہ عمران خان نااہل قرار پائیں گے، اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹا دیے جائیں گے، جیل جائیں گے یا دوبارہ وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔ چار پانچ سال پہلے ہمیں معلوم تھا کہ عدالتیں بنی گالا کی منی ٹریل پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں گی اور پھر ہو بہ ہو ایسا ہی ہوا، مگر اب کسی کو نہیں معلوم کہ کیا ہونا ہے؟ ہر طرف شام کا اسرار پھیلا ہوا ہے، ہمیں معلوم اور نامعلوم کی سرحد پر گمانوں کے لشکر نے گھیر رکھا ہے، لہذا آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
