کیا صدر مملکت عارف علوی کا جیل جانا طے ہو چکا؟

صدر مملکت کو پاکستان کے آئین کے تحت ایک خاص استثنا حاصل ہے۔ وہ کوئی بھی جرم کر دیں حتی کہ آئین بھی توڑ دیں تب بھی ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ صدر مملکت عارف علوی کو اندازہ ہے کہ ایوان صدر سے نکلنے کے بعد ان کو ملا صدارتی استثنا ختم ہونے کے بعد ان کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ ایک تقریب میں انھوں نے کہا بھی ہے کہ اگر وہ صدر نہ ہوتے تو اب تک جیل میں ہوتے۔ان کے جیل جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ صدارتی استثنا ہے۔ حقیقت ہے کہ جب عارف علوی صدر نہیں رہیں گے تو انھیں اپنے سب جرائم کا حساب دینا ہوگا، عین ممکن ہے کہ ان کے خلاف سارے کیس کھل جائیں گے ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ان کی اگلی منزل جیل ہی ہے۔ صرف ایوان صدارت نے انھیں بچایا ہوا ہے اسی لیے وہ آئینی امور میں رکاوٹیں ڈال کر ایک محفوظ راستے کے لیے بارگین کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ نئے صدر کا انتخاب ہونے کو ہے۔ اس کے لیے شیڈول جلد سامنے آنے والا ہے۔ ویسے تو صدر عارف علوی کی مدت صدارت کب کی ختم ہو چکی ہے۔ وہ چاہتے تو اپنی مدت ختم ہونے کے بعد آرام سے گھر جا سکتے تھے۔ ان کا ایک اصولی موقف یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میری مدت ختم ہو گئی ہے میں گھر جا رہا ہوں۔ میں اپنی مدت سے ایک دن زیادہ بھی صدر رہنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ لیکن انھوں نے ایسا کوئی اصولی موقف نہیں اپنایا۔بلکہ وہ منصب صدارت پر آج تک براجمان ہیں۔ وہ آج ایک توسیعی مدت کی بنیاد پر صدر ہیں۔ کیونکہ آئین میں لکھا ہے کہ جب تک نئے صدر کا انتخاب نہ ہو جائے تب تک پرانے صدر بطور صدر مملکت کام جاری رکھیں گے۔ اسی آئینی شق کے تحت نگران حکومتوں نے بھی کام جاری رکھا ہوا ہے۔ کیونکہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ جب تک نئی حکومت نہ آجائے تب تک پرانی حکومت کام جاری رکھے گی۔ اسی لیے اگر بروقت انتخابات نہ ہوں تو نگران حکومتیں کام جاری رکھتی ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے دوستوں کے لیے صدر کا کام جاری رکھنا آئینی ہے مگر نگران حکومتوں کا کام جاری رکھنا غیر آئینی ہے۔
مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اگر عارف علوی کے دور صدارت میں انھوں نے تحریک انصاف کی سیاسی سہولت کاری کے لیے ایک نہیں بار بار آئین توڑا۔ عدم اعتماد کے موقع پر اسمبلیاں توڑ کر آئین توڑا۔ اس کے علاوہ بھی کئی مواقع پر انھوں نے تحریک انصاف اور بانی تحریک انصاف کی سیاسی سہولت کاری کے لیے آئین توڑنے سے گریز نہیں کیا۔ جب تک تحریک انصاف کی حکومت رہی ایوان صدر میں ایک آرڈیننس فیکٹری بھی جاری رہی۔ انھیں روزانہ آرڈیننس جاری کرنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔و ہ ایک سیاسی صدر ہیں۔ان کی سیاسی ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے ایوان صدر میں بیٹھ کر جس حد تک ممکن تھا تحریک انصاف کی سیاست کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود تحریک انصاف اور بانی تحریک انصاف ان سے خوش نہیں ہیں۔
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہاب عرف علوی آج تحریک انصاف کے لیے قومی اجلاس نہیں بلا رہے ۔ لیکن کل جب وہ فارغ ہو کر گھر جائیں گے تو ان کے خلاف تحریک انصاف کے پاس ایک لمبی چارج شیٹ موجود ہوگی۔ لیکن شاید قومی اسمبلی کا اجلاس روک کر وہ اپنی چارج شیٹ میں کچھ کمی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ صدر مملکت جانے سے پہلے اپنے لیے محفوظ راستے کے لیے بار گین کر رہے ہیں۔ لیکن لگتا نہیں کہ انھیں یہ محفوظ راستہ مل جائے گا۔ ان کی جانب سے سمری روکے جانے کے بعد ان سے ڈیل کرنے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ وہ خاموشی سے گھر جا سکتے تھے۔ تحریک انصاف اور بانی تحریک انصاف ان سے ناراض ہیں، علیمہ خان ان کے خلاف آن ریکارڈ بیان دے چکی ہیں۔ جس میں بانی تحریک انصاف کی ان سے ناراضگی کا برملا اظہار کیا گیا تھا۔ پھر ان کے بیٹے کو ٹکٹ بھی نہیں دیا گیا تھا۔ اس لیے یہ سمری روک کر ان کی واپسی ممکن نہیں۔ شاید کھیل اور موقع دونوں ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
