کیا ماہرہ خان دوسرے شوہر کے لیے کوکنگ سیکھ رہی ہیں؟


کھانا پکانے والی عورت کو ہمارے معاشرے میں سگھڑ سمجھا جاتا ہے۔ عموماً مائیں ہی اپنی بیٹیوں کو مختلف پکوان تیار کرنے میں رہنمائی کرتی ہیں لیکن جدید دور میں یہ ذمہ داری بھی سوشل میڈیا نے اٹھا لی ہے۔ دیگر خواتین کی طرح خوبصورت اداکارہ ماہرہ خان نے بھی کوکنگ سیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنے ہونے والے دوسرے شوہر کو شادی کے بعد اپنے ہاتھوں سے کچھ تو پکا کر کھلانا چاہیں گی۔ یاد رہے کہ ماہرہ خان نے کچھ عرصہ قبل یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کو سلیم کریم نامی ایک بزنس مین سے محبت ہوچکی ہے اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے ہیں۔ لیکن شادی سے پہلے کوکنگ سیکھنے کے لیے ماہرہ نے کسی ماہر کک کی بجائے مختلف سلیبرٹیز سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ان کوایک شو کے دوران کھانا پکانا سکھائیں گے۔ ماہرہ خان یوٹیوب پر ایک شو میں اپنے کوکنگ سیکھنے کی ویڈیوز بھی شئیر کر رہی ہیں جنہیں ان کے مداحوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔
جس طرح مصور کے پاس محدود رنگ ہوتے ہیں اور موسیقار کے پاس محدود سُر، اسی طرح باورچی کے پاس بھی ذائقے کا محدود خزانہ ہوتا ہے، جسے وہ وسعت دینے کے جتن کرتا ہے اورکھانا پکانے کی تراکیب پر مشتمل کتابوں، معروف شیفوں کے کوکنگ شوز اور گھر کی خواتین سے اس فن میں یکتا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ خوبرو اداکارہ ماہرہ خان نے بھی ایسی ہی کوششں کے تحت یوٹیوب پر پیش کئے جانے والے ایک برانڈڈ کوکنگ شو کے ذریعے کھانا پکانے کا فن سیکھنے کی ٹھان لی ہے۔ اب تک کی کوشش میں وہ چولہا جلانا، کھانا پکتے ہوئے دیکھنا، چھری پکڑنا، سبزیوں کو کاٹنے کی کوشش کرنا، انڈا فرائی کرنا اور سویاں بنانا تو سیکھ چکی ہیں اب دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں ماہرہ اور کیا سیکھنے میں کامیاب ہو تی ہیں۔ ماہرہ یوٹیوب پر پیش کئے جانے والے کوکنگ شو میں مختلف سلیبریٹیز کو مدعو کرتی ہیں۔ بڑے بڑے ستارے ان کے باورچی خانے میں آتے ہیں تاکہ وہ ماہرہ کو دو چار کھانے کی اشیاء بنانا سکھا سکیں۔ اس شو کی پہلی قسط میں عدنان صدیقی آئے۔ ابتدا تو انہوں نے پانی ابالنے سے کی لیکن ساتھ ہی اس میں چینی ڈال کر اسے شیرا بنا دیا اور پھر اس شیرے میں سویاں ملا کر قوامی سویاں بنا ڈالیں۔ اُس قسط میں ماہرہ نے لیموں کاٹنا تھا، چنانچہ انہوں نے عدنان صدیقی سے پوچھا کہ لیموں کس رُخ سے کاٹا جاتا ہے، پھر بضد ہوگئیں کہ وہ لیموں تو کاٹیں گی ہی، لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی انگلیاں بھی کاٹیں گی۔ تاہم سیٹ پر موجود لوگوں نے شور مچا کر انہیں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا ورنہ لیموں کی جگہ ماہرہ کی انگلیاں بھی کٹ سکتی تھیں۔
اس شو کی دوسری قسط میں بلال اشرف کی تشریف آوری ہوئی۔ ماہرہ نے تازہ تازہ قوامی سویاں بنانا سیکھی تھیں۔ اس لیے بلال انہیں قورمہ، کڑاہی سکھانے کی بجائے سیدھا برگرز پر لے گئے۔ تیسری قسط میں ماہرہ کو کھانا پکانا سکھانے کا بیڑہ مومل شیخ نے اٹھایا۔ ان کے والد چونکہ اچھی چکن نوڈلز بناتے ہیں چنانچہ مومل نے ماہرہ کو وہی نوڈلز بنانا سکھایئں۔ چوتھی قسط تک ماہرہ خان انڈے تلنے کے قابل ہو چکی تھیں۔ ان انڈوں کو کھانے کی ذمہ داری ہمایوں سعید نے اٹھائی۔ اب دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں ان کے کچن میں آنے والی شوبز شخصیات انھیں کیا سکھانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا یے کہ اگلی قسطوں میں جو بھی ہو، ابھی تک جو ہو چکا ہے، وہ سراسر ظلم ہے، ہماری ہیروئن پر بھی اور ان کے خاندانی کچن پر بھی۔ ہم یہ ظلم ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ خدارا ہماری ہیروئن اور ان کے خاندانی کچن کو اس ظلم سے بچایا جائے۔بزرگ کہتے ہیں کھانا پکانے کےلیے چولہا تو جلانا ہی پڑتا ہے اور چولہا جلاتے ہوئے ماہرہ ایسے ڈرتی ہے جیسے چولہا نہ ہوا بم ہوگیا۔ ایک بار تو دیکھنے والوں کا دل بھی بیٹھ گیا تھا۔ چولہا خیر خیریت سے جل گیا تو کوگوں دل کو تسلی ہوئی۔دوسری بار چولہا جلنے کا قصہ بھی سن لیں۔ بلال اشرف نے ماہرہ کو چولہا جلانے کا کہا لیکن ماہرہ خان نے حیران پریشان ہوکر بلال سے کہا کہ ’ہمیں اسے جلانا ہے؟بلال نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہاں، تمہیں اسے جلانا ہی پڑے گا۔ جس پر ماہرہ نے کہا کہ اوہ، مجھے پہلے چولہا جلانا ہے؟
کچھ دیر تک یہ حیران و پریشان سوالات کا سلسلہ چلا جس کے بعد یا تو ہیروئن کو بات سمجھ آ گئی اور وہ چولہا جلانے پر تیار ہو ہی گئیں۔ اس کے بعد دنیا نے وہ منظر دیکھا جو بڑے بڑوں کی راتوں کی نیند چھین لے۔ ہیروئن نے برنر گھمایا اور پھر ڈرتے ڈرتے لائٹر اس کے قریب لائی، اگلے ہی لمحے چولہے میں آگ بھڑک اٹھی جسے دیکھ کر ماہرہ نے چھلانگ لگا دی اور آگ کو جلتا دیکھ کر کچھ زیادہ ہی حیرت زدہ رہ گئیں۔
چولہا جلانے پر سہمی ہوئی ماہرہ خان کے حیرت کا اظہار کرنے پر مختلف سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف عائشہ اقبال کا کہنا ہے کہ اپنے شو کے دوران ماہرہ خان بتا رہی تھیں کہ وہ ہر صبح اپنے بیٹے کا ناشتہ خود بناتی ہیں۔ ہم ان کے بیٹے کے اسکول والوں سے گزارش کرتے ہیں کہ کبھی کبھار بچے کو اسکول پہنچتے ہوئے دیر ہو جایا کرے تو اسے معاف کر دیا کریں۔ کیونکہ اس کی اماں خود اس کا ناشتہ بناتی ہے۔ ناشتہ بنانے کےلیے اسے چولہا جلانا پڑتا ہے اور چولہا جلانے سے پہلے وہ جتنی حیران پریشان ہوتی ہے، اس کا حال تو سب جانتے ہی ہیں۔
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ چولہا جلانے پر ہماری ہیروئن کو ایوارڈ سے نوازے۔ جتنے جتن سے اس نے چولہا جلایا تھا، ان کےلیے ایک ایوارڈ بھی کم ہے۔ خدارا، ہماری ہیروئن کی محنت کو ضائع نہ ہونے دیں۔ فی الفور اسے کوئی واہ واہ ایوارڈ یا ہمت ایوارڈ دیا جائے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ اتنا بھی نہیں ہو سکتا تو خدا کا واسطہ ہے اس بے چاری کو اس کے خاندانی کچن سے باہر نکال دیں کیونکہ اتنا ظلم نہ وہ سہہ سکتی ہے، نہ ہم سہہ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا خاندانی کچن سہہ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button