کیا سیاستدان ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا پائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی مخالفین ملک کی بہتری کا سوچنے کی بجائے ایکدوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں اور یہی ہماری سیاست کا بدقسمت ترین باب ہے جو بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ایک جانب پاکستان تیزی سے ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف سیاست دان آپس کی کھینچا تانی میں مصروف ہیں۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کے ہاتھوں پاکستان کی تباہی کا مشاہدہ کرنا ہے تو موجودہ حالات اس کی بہترین مثال ہیں۔ انکے رویے دیکھیں، اور ان کی ترجیحات پر نظر دوڑائیں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اُن کے لیے نہ تو ملک اہم ہے اور نہ ہی عوام۔ اُن کی ساری سیاست اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے اردگرد گھومتی ہے۔ اُن کی سیاست کا مقصد صرف اور صرف اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنا یا اقتدار کا حصول ہے، چاہے اس کے لیے جو بھی کرنا پڑے وہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اپنے سیاسی مفادات کا ٹکراؤ اگر ملکی مفاد سے ہو تو یہ سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کو مقدم جانتے ہیں اور اُنہی کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں، اس کا چاہے ملک کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ چاہے پی ڈی ایم یا عمران خان کی تحریک انصاف دونوں کا اس میں برابر کا کردار ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی کہتے ہیں کہ عمران نے اپنی حکومت کے خاتمے سے پہلے معیشت کے ساتھ جو کھلواڑ کیا، وہ سب پر عیاں ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد عمران نے کیا کیا کوشش نہیں کی کہ معیشت کو جھنجھوڑا جائے تاکہ حکومت کو ناکام بنایا جاسکے، ان کی پوری کوشش رہی کہ آئی ایم ایف اور حکومت کی ڈیل نہ ہو پائے تاکہ شہباز شریف حکومت کا خاتمہ ہو اور اقتدار تحریک انصاف کو دوبارہ مل جائے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم نے جب عمران خان کی حکومت کو ختم کیا اور اقتدار سنبھالا تو بار بار یہ کہا گیا کہ وہ پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے کے لیے عمران حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور اُن کے وزیر مشیر کہتے رہے اور آج بھی کہتے ہیں کہ ریاست کو بچانے کے لیے اُنہوں نے اپنی سیاست کو قربان کیا۔ لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بھی کہنے کی باتیں تھیں، اگر واقعی ایسا ہے تو پھر معیشت بد سے بدتر کیوں ہو گئی؟ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیوں نہیں ہو رہا؟ معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے جو مشکل فیصلے کرنے ہیں وہ کیوں نہیں کیے جا رہے؟ عمران نے اگر پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے راستے پر چڑھا دیا تھا تو شہباز شریف حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے کنارے پر پہنچا دیا۔ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے جسے بچانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے اور اس کی بہتری کے لیے اتفاق رائے قائم کرنا چاہئے لیکن دونوں فریق ہی ایسے سیاسی تماشے میں مشغول ہیں جسے دیکھ کر سیاست سے نفرت ہو جاتی ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ پنجاب میں کئی مہینوں سے جاری تماشے نے ابھی نیا رُخ اختیار کیا ہی تھا تو وفاق میں بھی پی ڈی ایم کے سپیکر کی طرف سے تحریک انصاف کے 35 ارکانِ اسمبلی کے استعفے اچانک منظور کرلیے گئے جس پر پی ڈی ایم اور خصوصاً ن لیگ کے رہنما تحریک انصاف کو طعنہ دے رہے ہیں کہ سرپرائز کیسا لگا؟ گزشتہ ہفتے یہی طعنہ تحریک انصاف، ن لیگ اور پی ڈی ایم والوں کو تب دے رہی تھی جب پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے صوبائی اسمبلی سے اچانک اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اور پھر دوسرے دن گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیج دی۔ یہ دونوں سیاسی مخالف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر روز گھنٹوں سوچ بچار کرتے ہیں، یہ لوگ میٹنگز پر میٹنگز بلاتے ہیں، اپنے اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کرتے ہیں لیکن ان کے پاس ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے حل کے لیے وقت نہیں۔ یہ دونوں سیاسی مخالف محض اپنے سیاسی مفادات اور فوج کی خوشنودی کی خاطر ایک آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے لیے اور دوسرے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے اتفاق کر سکتے ہیں لیکن ملک کی ڈوبتی معیشت اور پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے آپس میں نہ تو مل بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس اہم ترین مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عمران کی سیاسی مفاد پرستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے جس پرویز الٰہی کو ماضی میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا، اُسے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنوا دیا اور تحریک انصاف کا صدر بنانے کی بھی آفر کر دی، لیکن موصوف پاکستانی معیشت کو بچانے کے لیے حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ یہی حال ن لیگ اور وزیراعظم شہباز شریف کا ہے جو ماضی میں آصف زرداری کی کرپشن پر کیا کچھ نہیں کہتے تھے اور یہ اعلان کرتے تھے کہ جب حکومت ملی تو زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور اُن کا پیٹ پھاڑ کر کرپشن کا پیسہ وصول کریں گے، آج وہی شہباز اور ن لیگ حکومت کے لیے وہی آصف زرداری نہ صرف بہت بڑا سہارا ہیں بلکہ زرداری صاحب کو تو لیگی اب اپنا بڑا تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانےکے لیے ن لیگ عمران خان سے بات چیت کرنے پر تیار نہیں۔ بس دونوں سیاسی مخالفین ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں اور یہی پاکستان کی سیاست کا بدقسمت ترین باب ہے جو کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
